Inquilab Logo

’’سیفٹی مینجمنٹ آج ہر انڈسٹری کی ضرورت ہے،یہ ایک بہترین شعبہ ہے ‘‘

Updated: May 18, 2024, 1:09 PM IST | Afzal Usmani | Mumbai

محمد مجیب احمد کا تعلق بہار سے ہے۔ سیفٹی مینجمنٹ میں۱۱؍ سال کا تجربہ رکھتے ہیں، متعدد کمپنیوں میں کام کرچکے ہیں۔ فی الحال وہ سلواسا کی ایک اہم ٹیکسٹائل کمپنی میں سیفٹی منیجر کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔

Muhammad Mujeeb Ahmed. Photo: INN
محمد مجیب احمد۔ تصویر : آئی این این

 تعطیلات کی مناسبت سے تعلیمی انقلاب میں شائع ہونے والے اعلان کے مطابق اس ہفتے سے ’’غیر روایتی کریئر آپشنز‘‘ کا انتخاب کرنے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے والے افراد کا انٹرویو پیش کیا جارہا ہے تاکہ طلبہ کریئر کے ان متبادل کو بھی ذہن میں رکھیں۔ 
اس سلسلے کی پانچویں کڑی کے طور پر سلواسا شہر کی اہم ٹیکسٹائل کمپنی میں بطور سیفٹی منیجر اپنی خدمات انجام دینے والے محمد مجیب احمد کا انٹرویو پیش کیا جارہا ہےجنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے کامیابی حاصل کی اورکمپنی کے ایک اہم عہدے پر فائز ہیں۔
اپنے بارے میں تفصیل سے بتایئے؟
  میرا تعلق بہار سے ہے۔ اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بی ایس سی کیا اور اس کے بعد سیفٹی کا کورس کیا۔ مَیں گزشتہ ۱۱؍ سال سے سیفٹی مینجمنٹ سے وابستہ ہوں۔ فی الحال سلواسا میں واقع ایک ٹیکسٹائل کمپنی میں سیفٹی منیجر کے طور پر کام کر رہا ہوں۔اس سے قبل میں کنسٹرکشن،آٹو موبائل سیکٹر اور آئل اینڈ گیس وغیرہ کی کمپنیوںمیں کام کرنے کا تجربہ حاصل کرچکا ہوں۔
 سیفٹی مینجمنٹ کے بارے میں کچھ معلومات دیجئے ؟
 سیفٹی مینجمنٹ کا مطلب حفاظت کے انتظام کیلئے ایک منظم طریقہ کار جس میں ضروری تنظیمی ڈھانچہ، جوابدہی اور پالیسیاں شامل ہیں۔ سیفٹی مینجمنٹکو عام طور پر حادثوں اور دیگر منفی نتائج کو روکنے کیلئے اصولوں، فریم ورک، عمل اور اقدامات کے ایک سیٹ کو لاگو کرنے کے طور پر سمجھا جاتا ہے جو کسی سروس یا پروڈکٹ کے استعمال کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ فنکشن ہے جومنیجرز کو آپریشنل سسٹم کے ڈیزائن اور نفاذکیلئے اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھانے میں مدد کرتا ہے۔ انسانوں کو حادثوںسےمحفوظ رکھنا اور ماحولیات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان سے بچانا سیفٹی مینجمنٹ کا اہم مقصد ہے۔
آپ نے سیفٹی منیجر بننے کا فیصلہ کب اور کیوں کیا؟
 گریجویشن مکمل کرنے کے بعد میرے کچھ دوستوں نے مجھے بتایا کہ آنے والے وقتوں میں سیفٹی مینجمنٹ میں کافی مواقع ہوں گے اوراس کی مانگ بیرون ملک بھی ہے، اس لئے میں نے گریجویشن کے بعد سیفٹی کا کورس کیا ۔کورس کرنے کے بعد میں نے بیرون ملک روزگار کیلئے کوشش کی مگر کسی وجہ سے میں وہاں نہ جاسکا اور میں نے اپنے ہی ملک اور اسی شعبے میں کریئر بنانے پر پوری توجہ مرکوز کرد ی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ۱۰؍ سال بعد میں ایک اچھے عہدے فائز ہوں۔
 سیفٹی منیجر بننے کیلئے کوئی کورس کرنا پڑتا ہے؟ 
 جی ہاں! سیفٹی منیجربنےکیلئے گریجویشن کامیاب ہونا ضروری ہے یا ٹیکنیکل فیلڈ جیسے میکانیکل، سول یا الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلوما یا بی ٹیک کی ڈگری ہونی چاہئے۔ اس کے بعد آپ ایک سالہ سیفٹی کورس کر سکتے ہیں۔ سیفٹی کے بہت سے کورسیز ہیںجنہیں آپ کرسکتے ہیں جیسے انوائرمنٹ ہیلتھ اینڈ سیفٹی انجینئر یا فائر اینڈ سیفٹی انجینئر وغیرہ ۔ اس شعبے میں ایڈوانس ڈپلوما بھی کیا جاسکتا ہے۔
 سیفٹی مینجمنٹ کا مستقبل کیا ہے؟
 اِن دنوں، جیسے جیسے صنعتیں بڑھ رہی ہیں، حفاظتی انتظامات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ پہلے سے زیادہ بیدار ہو رہے ہیں۔ہر انڈسٹری میں سیفٹی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں یہ ایک لازمی جزو کی حیثیت رکھتا ہے جس کے بغیر کوئی بھی عمارت قابل رہائش قرار نہیں دی جاسکتی۔ملک اور بیرون ملک( تعمیراتی شعبہ) میں اس کی اہمیت اور مانگ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آسان الفاظ میں اس کورس کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔
سیفٹی منیجر بننے کیلئے طلبہ کو کن مہارتوں کا حامل ہونا ضروری ہے؟
سیفٹی منیجربننے کیلئے انگلش اسپیکنگ میں مہارت ہونی چاہئے تاکہ مناسب طریقے سے گفتگو کر سکیں۔ اس کے علاوہ ایم ایس آفس کے سافٹ مثلاً ایکسل، ورڈ اور پاور پوائنٹ استعمال کرنا آنا چاہئے تاکہ آپ جو بھی رپورٹ تیار کریں وہ آپ کے سینئر کو آسانی سے بھیجی جا سکے اور اس کی تفہیم بھی آسان ہو۔
 سیفٹی مینجمنٹ کا کورس دیگر مینجمنٹ کے کورسیز سے کس طرح مختلف ہے؟
یہ کورس اس لئے سب سے منفرد اور مختلف ہے کیونکہ دیگرمینجمنٹ کے شعبے صرف کمپنی کے پروڈکشن پر توجہ دیتے ہیں مگر سیفٹی مینجمنٹ، کمپنی اور اس میں کام کرنے والے لوگوں کو حادثات سے بچانےکا کام کرتا ہےجو میرے خیال میں اسے ممتاز بناتا ہے۔
جو طلبہ اس شعبے میں کریئر بنانے کےخواہشمند ہیں، انہیں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
 سب سے پہلے خود میں تکنیکی مہارت پیدا کریں۔ کمیونیکیشن پر ابھی سے توجہ دیں۔ یہ ایک محنت طلب شعبہ میں اس لئے اپنے آپ کو محنت کا عادی بنائیں۔ آپ کو سیفٹی کے جس بھی شعبے میں کریئر بنانا ہے،اس کی ابھی سے اچھی طرح معلومات حاصل کرلیں، اس کے بعد فیصلہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK