• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ای بائیک کی آپ بیتی

Updated: October 16, 2026, 6:28 PM IST | Ansab Arman | Mumbai

میری سب سے بڑی خامی ہے میری حد سے زیادہ خاموشی! اب آپ ہی بتائیے، اگر میں کسی کے بالکل قریب سے گزر جاؤں اور اسے کانوں کان خبر نہ ہو تو یہ خوبی ہے یا مصیبت؟

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دوستو! پہچانا مجھے؟ ارے بھئی، میں وہی ہوں جو پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے دور میں آپ کی جیب کا بوجھ ہلکا کرنے اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کا خواب لئے سڑکوں پر دوڑ رہی ہوں۔ کوئی مجھے الیکٹرک بائیک کہتا ہے تو کوئی ای بائک (E-Bike) کے نام سے پکارتا ہے۔ میری پیدائش یعنی۱۸۹۰ء سے لے کر آج تک میرے اندر کئی تبدیلیاں آئیں اور اب تو میں نت نئے، خوبصورت اور جدید ماڈلوں میں آپ کے سامنے موجود ہوں۔ بچوں کی سواری سے لے کر روزمرہ کے سفر تک، میں ہر عمر کے لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہوں۔ لیکن صاحبو! میری زندگی صرف خوبیوں کی کہانی نہیں، کچھ دلچسپ واقعات اور پریشانیاں بھی ہیں، جن سے آپ کو آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔ تو آئیے، آج میں خود آپ کو اپنی زندگی کی آپ بیتی سناتی ہوں۔ 
صاحبو! سب سے پہلے تو میری خوبیوں کا تذکرہ سن لیجئے۔ میں ہر ہفتے پیٹرول کے خرچ میں آپ کے تقریباً ۵۰۰؍روپے تک بچا سکتی ہوں۔ اب ذرا سوچئے، جب پیٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں، لوگ اپنی گاڑیوں کے ٹینک بھرانے کیلئے پیٹرول پمپوں کے چکر کاٹ رہے ہوں، ایسے میں مجھے چلانے کے لیے پیٹرول کی ضرورت ہی نہیں ! نہ پیٹرول بھرانے کی جھنجھٹ، نہ کک مارنے کی مشقت اور نہ ہی پیٹرول پمپ پر قطار میں کھڑے ہونے کا انتظار۔ بس بیٹری چارج کیجیے اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جائیے۔ میری ایک اور خوبی یہ ہے کہ میں پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی طرح شور شرابا نہیں کرتی اور نہ ہی چلتے وقت دھویں کی صورت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتی ہوں۔ یوں میں فضائی آلودگی اور شور کی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہوں لیکن جناب! میری کہانی کا یہ صرف روشن پہلو ہے، دوسرا رخ بھی ذرا ملاحظہ فرمائیے۔

یہ بھی پڑھئے: Gavel کی آپ بیتی

میری سب سے بڑی خامی ہے میری حد سے زیادہ خاموشی! اب آپ ہی بتائیے، اگر میں کسی کے بالکل قریب سے گزر جاؤں اور اسے کانوں کان خبر نہ ہو تو یہ خوبی ہے یا مصیبت؟میری دوسری بڑی پریشانی ہےبیٹری!شروع کے دنوں میں تو سب خوشگوار لگتا ہے۔ بیٹری پوری چارج کی، سواری نکالی اور چل پڑے سیر سپاٹے پر لیکن مصیبت تب شروع ہوتی ہے جب کسی چڑھائی کی نوبت آ جائے۔ بیٹری کا فیصد دیکھتے ہی دیکھتے ۹۰؍سے۲۰؍ پر آگرے تو سوار کا دل بھی بیٹری کے ساتھ ہی بیٹھنے لگتا ہے۔ آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ مجھے خریدنے سے پہلے میری خوبیوں اور خامیوں کو ضرور پرکھئے۔ یاد رکھئے، اصل سمجھ داری صرف پیسے بچانے میں نہیں، بلکہ صحیح انتخاب میں ہے۔ اب اجازت دیجئے، میری بیٹری چارج ہو چکی ہے اور مجھے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہونا ہے!
مضمون نگارسٹی کالج، مالیگاؤں میں گریجویشن کے طالب ہیں 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK