• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آٹو کریکٹ کی آپ بیتی

Updated: October 23, 2026, 9:01 PM IST | Khatik Bushra | Mumbai

میری زندگی کا آغاز روزانہ صبح اس وقت ہوتا ہے جب آپ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ کسی عزیز کو ’’Good morning‘‘ کا میسج بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اپنی روایتی پھرتی دکھاتے ہوئے اسے فوراً’’Good mourning‘‘ (ماتم) میں تبدیل کر دیتا ہوں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

میں کوئی انسان یا فرشتہ نہیں، بلکہ موبائل فون کی دنیا کا وہ بن بلایا مہمان ہوں جو ہر وقت آپ کی انگلیوں کے نیچے بیٹھا رہتا ہے۔ میرا اصل کام تو لوگوں کی املا کی غلطیاں درست کرنا تھا لیکن قسمت دیکھئے کہ میں انٹرنیٹ کی دنیا کا ایک ایسا مایہ ناز کامیڈین بن گیا ہوں جو سنجیدہ ترین پیغامات کو بھی چند سیکنڈز میں مزاحیہ ڈرامے میں بدل دیتا ہے۔ جی ہاں ! میں ’آٹو کریکٹ‘(Autocorrect) ہوں، میری کہانی بڑی دلچسپ اور عبرت ناک ہے، آئیے میں خود آپ کو اپنی داستانِ حیات سناتا ہوں۔ 
میری زندگی کا آغاز روزانہ صبح اس وقت ہوتا ہے جب آپ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ کسی عزیز کو ’’Good morning‘‘ کا میسج بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اپنی روایتی پھرتی دکھاتے ہوئے اسے فوراً’’Good mourning‘‘ (ماتم) میں تبدیل کر دیتا ہوں۔ میرا دل تو نیکی کا ہوتا ہے، لیکن لوگ مجھے بلاوجہ اپنی زندگی کا `’ولن‘ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کو ئی دوستوں سے گپ شپ میں مصروف ہوتا ہے، اور کوئی اپنے دفتر کے باس یا استاد کو سنجیدہ درخواست بھیج رہا ہوتا ہے۔ میں سب کی ’مدد‘ کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہوں، مگر افسوس! میری ان’ مخلصانہ‘ خدمات کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے لوگ ہمیشہ مجھے ہی کوسنے لگتے ہیں۔ جب میں خاموش رہوں تو کہتے ہیں کہ یہ کام نہیں کرتا، اور جب میں اپنی غیر معمولی ذہانت دکھاؤں تو سر پکڑ کر کہتے ہیں ’’عجیب مصیبت ہے یہ آٹو کریکٹ!‘‘

یہ بھی پڑھئے: ای بائیک کی آپ بیتی

میری سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ اپنی ہر ناکامی کا قصور وار مجھے ہی ٹھہراتے ہیں۔ کوئی غلط لفظ لکھ دے تو میری غلطی، کوئی پیغام غلطی سے کسی دوسرے شخص کو بھیج دے تو میری شامت، اور اگر موبائل ہینگ ہو جائے تو بھی غصہ مجھ پر ہی نکلتا ہے۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ میں آٹو کریکٹ نہیں بلکہ اس کائنات کی تمام تر پریشانیوں کا مستقل ذمہ دار ہوں۔ کاش! عدالت انصاف میں میرا بھی کوئی وکیل ہوتا جو دنیا کے سامنے میری بے گناہی ثابت کر سکتا!ایک دن میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایک دن کی چھٹی کر لی جائے اسی دوران ایک صاحب نے جلدی میں ایک پیغام لکھا اور بھیج دیا۔ میں بالکل خاموش رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ غصے سے چِلائے، ’’آج یہ آٹو کریکٹ کام کیوں نہیں کر رہا؟‘‘ میں حیران رہ گیا کہ جب کام کروں تو مصیبت، اور نہ کروں تو بھی مصیبت! سچ کہوں تو انسانوں کو خوش کرنا واقعی میرے بس کی بات نہیں۔ 
آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ الفاظ آپ کے ہوتے ہیں اور جذبات بھی آپ کے، مگر انہیں ایک نیارنگ دینا میری ایک چھوٹی سی محبت ہے۔ اب مجھے اجازت دیجئے کیونکہ کوئی نیا پیغام ٹائپ ہو رہا ہے اور میری راہ دیکھ رہا ہے۔ کیا پتا، آئندہ میں کسی کی اداس دعا کو خوشی کی مبارک باد میں بدل دوں !
کالم نگار نےاینگلو جونیئر کالج آف ایجوکیشن، نندوربار سے ڈی ایڈ مکمل کیا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK