Inquilab Logo

ہر طالب علم چاہتا ہے ذہنی اور جسمانی طور پر ایکٹیو رہنا، مگر، کیسے؟

Updated: June 28, 2024, 4:55 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ان کالموں میں دیکھئے ایسے۔ نیو اکیڈمک ایئر میں چاق و چوبند رہنے کیلئے یہاں چند تراکیب درج کی گئی ہیں۔ انہیں اپنائیے اور دیکھئے کہ آپ کی فعالیت کتنی بڑھی اور آپ پڑھائی میں کتنے بہتر ہوئے

All games that fall under the category of sports are based on strategy and planning, you must play such games. Photo: INN
اسپورٹس کے زمرے میں آنے والے تمام کھیل حکمت عملی اور منصوبہ بندی پر مبنی ہوتے ہیں، آپ ایسے کھیل ضرور کھیلئے۔ تصویر : آئی این این

 وبائی حالات نے بیشتر افراد کو غیر فعال بنادیا ہے۔ لاک ڈاؤن میں کسی بھی قسم کی ذہنی یا جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کے سبب لوگ آرام پسند ہوگئے تھے۔ متعدد تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ وبائی حالات گزر جانے کے باوجود لوگ اب بھی پوری طرح فعال نہیں ہوئے ہیں کیونکہ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ نے نہ صرف بڑوں بلکہ بچوں کو بھی غیر فعال بنادیا ہے، اور اب سبھی سہل پسند ہوگئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد اسکول شروع ہونے پر یہ شکایت عام تھی کہ طلبہ کی پڑھنے لکھنے کی صلاحیتیں متاثر ہوئی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے بعد طلبہ کی ان صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے مگر اب بھی انہیں پہلے کی طرح مکمل طور پر فعال ہونا باقی ہے۔ آج کے مسابقتی دور میں ہر طالب علم کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ ۱۰۰؍ فیصد فعالیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے، اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فعال ہوگا۔   نئے تعلیمی سال کے اہداف اور اس میں فعال رہنے کے متعلق طلبہ کی رہنمائی کی جاچکی ہے۔ تاہم، اس نئے سال میں انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر بھی فعال ہونا چاہئے تاکہ وہ پوری طرح چاق و چوبند رہتے ہوئے پڑھائی کریں اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں۔ اس طرح نہ صرف ان کا رزلٹ بہتر آئے گا بلکہ دماغ بھی تیزی سے کام کرے گا۔   متعدد تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو طلبہ دماغی گیم کھیلنے کے ساتھ ایسے کھیل بھی کھیلتے ہیں جن میں پورا جسم کام کرتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ان کے ذہن پر پڑتا ہے۔ دل و دماغ میں دورانِ خون بڑھتا ہے جس سے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ دماغ جس قدر طاقتور ہوگا، طالب علم اتنی ہی زیادہ مستعدی کا مظاہرہ کر سکے گا۔ ایک مثالی طالب علم ذہنی اور جسمانی ، دونوں ہی سطح پر مستحکم ہوتا ہے۔ آپ بھی ایسا ہی بننے کی کوشش کیجئے۔

ذہنی اور جسمانی کسرت کے مختلف طریقے بتائے گئے ہیں۔ طلبہ ان میں سے چند اپنا کر اپنے آپ کو فعال بناسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسے طالب علم ہیں جو بیک وقت کئی سرگرمیوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بناسکتے ہیں، تو ضرور بنایئے۔ آپ جتنی زیادہ سرگرمیاں اپنائیں گے، اتنے ہی زیادہ فعال ہوں گے، اور اتنی ہی تیزی سے آپ کا دماغ کام کرے گا۔ 
 ذہنی اور جسمانی طور پر فعال ہونے کے کئی فوائد ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں:
(۱) پڑھائی پر بہتر توجہ: ورزش کے بعد دماغ متحرک ہوجاتا ہے اور اس کی توجہ کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے معلومات کو یاد رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ 
(۲) حاضری: جو طلبہ باقاعدہ جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ان کے بیمار ہونے اور اسکول سے غیر حاضر رہنے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ ان کا مدافعتی نظام مضبوط ہو جاتا ہے اور بیماریوں سے بہتر طریقے سے لڑنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔
(۳) بہتر تعلیمی کارکردگی: مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ جو طلبہ ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک ہوتے ہیں وہ بہتر گریڈ حاصل کرتے ہیں۔ 
(۴ )مضبوط، صحت مند جسم: وہ طلبہ جو کم عمری ہی میں ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں کو اپنے معمول میں شامل کرلیتے ہیں ان میں موٹاپا، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، اور کئی مہلک بیماریاں ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ اس سے انہیں لمبی زندگی کے لئے ایک صحت مند اور مضبوط جسم بنانے میں مدد ملتی ہے۔
(۵) نیند کا معیار بہتر بناتا ہے: جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے طلبہ کی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے جس سے ان کا ذہن تازہ ہوتا ہے۔ بہتر نیند ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔
(۶) بہتر سماجی روابط: جو طلبہ ذہنی اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں وہ لوگوں سے بات چیت کرنے میں نہیں گھبراتے۔ بڑھ چڑھ کر مختلف کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔
(۷) مسئلہ حل کرنے کی مہارتیں: ذہنی طور پر فعال طلبہ مشکل حالات میں پریشان نہیں ہوتے۔ وہ مسئلہ حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اپنے طورپر انہیں حل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ 
(۸) ٹیم لیڈر: چونکہ وہ مختلف محاذوں پر فعال ہوتے ہیں اس لئے ان میں ٹیم لیڈر بننے کی صلاحیت اپنے آپ پروان چڑھتی ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگاکہ ایسے ہی طلبہ کو کلاس مانیٹر یا ہاؤس کپتان وغیرہ بنایا جاتا ہے۔ 
(۹) خود اعتمادی: پڑھنے لکھنے اور کھیلنے کودنے والے طلبہ خود اعتماد ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہوتا ہے اور وہ ہمہ وقت خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 
(۱۰) توانائی سے پُر: جب کسی طالب علم کے معمول میں باقاعدہ جسمانی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں، تو وہ ہر وقت اپنے آپ کو توانائی سے پُر محسوس کرتا ہے۔ اس طرح دن بھر میں وہ کئی کام نمٹا لیتا ہے۔ 
وزولائزیشن کیا ہے؟
 ذہنی مشقوں میں سے ایک ہے وزولائزیشن۔ اس میں آپ کو اپنے طور پر ایک صورتحال پیدا کرنی ہے، مثلاً اگر آپ وزیر اعظم ہوتے تو کیا کرتے۔ اب آنکھیں بند کیجئے، اور اپنے آپ کو ایک وزیر اعظم کے طور پر تصور کرتے ہوئے سوچئے کہ آپ کیا کیا کرسکتے ہیں، آپ جتنا زیادہ تصور کریں گے آپ کا ذہنی وسعت میں اتنا زیادہ اضافہ ہوگا۔ 
 یہ طریقہ ایک کاغذ اور قلم کے ساتھ بھی اپنایا جاسکتا ہے۔ جو تصور کررہے ہیں، اسے لکھتے جایئے، یا اس کا ڈائیگرام (شکلیں) بناتے جایئے۔
تنقیدی سوچ 
 مسابقتی دور میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ طلبہ تنقیدی سوچ کے حامل ہوں۔ تنقیدی سوچ منطقی استدلال، غلطیوں سے سیکھنے، اچھے فیصلے کرنے، اور نئے خیالات کی تشکیل کا کلیدی جزو ہے۔ یہ طلبہ کو ایسی معلومات کی بڑی مقدار میں تجزیہ کرنے کی اجازت دیتی ہے جس کا وہ روزانہ سامنا کرتے ہیں اور اپنی تعلیم کے دوران منطقی نتائج اخذ کرتے ہیں۔ تنقیدی سوچ آپ کو بہتر بناتی ہے۔ آپ کسی بھی موضوع پر گہرائی سے سوچ سکتے ہیں، اور ایسا کرنے سے غلطیاں ہونے کے مواقع بہت کم ہوجاتے ہیں۔ آپ کم وقت میں بہتر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ
 طلبہ اسکول میں عام طور پر پانچ زبانیں، اردو، انگریزی، مراٹھی، ہندی، عربی، پڑھتے ہیں۔اگر آپ یہ ترتیب بنالیں کہ ان زبانوں کے روزانہ آپ کم از کم ۲؍ الفاظ سیکھیں گے تو اس طرح آپ ایک دن میں ۱۰؍ الفاظ سیکھ لیں گے اور ۳۰؍ دن میں ۳۰۰؍ الفاظ۔ اب سوچئے کہ سال کے ۳۶۵؍ دنوں میں آپ کو کتنے الفاظ یاد ہوجائیں گے!

ذہنی ارتکاز کیلئے اپنایئے یہ تکنیک جس کا نام ہے
4-2-8-2
یہ سانس لینے اور خارج کرنے کی ایک آسان تکنیک ہے جس سے ذہنی ارتکاز میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین کہتےہیں کہ اگر آپ تناؤ، اضطراب، یا دماغی صحت جیسے مسائل سے نمٹ رہے ہیں اور ذہنی ارتکاز میں مشکل پیش آتی ہے تو سانس لینے کی 4-2-8-2 تکنیک ضرور آزمایئے۔ اس تکنیک کو ’’باکس بریدنگ‘‘ یا ’’اسکوائر بریدنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
مغربی ممالک کے بعض اسکولوں میں ذہنی یکسوئی کیلئے سانس لینے کی یہ تکنیک سکھائی جاتی ہے۔ 
 آپ جانتے ہیں کہ دل کی دھڑکنوں کو قابو میں کرنے کیلئے یا دماغی تناؤ کو کم کرنے کیلئے ماہرین گہری سانس لینے، اسے چند سیکنڈ تک روکے رکھنے اور پھر خارج کرنے کی صلاح دیتے ہیں۔ اس تکنیک میں بھی یہی کرنا ہے۔ تاہم، اس میں سیکنڈز کا خیال رکھتے ہوئے سانس لینا، روکنا اور چھوڑنا ہے۔
 ۴؍ سیکنڈ تک سانس اندر کھینچئے، یعنی ۴؍ سیکنڈ تک تازہ ہوا اپنے پھیپھڑوں میں بھریئے، پھر اپنا سانس ۲؍ سیکنڈ تک روکے رکھئے، یعنی تازہ ہوا کو اپنے پھیپھڑوں میں اچھی طرح جانے دیجئے اور اس سے آکسیجن کو جذب ہوجانے دیجئے، اس کے بعد ۸؍ سیکنڈ تک سانس خارج کیجئے، یعنی ۸؍ سیکنڈ تک کاربن ڈائی آکسائیڈ اپنے جسم سے باہر نکالئے۔ پھر ۲؍ سیکنڈ تک سانس روک لیجئے۔ 
 سانس لینے کا یہ عمل کم از کم ۵؍ منٹ تک دہرایئے، یا، اس وقت کرتے رہئے جب تک آپ کی دھڑکنیں ہموار نہیں ہوجاتیں۔ اس عمل میں ذہن میں رکھئے کہ آپ کو ناک سے سانس لینا اور چھوڑنا ہے۔ منہ کا استعمال بالکل نہیں کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK