میری زندگی میں ایک شکایت بھی ہے۔ بعض لوگ میری سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کی نجی گفتگو بھی ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنے لگتے ہیں۔ ذرا سوچئے، کیا کسی کی ذاتی بات کو اس کی مرضی کے بغیر محفوظ کرنا مناسب ہے؟
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 5:39 PM IST | Muhammad Wamique | Mumbai
میری زندگی میں ایک شکایت بھی ہے۔ بعض لوگ میری سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کی نجی گفتگو بھی ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنے لگتے ہیں۔ ذرا سوچئے، کیا کسی کی ذاتی بات کو اس کی مرضی کے بغیر محفوظ کرنا مناسب ہے؟
میں وہی ہوں جس کے سامنے لوگ بیٹھ کر گھنٹوں بولتے ہیں۔ کوئی تقریر کرتا ہے، کوئی انٹرویو دیتا ہے اور کوئی اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ میں خاموشی سے سب سنتا ہوں اور اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا جاتا ہوں۔ جی ہاں میں ہوں وائس ریکارڈر، آوازوں کو محفوظ رکھنے والا ایک خاموش ساتھی۔ میری زندگی بظاہر بڑی سادہ ہے مگر میرے تجربات کی دنیا کافی وسیع ہے۔ کبھی میں کسی صحافی کی جیب میں ہوتا ہوں، کبھی کسی استاد کی میز پر رکھا ہوتا ہوں، کبھی کسی طالب علم کے ہاتھ میں نظر آتا ہوں اور کبھی کسی اہم اجلاس میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہوں۔ لوگ مجھے ایک چھوٹا سا آلہ سمجھتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ میری چھوٹی سی جسامت میں کتنی بڑی بڑی باتیں محفوظ ہو سکتی ہیں !
یہ بھی پڑھئے؛ آٹو کریکٹ کی آپ بیتی
میری خدمات صحافت کے ساتھ تعلیم کے میدان میں بھی اہم ہیں۔ استاد محترم کا لیکچر ہو، کسی ماہر کی علمی گفتگو ہو یا کسی اہم موضوع پر ہونے والی بحث، میں اسے محفوظ کر سکتا ہوں۔ طالب علم بعد میں ریکارڈنگ سنتا ہے، مشکل نکات کو سمجھتا ہے اور اپنے نوٹس مکمل کرتا ہے۔ کبھی وہ کوئی بات بھول جاتا ہے تو مجھے چلا کر کہتا ہے ’’ارے واہ! یہ نکتہ تو میں بھول ہی گیا تھا ایسے موقعوں پر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری خاموش خدمت کسی کے علم میں اضافے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ میری دنیا کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو مجھے محض ایک آلہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ یادوں کا محافظ بنا دیتا ہے۔ کسی بزرگ کی نصیحت، کسی استاد کا قیمتی مشورہ، کسی علمی مجلس کی گفتگو یا کسی تقریب میں کی گئی یادگار تقریر۔ یہ سب وقت کے ساتھ ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن اگر کوئی آواز محفوظ ہو تو اسے دوبارہ سننے کا موقع باقی رہتا ہے۔ یہی میری زندگی کا ایک خوب صورت پہلو ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ای بائیک کی آپ بیتی
میری زندگی میں ایک شکایت بھی ہے۔ بعض لوگ میری سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں کی نجی گفتگو بھی ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنے لگتے ہیں۔ ذرا سوچئے، کیا کسی کی ذاتی بات کو اس کی مرضی کے بغیر محفوظ کرنا مناسب ہے؟ میری افادیت کا مقصد علم، تعلیم، تحقیق اور مفید یادوں کی حفاظت ہے، نہ کہ کسی کی نجی زندگی میں مداخلت۔ میں تو ایک بے زبان آلہ ہوں ؛ مجھے درست یا غلط مقصد کیلئے استعمال کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔
وقت بدلا تو میری شکل بھی بدل گئی۔ ایک زمانہ تھا جب مجھے الگ سے خریدنا پڑتا تھا اور میری مخصوص جسامت ہوا کرتی تھی۔ پھر ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور میں موبائل جیسے چھوٹے سے آلے میں بھی جگہ پانے لگا۔ اب لوگ چند لمحوں میں ریکارڈنگ شروع کر سکتے ہیں۔ آخر میں بس اتنا عرض ہے کہ میں خود نہیں بولتا مگر دوسروں کی آوازوں کو محفوظ کرتا ہوں۔ میں کوئی کہانی نہیں سناتا مگر ہزاروں کہانیوں کا خاموش گواہ بن جاتا ہوں۔
کالم نگارانوار جامع مسجد، گوونڈی میں بحیثیت مدرس فرائض انجام دے رہے ہیں