جے ایم ایف سی کے عہدہ پر تقرری اور مصروفیت کے باوجود تحقیق کے شوق نے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا موقع دیا۔
شبنم شیخ۔ تصویر:آئی این این
گوا کی عدلیہ اور ریاست کے مسلم سماج کیلئے یہ نہایت فخر کا موقع ہے کہ سینئر جوڈیشل آفیسر ڈاکٹر شبنم شیخ کو قانون(لاء) کے شعبہ میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی اعزازی اور تحقیقی ڈگری سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے تحقیقی مقالہ’اے کریٹیکل اسٹڈآف سوشیو لیگل آسپیکٹس آف میٹریمونیئل ڈِسپوٹس اِن دی اسٹیٹ آف گوا‘کے ذریعے ریاست گوا میں ازدواجی تنازعات کے سماجی اور قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے مطالعہ پیش کیا، جسے قانونی حلقوں میں ایک اہم علمی کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر شبنم شیخ اس وقت بامبے ہائی کورٹ کے کولہاپور سرکٹ بینچ میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی(اوایس ڈی) کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ گوا میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس جج اور ایڈیشنل سیشنس جج جیسے اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔ ان کی تحقیق کی نگرانی معروف ماہرین قانون ڈاکٹر شبیر علی، پرنسپل وی ایم سلگاؤکر کالج آف لا، پروفیسر وشوناتھ ایم، ڈین فیکلٹی آف لا، کرناٹک یونیورسٹی دھارواڑ، پروفیسر کم روچا اور ڈاکٹر این کولوالکر نے کی۔
ڈاکٹر شبنم شیخ کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی جدوجہد، محنت اور عزم کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پیپلز ہائی اسکول، پنجی گوا سے حاصل کی، بعد ازاں دیمپے کالج، میرامار سے بی اے مکمل کیا اور پھر وی۔ ایم۔ سلگاؤکر لا کالج سے ایل ایل بی اور۲۰۰۰ء میں ایل ایل ایم مکمل کیا۔ شادی اور خاندانی ذمہ داریوں کے باوجود انہوں نے اپنی علمی جستجو جاری رکھی اور بالآخر پی ایچ ڈی کی منزل سر کر لی۔ اشرف آغامرحوم، جو ایک معروف وکیل، سماجی کارکن اور اردو اخبارات کے مضمون نگار تھے، نے اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور جج بننے کے خواب کی تعبیر پانے کے لیے ہمیشہ حوصلہ دیا۔وہ گوا کی تاریخ میں پہلی مسلم خاتون ہیں جنہیں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے منصب پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ان کا عدالتی سفر بھی نہایت شاندار رہا ہے۔۱۷؍ جولائی۲۰۰۰ء کو سول جج جونیئر ڈویژن اور جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کے عہدہ۔پر فائز ہونے کے بعد وہ مختلف اہم عہدوں پر ترقی پاتی رہیں۔۲۰۱۸ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس جج،۲۰۲۴ء میں ڈسٹرکٹ جج اور بعد ازاں گوا اسٹیٹ لیگل سروسیز اتھاریٹی کی ممبر سیکریٹری مقرر ہوئیں۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں انہیں بامبے ہائی کورٹ کے کولہاپور سرکٹ بینچ میں فی الوقت آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر شبنم شیخ کی یہ کامیابی نہ صرف گوا کی عدلیہ بلکہ پوری مسلم برادری، خصوصاً طالبات اور نوجوان خواتین کے لئے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔عدالتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیمی تحقیق کو کامیابی سے مکمل کرنا ڈاکٹر شبنم شیخ کی محنت، استقامت اور علمی وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔ انہوں نے اپنی اس کامیابی کا سہرا اپنے اہلِ خانہ کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کو بھی دیا ہے۔ معلوم ہوکہ ڈاکٹر شبنم شیخ کے شوہر سلیم شیخ، گوا پولیس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر فائز ہیں۔ ڈاکٹر شبنم شیخ کے خاندان کے افراد قانونی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر شبنم شیخ نے طلبہ کو اپنے مقصد کے تعین اور پھر اسکے مستقل حصول کیلئے کوشاں رہنے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کا پیغام دیاہے۔