Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں

Updated: July 10, 2026, 8:55 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

روس کے معروف ادیب لیو ٹالسٹائی کی شہرہ آفاق کہانی’’گاڈ سیز دی ٹروتھ بٹ ویٹس‘‘ God Sees the Truth, But Waitsکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

انیسویں صدی کے روس کے ایک خوشحال قصبہ میں ایوان دمتریچ اکسیونوف نامی ایک نوجوان تاجر تھا۔ وہ خوش اخلاق، خوش پوش اور محنتی تھا۔ اس کا کاروبار روز بروز ترقی کر رہا تھا۔ وہ پنی بیوی بچوں کے ساتھ ایک خوبصورت مکان میں رہتا تھا۔ گرمیوں کے دن تھے اور سالانہ تجارتی میلہ قریب آ رہا تھا جس میں مختلف علاقوں سے تاجر شرکت کرتے تھے۔ یہاں کاروباری معاہدے بھی طے پاتے تھے۔ ایوان بھی ہر سال کی طرح اس مرتبہ میلے میں جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ 
روانگی سے ایک رات پہلے ایوان نے غور کیا کہ اس کی بیوی غیر معمولی طور پر خاموش ہے۔ ایوان نے اس سے مسکراتے ہوئے پوچھا، ’’کیا بات ہے؟ تم کچھ اُداس ہو۔ ‘‘ بیوی نے کہا، ’’میں چاہتی ہوں کہ تم اس بار سفر ملتوی کر دو۔ ‘‘ ایوان حیران رہ گیا، ’’آخر کیوں ؟‘‘
بیوی نے کہا، ’’کل رات عجیب خواب دیکھا۔ ‘‘ ایوان ہنس پڑا۔ ’’اچھا! تو اب میرے سفر کا فیصلہ خواب کریں گے؟‘‘ مگر بیوی نے سنجیدگی سے کہا، ’’میں نے دیکھا کہ تم سفر سے لوٹے اور جب میں تمہارا استقبال کرنے کیلئے دروازے تک دوڑی تو تم نے اپنی ٹوپی اتاری۔ میں نے دیکھا کہ تمہارے سارے بال برف کی طرح سفید ہو چکے تھے۔ ‘‘ ایوان نے قہقہہ لگایا اور کہا، ’’ارے بھئی! یہ تو اچھی بات ہے۔ شاید اس کا معنی یہ ہو کہ میں بہت پیسے کما کر واپس آؤں اور بڑھاپے تک خوشحال رہوں ۔ خواب سچ نہیں ہوتے۔‘‘ 
اس نے بیوی کو تسلی دی، بچوں کو پیار کیا اور سفر پر نکل گیا۔ چند گھنٹوں بعد اسے راستے میں ایک شناسا تاجر ملا۔ دونوں ساتھ ہو لئے۔ شام ڈھلے ایک سرائے میں پہنچے۔ دونوں نے ساتھ چائے پی، کچھ دیر گفتگو کی اور پھر اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صحرا کےتین خواب

ایوان کی عادت صبح سویرے سفر شروع کرنے کی تھی۔ وہ طلوعِ آفتاب سے پہلے بیدار ہو گیا۔ اپنا سامان سمیٹا، سرائے کے مالک کو حساب ادا کیا اور چند ہی لمحوں میں وہ دوبارہ سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔ دوپہر کے قریب وہ ایک اور سرائے پر پہنچا۔ گھوڑے تھک چکے تھے اور کوچوان کو بھی آرام کی ضرورت تھی، اس نے کچھ دیر قیام کا فیصلہ کیا۔ ایوان برآمدے میں بیٹھ کر چائے پینے لگا۔ تبھی ایک بگھی سرائے کے سامنے آرُکی جس سے ایک سرکاری افسر چند سپاہیوں کے ساتھ اترا۔ ان کے انداز میں غیر معمولی سنجیدگی تھی۔ وہ سیدھا ایوان کی طرف بڑھے۔ افسر نے قریب آ کر سخت لہجے میں پوچھا، ’’کیا تمہارا نام ایوان دمتریچ ہے؟‘‘ ’’جی ہاں۔ ‘‘ 
’’تم کہاں سے آ رہے ہو؟‘‘
ایوان نے اطمینان سے اپنے شہر کا نام بتایا اور یہ بھی کہا کہ وہ سالانہ میلے میں تجارت کیلئے جا رہا ہے۔ 
افسر نے اگلا سوال کیا، ’’کل رات کہاں قیام تھا؟‘‘ 
’’راستے کی ایک سرائے میں۔ ‘‘
’’کیا وہاں تم اکیلے تھے؟‘‘
’’نہیں، ایک اور تاجر بھی تھا۔ ‘‘
افسر کی نظریں اب پہلے سے زیادہ تیز ہو گئی تھیں۔ ’’صبح تم وہاں سے کب روانہ ہوئے؟‘‘ 
’’طلوعِ آفتاب سے پہلے۔ میری عادت ہے کہ میں جلدی سفر شروع کرتا ہوں۔ ‘‘ ایوان کو اب یہ سوالات عجیب لگنے لگے۔ اس نے پوچھا، ’’حضور، آخر معاملہ کیا ہے؟ آپ اس طرح پوچھ گچھ کیوں کر رہے ہیں ؟‘‘
افسر نے چند لمحے خاموش رہ کر اس کی طرف دیکھا، پھرکہا، ’’جس تاجر کے ساتھ تم نے سرائے میں قیام کیا تھا، وہ آج صبح اپنے بستر پر مردہ پایا گیا ہے۔ ‘‘ 
ایوان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ’’مردہ؟‘‘
’’جی ہاں، ‘‘ افسر نے جواب دیا، ’’اس کا گلا کاٹ کر قتل کیا گیا ہے۔ ‘‘ ایوان کو لگا جیسے کسی نے اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو۔ 
’’لیکن میں تو صبح ہی وہاں سے نکل آیا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا، مجھے کچھ نہیں معلوم۔ ‘‘
افسر نے سپاہیوں کو اشارہ کیا۔ سپاہی ایوان کے سامان کی تلاشی لینے لگے اور تبھی ایک چھری برآمد کی جس کی دھار پر سوکھا خون لگا تھا۔  ’’یہ چھری کس کی ہے؟‘‘
ایوان نے حیرانگی سے کہا، ’’مَیں نے یہ چھری پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ ‘‘ افسر کی آواز مزید سخت ہو گئی۔ 
’’یہ تمہارے سامان سے برآمد ہوئی ہے۔ ‘‘
ایوان کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کے سامان میں خون آلود چھری کیسے آ سکتی ہے۔ اس کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ ’’خدا کی قسم، یہ میری نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم یہ کیسے آئی۔ ‘‘
لیکن اب اس کی گھبراہٹ ہی اس کے خلاف جا رہی تھی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا، آواز کانپ رہی تھی اور وہ خود بھی اپنے الفاظ کو سنبھال نہیں پا رہا تھا۔ 
افسر نے کہا، ’’سرائے اندر سے بند تھی۔ وہاں صرف تم اور مقتول تاجر تھا۔ تم صبح سب سے پہلے نکلے، اور اب خون آلود چھری تمہارے سامان سے ملی ہے۔ اس سے زیادہ ثبوت ہمیں اور کیا چاہئے؟‘‘ 
ایوان نے بے بسی سے ادھر اُدھر دیکھا۔ ’’مَیں بے گناہ ہوں۔ ‘‘ مگر وہاں موجود کسی شخص نے اس پر یقین نہیں کیا۔ سپاہیوں نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ باندھ دیئے اور اسے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سخی درخت

اگلے چند دن پوچھ گچھ میں گزرے۔ ایوان ہر بار یہی کہتا کہ وہ بے گناہ ہے۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ جس قصبے میں ایوان دیانتداری کی مثال سمجھا جاتا تھا، وہاں اب لوگ اسی کا نام حیرت اور افسوس کے ساتھ لینے لگے۔ جب اس کی بیوی کو یہ معلوم ہوا تو وہ فوراً جیل پہنچی۔ جب اس نے شوہر کو زنجیروں میں جکڑا دیکھا تو رونے لگی۔ بیوی کے استفسار پر ایوان نے اب تک کا پورا قصہ سنا دیا۔ کافی دیر خاموشی کے بعد بیوی نے پوچھا ’’ایوان! کیا تم نے واقعی یہ قتل نہیں کیا ہے؟‘‘
یہ الفاظ سن کر ایوان کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اسے لگا کسی نے اس کے دل پر وار کر دیا ہو۔ وہ غیروں کی بے اعتنائی برداشت کر سکتا تھا مگر بیوی کی زبان سے یہ سوال سننے کی اس میں ہمت نہ تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس ملاقات کے بعد ایوان کا دل بدل گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ اگر دنیا، عدالت اور حتیٰ کہ بیوی بھی اس کی بے گناہی پر یقین نہ کرے تو پھر انسانوں سے انصاف کی امید بے سود ہے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ اب وہ صرف ایک ہستی سے فریاد کرے گا؛ خدا سے۔ 
مقدمہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ ایوان نے اپنی بے گناہی کی قسمیں کھائیں مگر جج نے ایوان دمتریچ کو قتل اور ڈکیتی کا مجرم قرار دیا۔ اسے کوڑوں کی سزا اور عمر قید سنائی گئی۔ جب اسے عدالت سے باہر لے جایا جا رہا تھا تو اس نے صرف ایک بار آسمان کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر ان آنسوؤں میں غصہ کم اور بے بسی زیادہ تھی۔ چند روز بعد سزا پر عمل درآمد ہوا۔ 
کوڑوں کی ہر ضرب اس کے جسم پر ہی نہیں، اس کی روح پر بھی ثبت ہوتی چلی گئی۔ درد اس قدر شدید تھا کہ کئی مرتبہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ زخموں کے بھرنے میں ہفتوں لگ گئے، لیکن ان زخموں سے بھی زیادہ گہرے وہ زخم تھے جو اس کے دل پر لگ چکے تھے۔ جب وہ سفر کے قابل ہوا تو دوسرے قیدیوں کے ساتھ اسے سائبیریا کے لمبے سفر پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں اسے دیگر قیدیوں کے ساتھ کان میں کام پر لگا دیا گیا۔ دن بھر خوب مشقت کروائی جاتی۔ وہ ہر رات ایک ہی دعا کرتا ’’اے پروردگار! تو جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں۔ اگر دنیا نے مجھ پر ظلم کیا ہے تو تُو ضرور ایک دن میری سچائی ظاہر کرے گا۔ ‘‘ مگر دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے گئے۔ کوئی معجزہ نہ ہوا۔ ابتدا میں وہ ہر آنے والے سپاہی کے قدموں کی آہٹ پر چونک جاتا۔ اسے لگتا شاید رہائی کا حکم آ گیا ہے مگر ہر بار مایوسی ہاتھ لگتی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردوترجمہ: سپاہی اور رقاصہ

آہستہ آہستہ وہ خاموش ہوگیا۔ اس نے شکایت کرنا چھوڑ دیا۔ اس نے قسمت سے لڑنا چھوڑ دیا۔ اس نے دوسروں سے انصاف کی امید کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس نے اپنا دل خدا کے سپرد کر دیا۔ فارغ اوقات میں وہ دعائیں اور مذہبی کتابیں پڑھتا اور دوسرے قیدیوں کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں میں مدد کرتا۔ اگر کوئی بیمار پڑ جاتا تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کی خدمت کرتا۔ سال گزرتے گئے۔ ایوان کے گھنے سیاہ بال سفید ہونے لگے۔ اس کی کمر جھک گئی۔ چہرے پر جھریاں نمودار ہو گئیں۔ جس خواب کا ذکر اس کی بیوی نے روانگی سے ایک رات پہلے کیا تھا، وہ اب حقیقت بن چکا تھا۔ لیکن اس خواب کی تعبیر ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ 
وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا۔ اب ایوان کے سفید بال اس کے کندھوں تک آتے تھے۔ ڈاڑھی گھنی اور برف کی مانند سفید ہو چکی تھی۔ قید خانے میں سب اس کا احترام کرتے تھے اور اسے ’’بابا‘‘ کہہ کر پکارتےتھے۔ 
ایک دن قید خانے میں نئے قیدیوں کا ایک گروہ لایا گیا جن میں ایک لمبا تڑنگا، مضبوط جسم والا شخص بھی تھا۔ اس کی عمر ساٹھ برس کے قریب معلوم ہوتی تھی مگر اس کے انداز میں اب بھی اکڑ تھی۔ اس کی آنکھوں میں بے خوفی تھی اور گفتگو میں ایک عجیب قسم کی بے پروائی۔ 
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ کسی قیدی نے پوچھا۔ اس نے جواب دیا، ’’مکار سیمیونوچ ہے۔ ‘‘ پھر اس نے ہنستے ہوئے بتایا کہ اس پر گھوڑا چرانے کا الزام لگا ہے، حالانکہ اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے صرف ضرورت کے تحت گھوڑا لیا تھا اور واپس کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ باتوں باتوں میں اس نے مختلف قصبوں کا ذکر چھیڑ دیا۔ ایوان خاموشی سے ایک طرف بیٹھا سب سن رہا تھا۔ لیکن جب مکار نے اس کے آبائی شہر کا نام لیا تو اس کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔ اس نے پہلی بار سر اٹھا کر مکار کی طرف دیکھا۔ ’’کیا تم اس شہر کو جانتے ہو؟‘‘ اس نے پوچھا۔ 
’’کیوں نہیں !‘‘ مکار نے جواب دیا۔ ’’وہاں کئی بار گیا ہوں۔ ‘‘ ایوان کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ ’’کیا تم نے کبھی ایوان نامی تاجر کے بارے میں سنا ہے؟‘‘ مکار نے چند لمحے سوچنے کا ڈھونگ کیا، پھر بولا، ’’ہاں سنا ہے۔ اس کا خاندان آج بھی وہاں خاصا خوش حال ہے۔ البتہ وہ کسی کے قتل کے الزام میں سائبیریا میں ہے۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے مکار نے پوچھا، ’’لیکن تم یہ سب کیوں پوچھ رہے ہو؟‘‘
دوسرے قیدیوں نے فوراً بتایا کہ یہی تو وہ ایوان ہیں۔ مکار خاموش ہوگیا اور غور سے ایوان کو دیکھا۔ اس رات ایوان سو نہ سکا۔ ۲۶؍ سال پہلے کے واقعات ذہن میں چلنے لگے۔ اسے اچانک خیال آیا کہ کہیں دوسرے تاجر کا قاتل یہی شخص، مکار، تو نہیں ؟
ایک شام قیدی بیرکوں میں لوٹے تو تھکن کے سبب جلدی سوگئے۔ آدھی رات کے قریب ایوان کی آنکھ کھل گئی۔ اسے لگا جیسے کہیں قریب سے مٹی گرنے کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی ہو۔ وہ اندھیرے میں آگے بڑھا۔ کچھ فاصلے پر اسے ایک سایہ دکھائی دیا۔ وہ مکار تھا جو فرش کے ایک کونے سے نکل رہا تھا۔ دیوار کے نیچے ایک چھوٹا سا سوراخ نظر آ رہا تھا۔ ایوان سمجھ گیا کہ مکار کئی دنوں سے خفیہ طور پر سرنگ کھود رہا ہے تاکہ موقع ملتے ہی جیل سے فرار ہو سکے۔ مکار نے ایوان کو دیکھا تو کہا، ’’بابا، اگر تم نے یہ کسی کو بتایا تو تم زندہ نہیں رہوگے۔ ‘‘ ایوان خاموشی سے لوٹ گیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دادا شام

اگلی صبح جب قیدی کام پر جانے کیلئے قطار میں کھڑے تھے تو ایک محافظ کی نظر بیرک کی دیوار کے قریب بکھری مٹی پر پڑی۔ فوراً تلاشی کا حکم دیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں سرنگ دریافت ہو گئی۔ جیل میں کھلبلی مچ گئی۔ حاکمِ جیل خود وہاں پہنچا۔ اس نے سخت لہجے میں پوچھ گچھ شروع کی لیکن کوئی کچھ نہ بولا۔ آخرکار حاکم کی نظر ایوان پر پڑی۔ ۲۶؍ برس میں حاکم نے ایوان کی دیانت اور راست بازی کی بے شمار مثالیں دیکھی تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ اگر کوئی سچ بولے گا تو وہ یہی شخص ہوگا۔ 
جب اس نے ایوان سے سرنگ کے متعلق سوال پوچھا تو ایوان خاموش کھڑا رہا۔ اس کے ذہن میں انتقام کی آگ جل رہی تھی۔ وہ مکار کو پھنسا سکتا تھا لیکن اس نے سر جھکا کر خاموشی سے دعا کی، ’’اے پروردگار! میری زبان سے وہی نکلے جو تیری رضا کے مطابق ہو۔ ‘‘ 
چند لمحوں بعد اس نے کہا، ’’میں کچھ نہیں جانتا۔ ‘‘حاکم حیران رہ گیا لیکن اس نے کچھ نہیں کہا۔ قیدی اپنی اپنی بیرکوں میں واپس آ گئے۔ 
مکار کیلئے رات عذاب بن گئی۔ وہ بار بار کروٹیں بدلتا، کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتا اور کبھی ایوان کی طرف دیکھتا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ جس شخص کی زندگی اس کی وجہ سے تباہ ہوئی، اس نے آج اسے کیوں بچا لیا۔ آدھی رات گزری تو ایوان کو لگا کوئی اس کے قریب بیٹھا ہے۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ مکار تھا، ’’میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ ‘‘ ایوان خاموش رہا۔ 
’’ایوان! مجھے معاف کر دو۔ وہ قتل مَیں نے کیا تھا۔ ‘‘ یہ کہتے ہی وہ رونے لگا۔ اس کی اکڑ، انا اور غرور ٹوٹ چکا تھا۔ ’’مَیں نے تاجر کو قتل کیا تھا۔ میرا ارادہ تمہیں بھی ختم کرنے کا تھا، مگر باہر آہٹ سنائی دی تو میں گھبرا گیا۔ مَیں نے خون آلود چھری تمہارے سامان میں چھپا دی اور کھڑکی سے بھاگ نکلا۔ ‘‘یہ اعتراف سن کر ایوان کے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی۔ ۲۶؍ برس بعد سچ خود چل کر اس تک پہنچا تھا۔ مکار اس کے قریب بیٹھا روئے جارہا تھا۔ 
’’ایوان!‘‘ اس نے لرزتی آواز میں کہا، ’’میں تمہارا مجرم ہوں۔ میری وجہ سے تم نے اپنی جوانی کھو دی، اپنے بچوں کو بڑا ہوتے نہ دیکھ سکے، بیوی کا ساتھ چھن گیا اور ۲۶؍ برس ان زنجیروں میں گزارے جن کا تم سے کوئی تعلق نہ تھا۔ میں نے تمہارے ساتھ جو ظلم کیا ہے اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کل صبح مَیں اپنا جرم قبول کرلونگا اور تم اپنے گھر چلے جانا۔ ‘‘ ایک وقت تھا جب ایوان کو اسی لمحے کا انتظار تھا۔ مگر اب...اس نے گہری سانس لی اور کہا، ’’گھر؟‘‘ 
’’میں کس گھر جاؤں، مکار؟ چھبیس برس پہلے جو گھر میرا تھا، وہ اب کہاں ہے؟ میری بیوی زندہ ہے یا نہیں ؟ میں نہیں جانتا۔ میرے بچے اب دادا بن گئے ہوں گے۔ وہ مجھے پہچانیں گے بھی نہیں۔ ‘‘ اس کی آواز میں شکوہ تھا نہ تلخی، صرف تھکن تھی۔ ’’تم نے میری زندگی ضرور چھینی لیکن ان برسوں میں جب میرے پاس دنیا کا کوئی سہارا نہیں تھا، تب میں نے خدا کا سہارا پایا۔ پہلے مَیں عدالتوں سے انصاف مانگتا تھا پھر سمجھ گیا کہ انسانوں کا انصاف کامل نہیں ہوتا۔ اس دن میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر دیا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی

مکار سر جھکائے سنتا رہا۔ ایوان نے اس کی طرف دیکھا، ’’میں تم سے نفرت کرنا چاہتا تو شاید ۲۶؍ برس زندہ نہ رہ پاتا۔ نفرت انسان کے دل کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے۔ خدا نے میرے دل سے وہ بوجھ بہت پہلے نکال دیا تھا۔ ‘‘ مکار بے اختیار اس کے قدموں پر گر پڑا، ’’مجھے معاف کر دو!‘‘ وہ روتے ہوئے بولا۔ ’’اگر تم نے مجھے معاف نہ کیا تو میں اپنی باقی زندگی اس بوجھ کے ساتھ نہیں گزار سکوں گا۔ ‘‘ 
ایوان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، ’’میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ شاید میں تم سے بڑا گناہگار ہوں کیونکہ زندگی کے کئی برس میں نے تم کو اپنی یادوں میں زندہ رکھا۔ آج مَیں ہم دونوں کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ ‘‘ یہ سنتے ہی مکار پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ 
اگلے دن اس نے اپنا جرم قبول کر لیا، چند ہفتوں بعد ایوان کی بے گناہی تسلیم کر لی گئی اور اس کی رہائی کا حکم جاری کیا گیا مگر جب تک آزادی کا فرمان سائبیریا کی جیل تک پہنچا، ایوان اس دنیا سے جا چکا تھا۔ اس نے آزادی کی خبر سننے سے پہلے ہی خاموشی سے اپنی آخری سانس لے لی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے وہ اس آزادی تک پہنچ چکا ہو جسے دنیا کی کوئی عدالت نہیں دے سکتی تھی۔ مکار دیر تک اس کے بے جان جسم کے پاس بیٹھا رہا۔ اس کے آنسو تھمتے ہی نہ تھے۔ 
یوں ایک بے گناہ انسان کی پوری زندگی ظلم کی نذر ہو گئی، لیکن اس نے اپنے آخری دنوں میں یہ ثابت کر دیا کہ انسان دوسروں سے نہیں، اپنے دل سے آزاد ہوتا ہے۔ عدالتیں کبھی کبھی غلط فیصلے کر دیتی ہیں، گواہ جھوٹ بول سکتے ہیں اور ثبوت دھوکا دے سکتے ہیں، مگر ایک عدالت ایسی بھی ہے جہاں نہ کوئی گواہ خریدے جا سکتے ہیں، نہ سچ کو ہمیشہ کیلئے چھپایا جا سکتا ہے۔ وہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK