John Maynard Keynesنے معاشیات کو صرف نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی فلاح، روزگاراور حکومتی ذمہ داری سے جوڑا۔
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 8:49 PM IST | Mumbai
John Maynard Keynesنے معاشیات کو صرف نظری مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عوامی فلاح، روزگاراور حکومتی ذمہ داری سے جوڑا۔
جان مینارڈ کینزبرطانوی ماہر معاشیات اور فلسفی تھے۔ وہ جدید معاشیات کی تاریخ کے ان عظیم مفکرین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف معاشی نظریات کو نئی جہت دی بلکہ دنیا کو شدید اقتصادی بحرانوں سے نکلنے کیلئے عملی رہنمائی بھی فراہم کی۔ انہیں ’’جدید معاشیات کا معمار‘‘ اور ’’فادرآ ف میکرو اکنامکس‘‘(Father Of Macroeconomics) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے پہلی مرتبہ قومی آمدنی، مجموعی طلب، بے روزگاری اور حکومتی مالیاتی پالیسی کو ایک مربوط نظریاتی نظام کی شکل دی۔ ان کے افکار نے بیسویں صدی کی معاشی پا لیسیوں، حکومتوں کے کردار اور عالمی مالیاتی اداروں کی تشکیل پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک معاشی بحران کے دوران کینز کے نظریات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مشہور امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ ناول نگار اور افسانہ نگار بھی تھیں
جان مینارڈ کینز ۵؍جون۱۸۸۳ء کو کیمبرج، برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد جان نیویل کینز ایک معروف ماہرِ معاشیات تھے جبکہ ان کی والدہ فلورنس ایڈا کینزسماجی خدمات اور مقامی سیاست میں سرگرم رہیں۔ علمی اور مہذب ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے کینز کو بچپن ہی سے تعلیم، تحقیق اور تجزیاتی سوچ کا بہترین ماحول میسر آیا، جس نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد کینز نے مشہور تعلیمی ادارے ایٹن کالج میں داخلہ لیا جہاں وہ اپنی غیرمعمولی ذہانت کے باعث نمایاں طالب علم بن گئے۔ بعد ازاں انہوں نے کنگز کالج سے ریاضی، فلسفہ اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔ یہاں انہیں مشہور ماہر معاشیات الفریڈ مارشل اورآرتھر سیسل پیگو جیسے اساتذہ کی رہنمائی حاصل ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے: ماریا مونٹیسوری: اٹلی کی ممتاز ڈاکٹر، ماہر تعلیم اور کئی کتابوں کی مصنفہ
تعلیم مکمل کرنے کے بعد کینز نے برطانوی حکومت کے انڈین سول سروس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور کچھ عرصہ ہندوستان سے متعلق سرکاری شعبے میں خدمات انجام دیں۔ اگرچہ ان کا سرکاری دورانیہ مختصر تھا، لیکن اسی دوران انہوں نے ہندوستان کے مالیاتی نظام اور کرنسی کے مسائل کا گہرا مطالعہ کیا۔ بعد میں انہوں نے اپنی مشہور کتاب’’انڈین کرنسی اینڈ فائنانس‘‘ تحریر کی جس نے انہیں ایک سنجیدہ معاشی مفکر کے طور پر متعارف کرایا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران کینز برطانوی وزارتِ خزانہ سے وابستہ رہے اور جنگی اخراجات و مالیاتی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۲۹ء میں دنیا’’ گریٹ ڈپریشن‘‘ کا شکار ہوئی۔ اس وقت رائج کلاسیکی معاشی نظریہ یہ تھا کہ منڈی خود بخود توازن قائم کر لیتی ہے لیکن کینز نے اس تصور کو ناکافی قرار دیا اور حکومت کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے، روزگار پیدا کرنے، عوامی اخراجات بڑھانے اور مالیاتی محرکات فراہم کرنے کی تجویز دی جو کامیاب ہوئی۔
انہوں نے معاشیات کے موضوع پرتقریباً ۱۲؍ کتابیں شائع کیں جو مقبول ہوئی۔ جان مینارڈ کینز کا انتقال ۲۱؍ اپریل۱۹۴۶ء کو برطانیہ میں دل کے عارضے کے باعث ہوا تھا۔
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)