Updated: July 14, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
تھوک قیمتوں پر مبنی افراطِ زر کی شرح جون میں بڑھ کر ۸۷ء۹؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ گزشتہ سال دسمبر میں صفر سے اوپر آنے کے بعد تھوک مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی سیریز کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال جنوری کے بعد یہ گزشتہ ۱۶؍ ماہ کی بلند ترین سطح بھی ہے۔
تھوک مہنگائی۔ تصویر:آئی این این
تھوک قیمتوں پر مبنی افراطِ زر کی شرح جون میں بڑھ کر ۸۷ء۹؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ گزشتہ سال دسمبر میں صفر سے اوپر آنے کے بعد تھوک مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی سیریز کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال جنوری کے بعد یہ گزشتہ ۱۶؍ ماہ کی بلند ترین سطح بھی ہے۔ تجارت و صنعت کی وزارت کی جانب سے منگل کو جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مئی میں تھوک افراطِ زر کی شرح ۶۸ء۹؍ فیصد تھی جب کہ گزشتہ سال جون میں یہ منفی ۴ء۰؍ فی صد ریکارڈ کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سیمی فائنل میں روایتی حریف انگلینڈ اور ارجنٹائنا ایک بار پھر آمنے سامنے
تھوک مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ صنعتی پیداوار اور ایندھن و بجلی کے شعبے میں قیمتوں کا بڑھنا رہا۔ تیار شدہ مصنوعات کے زمرے میں مہنگائی کی شرح ۴۸ء۷؍ فیصد رہی۔ اس زمرے میں گزشتہ سال جون کے مقابلے میں تمباکو سے تیار مصنوعات۱۴ء۱۴؍ فی صد، کیمیائی مادے اور کیمیائی مصنوعات ۷۸ء۱۲؍فی صد، بنیادی دھاتیں ۳۱ء۱۲؍ فی صد، برقی آلات ۰۳ء۱۱؍ فیصد اور ٹیکسٹائل ۸۵ء۱۰؍ فیصد مہنگے ہوئے۔
ایندھن اور توانائی کے شعبے میں مہنگائی کی شرح ۴۱ء۲۷؍ فیصد رہی۔ اس دوران معدنی تیل کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر ۴۸ء۴۶؍ فیصد اور خام تیل و قدرتی گیس کی قیمتوں میں ۷۵ء۳۴؍ فی صد اضافہ ہوا۔ اس کے برعکس بجلی کی قیمتوں میں۷۶ء۰؍ فیصد اور کوئلہ و لِگنائٹ کی قیمتوں میں ۵۷ء۱؍فی صد کمی درج کی گئی۔
بنیادی مصنوعات کے زمرے میں تھوک مہنگائی کی شرح ۷؍ فیصد رہی۔ اس میں غیر غذائی اشیا کی قیمتیں جون ۲۰۲۵ء کے مقابلے میں۰۷ء۱۱؍ فیصد اور معدنیات کی قیمتیں ۴۵ء۹؍ فیصد بڑھیں جبکہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں ۴۹ء۵؍ فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:رنویر سنگھ کی فلم ’’دُھرندھر‘‘ کا جاپان کے باکس آفس پر مایوس کن آغاز: رپورٹ
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تھوک مہنگائی کی اوسط شرح ۳۷ء۹؍فیصد رہی۔ اس دوران ایندھن و توانائی کے شعبے میں مہنگائی کی شرح ۵۱ء۱۷؍ فیصد، تیار شدہ مصنوعات میں ۱۸ء۷؍ فیصد اور بنیادی مصنوعات کے زمرے میں ۳۵ء۵؍ فیصد درج کی گئی۔