مصنوعی ذہانت کا شعبہ طلبہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل ہونے کا اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی معیار بلند کرتا ہے بلکہ طلبہ کو مستقبل کی صنعتوں کے مطابق عملی مہارتیں بھی فراہم کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 2:49 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
مصنوعی ذہانت کا شعبہ طلبہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل ہونے کا اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی معیار بلند کرتا ہے بلکہ طلبہ کو مستقبل کی صنعتوں کے مطابق عملی مہارتیں بھی فراہم کرتا ہے۔
تعارف
اس کور س کا نام بی ٹیک اِن کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ( اے آئی) ہے جو ۴؍ سالہ انڈر گریجویٹ کورس ہے۔ یہ کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی و جدید تصورات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں ڈیٹا، الگورتھمز اور مشین لرننگ کو سمجھایا جاتا ہے۔ یہ کورس جدید دور کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ ہندوستان میں اس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کورس کے ذریعے طلبہ حقیقی دنیا کے مسائل کو سافٹ ویئر اور اے آئی سسٹمز کے ذریعے حل کرتے ہیں۔
کیوں کریں؟
یہ کورس اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ مستقبل کی ٹیکنالوجی جیسے اے آئی، مشین لرننگاور ڈیٹا سائنس میں مہارت حاصل کرسکیں۔ اس سے اعلیٰ تنخواہ والی ملازمتوں کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے طلبہ جدید سافٹ ویئر اور اسمارٹ سسٹمز بنانے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ یہ کورس انہیں انڈسٹری کے تقاضوں کے مطابق عملی مہارت فراہم کرتا ہے۔ اس سے وہ بین الاقوامی کمپنیوں میں کام کرنے کے قابلبن جاتے ہیں۔
کیا آپ میں یہ صلاحیتیں ہیں؟
یہ کورس ان طلبہ کیلئے بہترین ہے جنہیں کمپیوٹر، ریاضی اور مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی ہو۔ جو طلبہ ٹیکنالوجی اور پروگرامنگ سیکھنا چاہتے ہیں وہ اس کیلئے موزوں ہیں۔ تخلیقی سوچ رکھنے والے طلبہ بھی اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی میں کریئر بنانا چاہتے ہیں۔ جو طلبہ نئے آئیڈیاز کو ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس میدان میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
اہلیت
عام طور پر۱۲؍ویں جماعت سائنس اسٹریم ( پی سی ایم ) میں پاس ہونا ضروری ہے۔ کئی ادارے داخلہ امتحان کے ذریعے داخلہ دیتے ہیں جیسےجے ای ای وغیرہ۔ کم از کم فیصد ادارے کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
کیا سیکھیں گے
طلبہ پروگرامنگ لینگویجز جیسے پائتھون، جاوا اور سی پلس پلس سیکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ اور ڈیٹا اینالیسس کے اصول بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ الگورتھم اور ڈیٹا اسٹرکچر کی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔
کریئر کے مواقع
اس کورس کے بعد طلبہ سافٹ ویئر انجینئر، ڈیٹا سائنٹسٹ اور اے آئی انجینئر بن سکتے ہیں۔ مختلف آئی ٹی کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ریسرچ اور اسٹارٹ اپس میں بھی کام کیاجا سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم جیسے ایم ٹیک یا ایم ایس کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ فری لانسنگ اور ریموٹ جابز کے ذریعے عالمی سطح پر کام کر سکتے ہیں۔ اے آئی اور ڈیٹا بیسڈ انڈسٹریز میں ان کی مانگ مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔
بہترین کالجز
ہندوستان میں اس کور س کے بہترین کالجوں میں آئی آئی ٹی دہلی، آئی آئی ٹی بامبے اور آئی آئی ٹی مدراس شامل ہیں جو اعلیٰ معیار کی تعلیم اور تحقیق کیلئے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی )ٹرچی اور این آئی ٹی ورنگل بھی اس شعبے میں مضبوط ادارے مانے جاتے ہیں۔ کئی پرائیویٹ یونیورسٹیاں جیسے وی آئی ٹی ویلوور اور ایس آر ایم یونیورسٹی بھی جدید اے آئی پروگرام پیش کرتی ہیں۔ یہ تمام ادارے معیاری تعلیم کیلئے مشہور ہیں۔
اس فیلڈ کی قابل ذکر شخصیات
اس کے متعلق پڑھ کر اور ان سے سیکھ کر بھی آپ تحریک حاصل کرسکتے ہیں۔ اس فیلڈ کی قابل ذکر شخصیات میں آنند رگھوناتھن(Anand Raghunathan)، رمن بھاسکرن(Raman Bhaskaran)، کرشنابھرت (Krishna Bharat)، پشمیت کوہلی(Pushmeet Kohli)، جیف ڈین (Jeff Dean) اورڈیوڈ سیلور(David Silver) وغیرہ جیسے ماہرین اور سائنسداں شامل ہیں۔