مسک کا دعویٰ ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے انہیں یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہوگا، لیکن اب ذاتی اور تجارتی فائدے کیلئے اسے منافع بخش ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 9:12 PM IST | Washington
مسک کا دعویٰ ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے انہیں یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہوگا، لیکن اب ذاتی اور تجارتی فائدے کیلئے اسے منافع بخش ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
امریکی ارب پتی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے چیئرمین ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ دائر کرکے اپنے نقصانات کے ازالے کیلئے ۷۹ ارب ڈالر سے ۱۳۴ ارب ڈالر بطور ہرجانہ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ٹیک کمپنیوں پر خود کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا اور ان کے اس ”ناجائز منافع“ میں حصہ مانگا ہے جو انہوں نے مسک کی فراہم کردہ ابتدائی فنڈنگ سے حاصل کیا۔ مسک کا دعویٰ ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے انہیں یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہوگا، لیکن اب ذاتی اور تجارتی فائدے کیلئے اسے منافع بخش ماڈل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مسک نے اوپن اے آئی میں ابتدائی طور پر ۳۸ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جو کمپنی کی ابتدائی فنڈنگ کا تقریباً ۶۰ فیصد تھا۔ ایلون مسک کے مطابق ۲۰۱۵ء میں ان کے تعاون کی بدولت اوپن اے آئی نے ۵ء۶۵ ارب ڈالر سے ۴ء۱۰۹ ارب ڈالر کے درمیان مالیت کا منافع کمایا جبکہ مائیکروسافٹ کو تقریباً ۳ء۱۳ ارب ڈالر سے ۱ء۲۵ ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔ مسک نے بعد ازاں ۲۰۱۸ء میں اوپن اے آئی کو چھوڑ دیا تھا اور اپنی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ (xAI) کی بنیاد ڈالی تھی جس نے آگے چل کر اپنا اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ (Grok) تیار کیا۔ مسک کا موقف ہے کہ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے انضمام اور تنظیمِ نو کے عمل سے گزر کر اپنے بنیادی مشن کی خلاف ورزی کی ہے، اس لئے وہ ان کے منافع میں حصہ پانے کے حقدار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی اے آئی اخراجات ۲۰۲۶ء میں۵ء۲؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق، “جس طرح کسی اسٹارٹ اپ کمپنی کا ابتدائی سرمایہ کار اپنی اصل سرمایہ کاری سے کئی گنا زیادہ منافع حاصل کر سکتا ہے، اسی طرح اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے جو ناجائز منافع کمایا ہے اور مسک اب جس کی واپسی کے حقدار ہیں، وہ مسک کے ابتدائی تعاون سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔“
معروف اے آئی چیٹ بوٹ، چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کو لانچ کرکے اے آئی کے شعبہ میں انقلاب لانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے اس مقدمے کو ”بے بنیاد“ اور ”ہراساں کرنے کی مہم“ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ مسک کی جانب سے ہرجانے کا یہ تخمینہ ان کے ماہر سی پال وازن نے پیش کیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسک تعزیری نقصانات اور دیگر جرمانے بھی طلب کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: صارفین نے خود کو ٹیسلا سے دور رکھا، ۲۰۲۵ء میں صرف ۲۲۵؍ گاڑیاں فروخت
جواب میں اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ نے جج سے التجا کی ہے کہ وہ ان معلومات کو محدود کریں جو ماہر پیش کر سکتا ہے۔ کمپنی نے دلیل دی کہ یہ تجزیہ ”من گھڑت“ اور ”ناقابلِ تصدیق“ ہے۔ ٹیک کمپنیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک حریف کمپنی کا مالک، ایک سابق ڈونر کی حیثیت سے غیر منافع بخش ادارے سے اتنی خطیر رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اوکلینڈ، کیلیفورنیا کے ایک جج نے اس ماہ حکم دیا ہے کہ جیوری اس کیس کی سماعت کرے گی، جس کا باقاعدہ آغاز اپریل میں متوقع ہے۔