Updated: July 14, 2026, 6:04 PM IST
| Kathmandu
نیپال کے وزیرِاعظم بالین شاہ کی حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی شدید عوامی احتجاج کا سامنا ہے۔ ۲۵؍ سالہ نوجوان کی خودسوزی کے بعد بھڑکنے والے مظاہروں نے حکومت کی کارکردگی، انہدامی مہم اور بے گھر خاندانوں کی بحالی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے۔
بالین شاہ۔ تصویر: آئی این این
جنریشن زیڈ (Gen Z) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج اور نوجوانوں کی بھرپور سیاسی سرگرمیوں کے سہارے اقتدار میں آنے والے نیپال کے وزیرِاعظم بالین شاہ کو اب شدید عوامی ناراضی کا سامنا ہے۔ ۲۵؍ سالہ نوجوان گنیش نیپالی کی خودسوزی کی کوشش کے بعد ہلاکت نے ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کو جنم دیا ہے۔ یہ احتجاج بالین شاہ کیلئے اب تک کا سب سے بڑا سیاسی امتحان تصور کیا جا رہا ہے۔ ۵؍مارچ کے انتخابات میں نوجوان ووٹروں نے روایتی سیاسی جماعتوں کے متبادل کے طور پر ان کی بھرپور حمایت کی تھی لیکن اب مظاہرین حکومت پر کمزور اور بے گھر طبقات کے تحفظ میں ناکامی اور انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام لگا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کا پناہ گزیں کیمپ پر حملہ، ۹؍ سالہ بچی سمیت ۸؍ فلسطینی شہید
احتجاج کی فوری وجہ۲۵؍ سالہ گنیش نیپالی کی موت بنی، جو سنیچر کو خود کو آگ لگانے کے بعد جھلسنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ پیر کو ان کی آخری رسومات کھٹمنڈو کے آریا گھاٹ شمشان گھاٹ پر دریائے بگمتی کے کنارے ادا کی گئیں۔ اس واقعے کے بعد شاہ حکومت، جو صرف۱۰۳؍ دن قبل اقتدار میں آئی ہے، شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی انتظامی ناکامیوں اور حالیہ انہدامی مہم کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ غیر حساس رویے نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: غیر معمولی سماجی تبدیلی، بچوں سے زیادہ پالتو جانور!
مظاہروں میں گرفتار ہونے والوں میں ۲۶؍ سالہ قانون کے طالب علم مجید انصاری بھی شامل ہیں، جو اسی جین زی تحریک کے نمایاں لیڈر تھے جس نے بالین شاہ کو اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انصاری اس وقت تریبھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بغیر کسی وجہ بتائے حراست میں لے لیا۔ مجید انصاری کے مطابق وہ کیرتی پور میں قائم عارضی رہائشی مرکز گئے تھے، جہاں ۲۶؍ اپریل کو ہونے والی انہدامی کارروائی سے بے گھر ہونے والے خاندان مقیم تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان خاندانوں کو مستقل متبادل رہائش فراہم کئے بغیر عارضی پناہ گاہ بھی خالی کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی یہودیوں میں فلسطین حامی ظہران ممدانی، نیتن یاہو سے زیادہ مقبول: پول
انصاری نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری اور تشدد کے معاملے میں حکومت سے جواب طلب کریں۔ احتجاج کے دوران کانتی پور اور ہمالیہ ٹی وی کے دفاتر کی سرگرمیاں بھی کچھ دیر کیلئے متاثر ہوئیں، کیونکہ مظاہرین نے میڈیا اداروں تک رسائی بند کر دی تھی۔ وزیرِاعظم کے دفتر پر مشتمل سرکاری کمپلیکس سنگھا دربار کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین نے بالن شاہ کے خلاف نعرے بازی کی اور معاشی طور پر کمزور طبقوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ گنیش نیپالی کے حامیوں نے انہدامی مہم سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ احتجاج میں شرکت کی، تاہم شدید بارش کے باعث بڑے احتجاجی مارچ کا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھئے: آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں ماسک پہنا شخص کون تھا؟
یہ احتجاج جزوی طور پر حکومت کی اس انہدامی مہم کے خلاف بھی ہے، جس میں کھٹمنڈو میں مبینہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس مہم کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار خاندان بے گھر ہوئے، جن کا کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں مستقل بحالی فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب حکام نے متبادل انتظامات کیے بغیر عارضی پناہ گاہیں بھی خالی کرنے کی ہدایت کر دی۔ گنیش نیپالی کی خودسوزی کے واقعے کے بعد ایسے مزید واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ دو روز کے دوران اشون راؤت (بدھا نگر، کھٹمنڈو) اور وویک منڈل (ضلع سرلاہی) نے بھی مبینہ طور پر خود کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی میں سیزیرین آپریشن پر سختی، ۱۰۰؍سے زائد ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں
دور افتادہ ضلع موگو سے تعلق رکھنے والے گنیش نیپالی کی آخری رسومات ان کے اہلِ خانہ کی موجودگی میں ادا کی گئیں۔ حکومت نے ان کے اہلِ خانہ کے مطالبات مانتے ہوئے ان کی موت کی وجوہات کی تحقیقات، مالی معاوضہ، ان کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ سرکاری حکام کے مطابق گنیش نیپالی پاسپورٹ کے حصول کیلئے دفتر آئے تھے تاکہ بیرونِ ملک روزگار حاصل کر سکیں۔ تاہم کھٹمنڈو میٹروپولیٹن سٹی کے اہلکاروں نے مبینہ پارکنگ خلاف ورزی پر ان کی موٹر سائیکل پر وہیل لاک لگا دیا، جس کے بعد انہوں نے احتجاجاً خود کو آگ لگا لی۔