Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک وزیر اعلیٰ کا نام جو ۱۰؍ دن میں طے ہوا

Updated: May 15, 2026, 1:57 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

۳؍ مئی سے ۱۳؍ مئی تک کیرالا کے وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہ کرپانا، جبکہ دیگر چار ریاستوں میں حلف برداری بھی ہوچکی ہے، کانگریس کی کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی۔

INN
آئی این این
۳؍ مئی سے ۱۳؍ مئی تک کیرالا کے وزیر اعلیٰ کا انتخاب نہ کرپانا، جبکہ دیگر چار ریاستوں   میں   حلف برداری بھی ہوچکی ہے، کانگریس کی کمزوری بھی ہے اور طاقت بھی۔ کمزوری اس لئے کہ اب وہ زمانہ نہیں   رہ گیا ہے جب پارٹی میں   اعلیٰ کمان کا کہا حرف آخر ہوا کرتا تھا۔ اب اعلیٰ کمان کو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے کیونکہ حالات بدل چکے ہیں   اور آپریشن لوٹس کا کوئی بھروسہ نہیں  ۔ کانگریس چونکہ اس آپریشن کے صدمے جھیل چکی ہے اسلئے پھونک پھونک کر قدم رکھنا اس کی مجبوری ہے۔ 
۳؍ مئی سے ۱۳؍ مئی تک وزیر اعلیٰ کا اعلان نہ کرپانا طاقت اس لئے ہے کہ اس سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ پارٹی جمہوری قدروں   کی پامالی کے دور میں   بھی اِن قدروں   پر یقین رکھتی ہے، یہاں   ’’چٹھی‘‘ نہیں   کھولی گئی بلکہ جمہوری طرز اپنایا جاتا ہے۔ اس کیلئے کیرالا میں   عوام کا رجحان، نومنتخب اراکین اسمبلی کی پسند اور یو ڈی ایف کے اتحادیوں   کا جھکاؤ سمجھنے کی کوشش کی گئی۔ اس کیلئے پارٹی کے دو سینئر لیڈروں   اجے ماکن اور مکل واسنک کو کیرالا روانہ کیا گیا تھا۔ ان کی جانب سے ملنے والی تفصیل پر پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی نے بدھ کی رات کم و بیش پینتالیس منٹ تبادلۂ خیال کیا جس کے بعد وی ڈی ستیشن کے نام کااعلان کیا گیا۔
اس میں   شک نہیں   کہ کیرالا ان معنوں   میں   محفوظ ریاست ہے کہ یہاں   دیگر ریاستوں   بالخصوص مدھیہ پردیش کی طرح آپریشن لوٹس کامیاب نہیں   ہوسکتا مگر مثل مشہور ہے کہ دودھ کا جلا چھانچھ بھی پھونک پھونک پر پیتا ہے اس لئے کانگریس نے بھلے ہی تاخیر کی مگر ایک طریقۂ عمل سے گزرنے اور سنجیدہ غوروخوض کے بعد جو فیصلہ کیا اُس سے بہتر نتائج کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ تینوں   طبقات کی جانب سے وی ڈی ستیشن ہی کے حق میں   رائے موصول ہوئی تھی۔ عوام کا رجحان صاف جھلک رہا تھا جن کے متعدد حلقوں   نے مبینہ طور پر یہ واضح کردیا تھا کہ اگر ستیشن کے علاوہ کسی نام پر فیصلہ ہوا تو ایسی یکطرفہ حمایت، جس نے صرف کانگریس کو نصف کے قریب سیٹیں   دلائیں   (۱۴۰؍ میں   سے ۶۳)، آئندہ کیلئے مشکوک ہوجائیگی۔ 
نو منتخب اراکین اسمبلی میں   دراڑیں   تھیں   اور کے سی وینوگوپال کے نام کی گونج سنائی دے رہی تھی مگر اتفاق رائے مفقود تھا۔ بہتوں   کی رائے ستیشن کے حق میں   بھی تھی۔ ان دو طبقات کے مقابلے میں   زیادہ وزن اتحادی جماعتوں   کا تھا جن میں   دیگر تو چھوٹی پارٹیاں   ہیں   (مثلاً کیرالا کانگریس ۸؍ اور ریوالیوشنری سوشلسٹ پارٹی ۳) مگر سب سے زیادہ سیٹیں   (۲۲)  جیتنے والی مسلم لیگ کا پورا پورا جھکاؤ ستیشن کی طرف تھا۔ اس کا کہنا تھا اور وہ بہت ٹھوس رائے ہے کہ موقع اُسی لیڈر کو ملنا چاہئے جس نے گزشتہ پانچ سال کے دوران بحیثیت اپوزیشن لیڈر ایل ڈی ایف کی حکومت کا قافیہ تنگ رکھا اور اپوزیشن کو سبقت دلائی۔ وہ ستیشن ہی تھے۔ 
ایک بات اور ہے۔ کیرالا میں   کے سی وینوگوپال کو دہلی کا آدمی سمجھا جاتا ہے جس کی پکڑ زمین پر نہیں   ہے۔ پھر اُن کا تجربہ اور مشاقی حکمت عملی وضع کرنے سے متعلق ہے نیز اُن کی شبیہ عوامی لیڈر کی نہیں   ہے۔ اسی لئے، راہل گاندھی کے بہت قریب ہونے کے باوجود قرعہ ٔفال وینوگوپال کے نام نہیں   نکلا۔ ان کے مقابلے میں   وی ڈی ستیشن کی پکڑ زمین پر مضبوط ہے، وہ خالص کیرالا والے ہیں   اور سب سے بڑی اتحادی ’مسلم لیگ‘ کی پہلی پسند ہیں  ۔ اُن کی وجہ سے اتحاد بھی مستحکم رہے گا۔ 
kerala Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK