• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیکابو: ہجوم جانتا ہی نہیں تھا کہ یہی شخصیت مستقبل میں مہاتما کہلائے گی

Updated: October 02, 2026, 9:43 PM IST | Sandal Razvi | Mumbai

یوں محسوس ہورہا تھا کہ میرا وجود ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ باتیں سننے لگی تو سمجھ آیا کہ گاندھی جی کیلئے کھادی صرف ایک کپڑا نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک پوری سوچ تھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

لیکچر آزادیٔ ہند کی جدوجہد پر تھا اور میری اپنی جدوجہد تھی کہ انسٹاگرام سے آزادی کیسے حاصل ہو۔ پروفیسر تاریخ پڑھا رہے تھے، مَیں میمز، احتجاج اور کمنٹ سیکشن میں عالمی امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پھر انگوٹھوں سے بغاوت ہوگئی۔ اَن میوٹ بٹن دبتے ہی ریلز کی آواز نے پوری کلاس کو میری موجودگی سے آگاہ کر دیا۔ سب کی نظریں مجھ پر، میری نظریں پروفیسر پر اور ان کی نظریں ڈسٹر پر۔ مجھے فوراً اندازہ ہوگیا کہ آج میری اپنی آزادی ختم ہونے والی ہے۔ دھم!
جھٹکے سے آنکھ کھل گئی، اور مَیں ایک ہجوم میں تھی۔ اف! یہ کیسا پسماندہ علاقہ ہے؟ پھر لوگوں کے لباس پر غور کیا۔ مرد کرتے دھوتی میں تھے۔ اندازہ لگایا کہ شاید ہندوستان ہی کے کسی پچھڑے علاقے میں ہوں۔ سڑکیں تو کپڑوں سے بھی زیادہ پرانی لگ رہی تھیں، اور سب لوگ بغیر موبائل فون کے اس قدر مصروف لگ رہے تھے کہ مجھے میرا وجود ناکارہ محسوس ہونے لگا۔

یہ بھی پڑھئے: پیکابو: گلیلیو گلیلی صاحب! چٹکی بجاتے اور سارا منظر بدل جاتا تھا

ماجرا سمجھنے کیلئے ہجوم چیرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی کہ کسی کی آواز آئی، ’’کھادی۔ ‘‘ پھر کسی نے کہا، ’’موہن گاندھی۔ ‘‘ مَیں اچانک رُک گئی۔ گاندھی؟ یعنی گاندھی جی؟ یعنی نوٹ پر جس شخصیت کو بچپن سے دیکھتی آرہی ہوں، وہ گاندھی جی! پھر اتنی تیزی سے پلٹی کہ ٹوکری اٹھائے ایک کمزور سے شخص سے ٹکرا گئی۔ اس سے پہلے کہ معافی تلافی کرتی، آنکھیں اس شخصیت پر ٹھہر گئیں ؛ گول چشمہ، سادہ لباس، اور پُرسکون چہرہ مگر یہ وہ گاندھی جی نہیں تھے جنہیں مَیں جانتی تھی۔ نہ کرنسی نوٹوں والے، نہ سرکاری دفاتر کی دیواروں پر فریم میں لگے، اور نہ ہی وہ فلموں والے ڈرامائی انداز میں نظر آرہے تھے، جہاں بیک گراؤنڈ میوزک میں سب کچھ مدھم ہونے لگتا ہے۔ وہ بس ایک عام انسان کی طرح کھڑے لوگوں کی باتیں سن رہے تھے۔ وہ قدرے جوان تھے۔ ان کی باتیں کھادی کے متعلق تھیں۔ مَیں وہاں یوں کھڑی تھی جیسے اس میٹنگ کا ایک اہم حصہ ہوں لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ وہاں موجود کوئی بھی شخص مجھے نہیں دیکھ رہا تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ میرا وجود ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ باتیں سننے لگی تو سمجھ آیا کہ گاندھی جی کیلئے کھادی صرف ایک کپڑا نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک پوری سوچ تھی۔ اپنے کام پر بھروسہ کرنا، اپنے لوگوں کی محنت کا احترام کرنا، اور ہندوستان کو اپنی چیزوں کیلئے دوسروں پر مکمل طور پر منحصر نہ ہونے دینا۔ وہ ہجوم کو یاد دلا رہےتھے کہ ہم کون ہیں۔ ہندوستان کے کاریگر، ہمارے گاؤں، ہمارے ہنر، ہماری اپنی چیزیں اور ہماری ثقافت۔ مجھے سمجھ آیا کہ یہ عظیم انسان کسی ایسی چیز کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے جس کی اہمیت میری نسل کو بہت بعد میں سمجھ آئے گی۔ عجیب بات یہ تھی کہ ان کا رویہ کسی ہیرو کی طرح نہیں تھا۔ وہ نرم انداز میں گفتگو کرتے، پہلے سوچتے، دوسروں کی باتیں سنتے، اور پھر فیصلہ کرتے۔ اپنی گفتگو سے وہ لوگوں کا رہن سہن، ان کی سوچ اور ملک کی چیزوں کے تئیں شہریوں کا اعتماد بدلنا چاہتے تھے۔ ٹھوڑی پر ہتھیلی جمائے ان کی باتیں سن رہی تھی کہ تبھی ایک دلچسپ بات یاد آئی اور میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔

یہ بھی پڑھئے: پیکابو: ’’ابنِ بطوطہ نے ہاتھ میں پکڑے فون کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھا‘‘

یہی شخص کسی زمانے میں ’’فرنگی‘‘ بننے کی کوشش کرچکا تھا لیکن اب سراپا ’’دیسی‘‘ تھا۔ مشاہدہ کے دوران مَیں نے جانا کہ دوسری ثقافت سے سیکھنا ایک بات ہے اور خود کو مٹا کر کسی اور جیسا بننے کی کوشش کرنا دوسری۔ غالباً وہاں بھرے پُرے مجمع میں مَیں واحد ایسی شخصیت تھی جسے معلوم تھا کہ یہی شخص چند برسوں بعد مہاتما گاندھی کہلائے گا۔ یہ سوچ آتے ہی دھڑکنیں تیز ہوگئیں کہ جیسے مجھے ایسا قیمتی سراغ مل گیا ہے جو اَب تک کسی کے پاس نہیں۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ تاریخ نے مجھے کبھی اصل گاندھی جی سے ملوایا ہی نہیں تھا۔ اس نے مجھے صرف ان کا آخری روپ دکھایا تھا۔ پھر خواہش ہوئی کہ کیوں نہ گاندھی جی سے بات چیت کروں۔ قدم بڑھائے ہی تھے کہ لگا ہجوم کو میرے ارادوں کا علم ہوچکا ہے۔ سبھی مجھے دیکھنے لگے۔ مَیں خوفزدہ ہوگئی اور جھٹکے سے کھڑی ہوگئی۔ لیکن یہ کیا؟ 
مَیں تو اسی کلاس روم میں تھی جہاں ڈسٹر اُڑتا ہوا میرے دائیں کندھے پر لینڈ ہوچکا تھا۔ پروفیسر مجھے ڈانٹ رہے تھے اور پوری کلاس مجھے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے مَیں نے کوئی بڑا جرم کر دیا ہو۔ مَیں شرمندہ سی سر جھکائے اپنے نوٹس اور موبائل اسکرین کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے تک جن سیاسی میمز پر ہنس رہی تھی، اب وہ اتنے مزاحیہ نہیں لگ رہے تھے۔ اب مَیں گاندھی جی کو صرف ایک پُرسکون آزادی پسند رہنما کے طور پر نہیں جانتی تھی بلکہ مَیں اس انسان کو جانتی تھی جو یہ بھی سوچتے تھے کہ کوئی بڑا اور اہم کام کس طرح منظم انداز میں کرنا ہے اور اس دوران لوگوں پر کیا اثر پڑے گا۔ 
پھر پروفیسر نے پوچھا، ’’بتاؤ گاندھی جی کی سب سے اہم سوچ کیا تھی؟‘‘ مَیں نے کہا، ’’مَیں ابھی ان سے مل کر آرہی ہوں۔ ‘‘ دوسرا ڈسٹر اُڑتا ہوا میرے پاس آیا جس سے بچنے کی کوشش میں مَیں دائیں جانب مڑ گئی اور سیدھا اپنے بیڈ سے نیچے گرگئی۔ 
کالم نگار رضوی کالج، باندرہ میں سول انجینئرنگ سالِ دوم کی طالبہ اور تعلیمی انقلاب کی سابق طالبہ ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK