Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرشدآباد میں زیرتعمیر مسجدکا کیا ہوگا؟

Updated: May 15, 2026, 1:48 PM IST | shamim Tariq | mumbai

اب جبکہ ممتابنرجی الیکشن ہار چکی ہیں اور شوبھیندو ادھیکاری کی وزارت ِ اعلیٰ کے عہدے کے لئے تاجپوشی کی جاچکی ہے اور ہمایوں کبیر نے بی جے پی کو جیت کی مبارکباد بھی دے دی ہے تو ایک سوال سب کے ذہن میں گونج رہا ہے کہ مرشدآباد میں جو مسجد بن رہی تھی اس کا کیا حشر ہوگا ؟

INN
آئی این این
 ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء صرف مسلمانوں  کے لئے نہیں ، ہندوستان کی تہذیبی روایت پر یقین رکھنے والوں  کے لئےافسوس کا دن تھا جب اجودھیا میں  پانچ، ساڑھے پانچ سو سال پہلے بنائی گئی مسجد توڑی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے جب اس مسجد کے بدلے اجودھیا کے قریب پانچ ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ سنایا اور حکمراں  جماعت کے آنکھوں  کے تاروں  نے تقدس مآب قسم کے مسلمانوں  کو جمع کرنے کی کوشش کی تو حیرت تو ہوئی مگر انصاف پسندوں  کا اجتماعی ضمیر زندہ رہا اور وہ بولے کچھ نہیں  ، البتہ جب مرشدآباد میں  ہمایوں  کبیر نے ایک بابری مسجد بنانے کا اعلان کیا تو ایک بار پھر حیرت و تجسس کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اب جبکہ ممتابنرجی الیکشن ہار چکی ہیں  اور شوبھیندو ادھیکاری کی وزارت ِ اعلیٰ کے عہدے کے لئے تاجپوشی کی جاچکی ہے اور ہمایوں  کبیر نے بی جے پی کو جیت کی مبارکباد بھی دے دی  ہے تو ایک سوال سب کے ذہن میں  گونج رہا ہے کہ مرشدآباد میں  جو مسجد بن رہی تھی اس کا کیا حشر ہوگا ؟ سادھوسنت اور حکمراں  بی جے پی کے کئی ذمہ داران کہہ چکے ہیں  کہ وہ مسجد بننے نہیں  دیں  گے۔میں  اپنا مؤقف بھی بیان کردوں  کہ ہندوستان میں  نماز پڑھنے کی اجازت ہے تو پرانی مسجدیں  بھی رہیں  گی اور نئی مسجدوں   کی بھی تعمیر ہوگی مگر ان مسجدوں  کے ساتھ ’’بابری‘‘ کا لاحقہ یا سابقہ نہیں  ہوگا۔ اب تو یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ ہمایوں  کبیر جو کبھی بی جے پی میں  رہ چکے ہیں ، بی جے پی ہی کے کہنے پر مرشدآباد میں  بابری مسجد بنا رہے تھے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی کی زندگی کی یہ سب بڑی غلطی تھی کہ وہ ہمایوں  کبیر کی پارٹی کے اتحادی بنے مگر پھر غائب ہوگئے البتہ اکثریتی ووٹروں  میں  ردعمل جگانے میں  کامیاب رہے۔ کئی مسلم اکثریتی علاقوں  میں  بھی ترنمول کانگریس کے امیدوار ہار گئے۔
بہرحال، اب شوبھیندو ادھیکاری اور بی جے پی کا امتحان شروع ہوگیا ہے کہ وہ کیا کرتی ہے۔ ایک عام مسلمان کے لئے تو مسجد قیامت تک کے لئے مسجد ہے اور تحت الثریٰ تا فلک مسجد ہے ۔ سپریم کورٹ چاہتا تو فیصلہ سنا سکتا تھا کہ مسجد اور مندر وہیں   رہیں  گے  اور عالیشان مسجد و مندر وہیں  تعمیر ہوگا مگر سابق چیف جسٹس آف انڈیا ، جن کی قیادت میں  فیصلہ سنایا گیا کو شاید کچھ ناگوار دن بھی دیکھنا تھا،اس لئے انہوں  نے وہ فیصلہ سنایا جس کے سبب راجیہ سبھا میں  جاتے ہوئے انہیں  ’شرم شرم‘ کے نعروں  کو سننا پڑا۔ ہمیں  ماننا پڑے گا  کہ ۶؍دسمبر کو اجودھیا میں  جو ہوا یا جسٹس گوگوئی کے راجیہ سبھا میں  جاتے ہوئے جس قسم کے نعرے لگے وہ ہندوستان میں  ہی لگ سکتے تھے۔ سپریم کورٹ نے جو بھی فیصلہ سنایا مگر یہ تو واضح ہوگیا کہ بشمول بابری کوئی بھی مسجد مندر توڑ کر نہیں  بنائی گئی ہے۔ جس ایڈوکیٹ ڈاکٹر دھون نے سپریم کورٹ میں  مسلمانوں  کا مؤقف رکھا وہ بھی بہت خوب تھا البتہ یہ طے تھا کہ حکومت بھی چاہے تو اجودھیا میں  مسجد نہیں  بنواسکتی، اس نے بھی ’’مندر وہیں  بنائیں  گے‘‘ کا نعرہ لگوایا تھا۔ اسی  نے مسجد کو ’گربھ گرہ‘ سے بلکہ اجودھیا سے باہر  بنانے کی بات بھی کہلوائی تھی اس لئے وہ چاہتی تھی کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا اس کے علاوہ کسی فیصلے سے اپنوں  کو مطمئن نہیں  کرسکتی۔ 
وہی ہوا مگر جب اس نے ہمایوں  کبیر کو مسجد بنانے کے لئے آگے بڑھایا تو اپنے ہی فیصلے میں  الجھ گئی۔ اب اگر مسجد جو مرشدآباد میں  بن رہی ہے، نہیں  توڑی جاتی تو وہ لوگ ناراض ہوں  گے جنہوں  نے ممتابنرجی اور اسٹالن کو تو ہرایا مگر ہمایوں  کبیر کو دونوں  حلقوں  سے کامیابی دلائی ، اور اگر مسجد توڑی جاتی ہے تو مسجد بنانے والوں  میں  غلط پیغام جائے گا کہ الیکشن سے پہلے کہتے ہیں  کہ مسجد بناؤ اور الیکشن جیتنے  کے بعد مسجد تڑوا دیتے ہیں ۔
جب سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہوا اس سے پہلے اگرچہ فیصلہ نہیں  آیا تھا مگر کانگریس اور تیسرے محاذ کی حکومتیں  تشکیل پا چکی تھیں ۔ وہ حکومتیں  چاہتیں  تو فیصلہ نہ آنے کے باوجود بہت کچھ کرسکتی تھیں  مگر سب نے سیاست کی۔ بی جے پی نے اس بار الیکشن جیت لیا ، شاید اس لئے کہ مسلمان یقین نہیں   دلاسکے کہ وہ دراندازی کے حق میں  نہیں  ہیں  اور یہ بھی نہیں  چاہتے کہ مویشیوں  کی اسمگلنگ ہو۔ تقسیم ہند ہوئی مگر اس کی مکمل ذمہ د اری مسلمانوں  پر نہیں  ہے، وہ اکھنڈ بھارت کے بھی مخالف نہیں  ہیں  ، انہیں  شکایت ہے تو یہ کہ اکھنڈ بھارت کی بات صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کو نظر میں  رکھ کر کی جاتی ہے جبکہ اکھنڈ بھارت تب بنے گا جب پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، برما (میانمار) ، افغانستان وغیرہ سبھی ممالک ، جو کبھی ہندوستان کا حصہ تھے، ایک ساتھ آئیں ۔ شوبھیندو کے قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کئے جانے کے بعد وزیر داخلہ امیت شاہ نے بیان دیا کہ اب مویشیوں  کی اسمگلنگ اور دراندازی نہیں  کی جاسکے گی مگر اس بات سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ ممتا حکومت میں  یہ سب ہوتا تھا۔
 
 
مسلمانوں  سے بھی ایک بات کہنا ضروری ہے کہ ان میں  لڑنے لڑانے اور امیدوار کی مدد کرنے والے تو بہت ہیں  مگر سوچنے سمجھنے والے نہیں  ہیں ۔ بنگال میں  بھی یہی ہوا۔ مسلم اکثریتی حلقوں  سے کئی کئی مسلم امیدوار کھڑے ہوگئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ سب ہارے، جیتا بی جے پی کا امیدوار۔ ہمایوں  کبیر جیسوں  کو جِتانے اور ممتا و اسٹالن کو ہرانے سے تو بہتر ہے کہ الیکشن ہی نہ لڑا جائے۔ مسلمانوں  کے اس طرز عمل نے ان کے بھرم کو توڑ دیا ہے کہ وہ تقریباً ساڑھے تین سو سیٹوں  پر فیصلہ کن تعداد میں  ہیں ۔ منڈل کے جواب میں  کمنڈل سامنے لایا گیا تھا اور پھر منڈل کی پارٹیاں  اور قائدین ٹوٹ ٹوٹ کر اس میں  گرتے گئے۔ بنگال میں  بی جے پی کو اپنے پاؤں  پر کھڑا ہونا ممتا نے سکھایا تھا مگر پھر بی جے پی ممتا کو ہڑپ کر گئی۔ کانگریس کو اپنے وزیراعلیٰ اور امیدواروں  کا فیصلہ کرنے میں  دشواری ہوتی ہے مگر اکڑ وہی ہے کہ ’’اکیلی چلوں  گی۔‘‘ چلے، ایک وقت آئے گا کہ عوام خود جواب دیں  گے۔ بنگال میں  اسدالدین کے امیدواروں  کو، ایک کے علاوہ ، ہزار ہزار ووٹ ملے ہیں  مگر ان کے امیدواروں نے ماحول کو فرقہ وارانہ رخ دینے میں  اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK