• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

مہذب لکھنوی کا سفر اُن کے صاحبزادے ڈاکٹر مجرب لکھنوی کی زبانی

Updated: October 23, 2023, 7:00 AM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

مہذب اللغات کے خالق سید محمد میرزا مہذب لکھنوی بچپن میں اپنےپد ربزرگ اور حضرت سید عسکری میرزا مؤدب لکھنوی کے ہمراہ حیدر آباد جایا کرتے تھے ۔ وہاں کے تعلقداران ، ادباء اور شعراءسے ان کی ملاقاتیں بارہا ہو تی تھیں۔

Mohazzab Lakhnawi (right) and Mujarrab Lakhnawi. Photo: INN
مہذب لکھنوی (دائیں) اور مجرب لکھنوی۔ تصویر: آئی این این

مہذب اللغات کے خالق سید محمد میرزا مہذب لکھنوی بچپن میں اپنےپد ربزرگ اور حضرت سید عسکری میرزا مؤدب لکھنوی کے ہمراہ حیدر آباد جایا کرتے تھے ۔ وہاں کے تعلقداران ، ادباء اور شعراءسے ان کی ملاقاتیں بارہا ہو تی تھیں ۔ اس وقت کے رئیس شہید یار جنگ جو بادشاہ عثمان علی خاں کے مشیر کاروں میں سے تھے ، وہ مؤدب صاحب سے بہت محبت کرتے تھے ۔تقریباً ہر سال ایام عزاء کے موقع پر مؤدب صاحب اور مہذب صاحب کا حیدر آباد جانا ہوتاتھا ۔وہیں دوران قیام انہیں علم ہوا کہ عثمان علی خاں بادشاہ دکن، زبانِ اردو کی ایک مکمل لغت تیار کروانا چاہتے ہیں جس کیلئے مولوی عبد الحق صاحب کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ اس کمیٹی میں ڈاکٹر زور بھی شامل تھے ۔ چنانچہ مولوی عبد الحق صاحب کی نگرانی میں لغت تیار کی جانے لگی ۔ جب میرے والد (مہذب لکھنوی) کو یہ معلوم ہوا کہ حیدر آباد میں اردو کی ایک مکمل لغت تیار کی جارہی ہے اور لغت کے نمونے اخباروں میں چھپنے لگے ہیں ، بس یہیں سے انہیں لغت تیار کرنے کی دھن سوار ہوئی ۔لکھنؤ واپس آکر انہوں نے مستند شعراء کے دوانین یکجا کرنا شروع کر دیئے ۔ الف سے ی تک جتنے الفاظ ان شعروں میں ملتے تھے انہیں جمع کرنے لگے ۔ اپنی سسرال کے گھر سرائے معالی خاں امام باڑہ الماس (لکھنؤ) میں ایک دیوان اپنے ہمراہ لے جاتے اور رات کو لالٹین کی روشنی میں مطالعہ کرنے کے بعد زبان کو جمع کرتے تھے ۔ لیکن ان کا مستقلاً قیام امام باڑہ نیا محل منصور نگر (لکھنؤ) میں  تھا ۔ لغت کیلئے الفاظ جمع کرنے کا یہ سلسلہ تقریباً ۱۶؍ برس تک جاری رہا۔اس طرح انہوں نے الف سے ی تک اردو کے تمام الفاظ جمع کرلئے۔ پھر یہ خواہش ہوئی کہ ۱۰۰؍ صفحات پر مشتمل لغت کا ایک نمونہ قسط اول کے نام سے اہل نظر کے سامنے پیش کیا جائے۔ چنانچہ ان کی کد و کاوش کے نتیجہ میں مہذب اللغات قسط اول کی شکل میں بطور نمونہ منظر عام پر آگیا ۔ پھر ان کی کوشش سے چند ہی دنوں میں قسط دوم، سوئم چہارم اور قسط پنجم بھی مکمل ہو گئی اور باقاعدہ مجلد ہو کر جلد اول کے نام سے منظر پر آ گئی۔ 
مہذب اللغات کی بقیہ جلدوں کو ترتیب دینے کی راہ ذرا مشکل ہو رہی تھی چنانچہ والد صاحب نے اس وقت کے وزراء جو زبان و علم کے قدران تھے ان سے ملاقاتیں کی ۔اس مرحلے کو آسان کرنے میں سمپورنا نند جی ، جے پرکاش نارائن جی اور حافظ محمد ابراہیم (جو اس وقت ریاستی حکومت میں کرسیٔ وزارت پر تھے)نے اپنا بھرپور تعاون دیا ۔ اس طرح لغت کو ترتیب دینے میں آگے کی راہ کو مزید آسان کرنے کیلئے مہذب لکھنوی نے دہلی کا رُخ کیا ۔ وہاں انہوں  نے پنڈت جواہر لعل نہرو ، مولانا ابو الکلام آزاد اور ہمایوں کبیر سے ملاقاتیں کیں اور لغت کیلئے امداد کی درخواست کی۔ ان کے کام کی ستائش کرتے ہوئے ان سبھی حضرات نے مکمل تعاون دیا ۔ اس طرح جلد سوئم کو مہذب صاحب نے اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام معنون کیا ۔ ان کی کوششوں  کا ہی نتیجہ ہے آج ۱۴؍ جلدوں پر مشتمل مہذب اللغات اسکولوں ، لائبریریوں اور دینی درسگاہوں کی زینت بنی ہوئی ہے ۔ 
مہذب لکھنوی لغت نویسی کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر امور جیسے مشاعرو ں میں شرکت کرنا ، مجالس میں حصہ لینا ، دوست و احباب کو وقت دینا اور ساتھ ساتھ بچوں  کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری کو بھی بحسن و خوبی انجام دیتے تھے ۔ والد محترم نے ہم سب بہن بھائیوں کو اچھے اور برے کا فرق بچپن سے ہی بتانا شروع کر دیا تھا ۔ وہ ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر بھی نظر رکھتے اور اس کی اصلاح کرتے تھے۔ گویا وہ ہمارے ایک مشفق باپ ہی نہیں  بے تکلف دوست بھی تھے ۔ انہوں نے ہمیں برائی سے بچایا اور ہمیشہ نیکی کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ انہوں  نے اس دور کے اچھے اور برے لوگوں  کی شناخت بھی کرائی۔ 
ایک واقعہ کا ذکر بھی کرتا چلوں ۔یہ جاڑے کا زمانہ تھا تقریباً ساڑھے تین بجے تھے کسی نے دروازے پر دستک دی۔ والد صاحب نے کہا کہ دیکھو دروازے پر کون ہے ...بالائی منزل سے نیچے آکر دیکھا تو مسجد کی سیڑھیوں کے پاس مولانا عبد الماجد دریابادی ، عبد القوی صاحب کے ساتھ موجود تھے۔ فوراً والد صاحب کو مولانا کے آنے کی اطلاع دی اور انہیں مہمان خانہ میں لے جا کر بٹھایا۔ تھوڑی دیر میں والد صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ صاحب سلامت کے بعد مختلف موضوعات پر گفتگو ہونے لگی ۔ مولانا نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنے بھی آیا ہوں ۔ ایک محاورہ ہے کہ ’’ چیل نے انڈہ چھوڑ دیا ‘‘ اس کا کیا مطلب ہے۔ کیا اُڑتے ہوئے چیل انڈے کو ضائع کررہی ہے ؟ جیسا کہ عام طور سے لوگوں  کا خیال ہے ۔ اس پر والد مرحوم نے فرمایا : اس سے یہ مراد نہیں ، بلکہ اس سے شدت کی گرمی مراد ہے ۔ یعنی چیل سخت گرمی سے بچنے کیلئے اپنا محبوب انڈہ چھوڑ کر اُڑنے لگتی ہے اور انڈے سے علاحدہ ہو جاتی ہے ۔ مولانا صاحب کو یہ جواب پسند آیا ۔ گفتگو ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی تھی کہ والد صاحب نے فرمایا: اب چونکہ نماز مغرب کا وقت قریب ہے تو مناسب یہی ہے کہ مجلس برخاست کی جائے تاکہ نماز مغرب فضیلت کے وقت مل جائے ۔ بعد میں والد صاحب کے ساتھ لکھنؤ کےکچہری روڈ پر واقع مولانا کے دفتر ’صدق جدید ‘ ملاقات کیلئے جانا ہوا تو مو لانا صاحب نے فریا کہ مہذب صاحب نے میری نماز کی فضیلت کا خیال رکھا، میں ان کا شکر گزار ہوں  ۔ 
اسی طرح ایک روز دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر دیکھا تو جوش ملیح آبادی صاحب کسی کے ہمراہ موجود ہیں ۔ والد صاحب کو دوڑ کر بتایا ،وہ بھی تیز قدموں  سے زینے کی طرف آئے۔جوش صاحب سے اندر چلنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا: میں عجلت میں ہوں ،ایسا ہے کہ آپ سینٹرل ہوٹل آئیں (جوش ملیح آبادی پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کے بعد جب بھی لکھنؤ آتے تھے امین آباد میں واقع سینٹرل ہوٹل میں ان کا قیام ہوتا تھا)۔ شام کو وہاں کچھ لوگ آرہے ہیں اور آپ کی شرکت ضروری ہے ۔ چنانچہ شام کو والد صاحب سینٹرل ہوٹل پہنچے ۔وہاں  خورشید حسین صاحب ایڈوکیٹ ، جدید لکھنوی اور مرزا جعفر حسین موجود تھے ۔(کچھ نام اس وقت مجھے یاد نہیں آرہے ہیں ) جوش صاحب کو والد محترم نے اس وقت جتنی جلدیں شائع ہوئی تھیں پیش کیں ۔ انہوں نے ان کے کام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ تم نے اکیلے دم پر جتنا بڑا بیڑا اٹھایا ہے یہ تمہاری ہمت ہے اور مجھے یقین ہے یہ جلد از جلد پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا ۔ 
انتقال سے چند روز قبل والد صاحب نے ہم سب کو ایک جگہ جمع کیا اور وصیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زینبیہ ٹکیت رائے تالاب لکھنؤ میں اپنے باپ کے پہلو میں  دفن کرنا ۔ یہ میری دلی خواہش ہے۔ میرے انتقال پر لائوڈ اسپیکر سے اعلان کرا دینا تاکہ میرے احباب ، اعزاء اور ملنے والوں کو بروقت خبر ہو جائے۔موت برحق ہے ۔موت کا سامنا ہر جاندار کو کرنا ہے لہٰذا میرے مرنے پر صبر کرنا ۔ ۷۹؍ سالہ میری زندگی ایک خواب پریشاں تھی جس کی تعبیر اب ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے میرؔ کا ایک مصرع بھی پڑھا :اکثر ہمارے ساتھ کے احباب مر گئے ...دوسرا شعر یوں  پڑھا کہ 
دمِ واپسی بر سرِ راہ ہے 
عزیزو! اب اللہ ہی اللہ ہے 
اس طرح ۴؍ نومبر ۱۹۸۵ءبمطابق ۲۰؍ صفر المظفرچہلم کا دن گزار کر شب میں ۸؍ بج کر ۴۵؍ منٹ پر اپنا آخری شعر ہم سب کو سنا کر دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ وہ شعر یہ تھا :
کر دیا چلتی زباں کو آخری ہچکی نے بند 
ختم میری زندگی بھر کی کہانی ہو گئی 
باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانا فطری رنج و غم ہے لیکن اسی سال یعنی ۱۹۸۵ء میں  یکم جنوری کووالدہ نے بھی ساتھ چھوڑا اور ۴؍ نومبر کو والد صاحب نے دنیا کو خیرباد کہا تو اس پورے غم و الم سے متاثر ہو کر ایک نظم ’والدین‘ عنوان سے میں  نے کہی تھی تھی جس کا ایک شعر پیش قارئین ہے :
کیسا آیا سن ۸۵ءچھوڑ دیا ماں باپ نے ساتھ 
یہ دنیا ہے ، اس دنیا میں ایسا روز ہی ہوتا ہے 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK