آبنائے ہرمز کی تفصیل کئی حوالوں سے آپ تک پہنچی ہوگی۔ اسے انگریزی میں اسٹریٹ آف ہرمز (Strait of Hormuz) اور ہندی میں ’’ہرمز جل ڈمرو مدھیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ حالیہ تاریخ میں اسے کبھی بند نہیں کیا گیا۔ اب بھی پوری طرح بند نہیں ہے مگر کھلی ہوئی بھی نہیں ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
آبنائے ہرمز کی تفصیل کئی حوالوں سے آپ تک پہنچی ہوگی۔ اسے انگریزی میں اسٹریٹ آف ہرمز (Strait of Hormuz) اور ہندی میں ’’ہرمز جل ڈمرو مدھیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ حالیہ تاریخ میں اسے کبھی بند نہیں کیا گیا۔ اب بھی پوری طرح بند نہیں ہے مگر کھلی ہوئی بھی نہیں ہے۔ فی الحال یہاں سے وہی جہاز گزر رہے ہیں جن کے گزرنے کی ایران اجازت دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑا نے بیٹی مالتی کی پرائیویسی پر زور دیا، خوفناک واقعے کا انکشاف
ایران نے معمولی مدت میں ثابت کردیا کہ وہ کتنا اہم ہے اور ہرمز کتنی اہم۔ یہ آبنائے تیل پیدا کرنے والے ملکوں مثلاً سعودی، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیج عمان اور خلیج فارس سے ملاتی ہے۔ اس سے یومیہ ۲۰؍ ملین بیرل خام یا تیار تیل کی نقل و حمل ہوتی ہے اور پوری دُنیا کے تیل کا ۲۰؍ فیصد سے زائد حصہ منزل مقصود پر پہنچنے کیلئے اسی رہ گزر کا محتاج ہے۔ اس کے بند کئے جانے سے چین سب سے زیادہ متاثر ہوسکتا تھا مگر اُس نے ایران کے ساتھ اپنے معاملات بالکل ٹھیک رکھے جس کا نتیجہ ہے کہ کسی کے تیل جہاز گزریں نہ گزریں چینی جہاز گزر رہے ہیں۔ ہندوستان بھی ایرانی تیل کے خریدارو ں میں شامل ہے مگر وہ اور بھی کئی ملکوں پر انحصار کرتا ہے اس لئے اس کی ضرورتیں پوری ہونے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے تھی مگر مشکل یہ ہے کہ ہندوستانی تیل درآمدات کا ۵۰؍ فیصد اسی آبنائے سے گزر کر ہندوستان پہنچتا ہے۔ اس اعتبار سے ہند سمیت متعدد ملکوں کیلئے اس آبنائے کی اہمیت غیر معمولی ہے جس کو سمجھنے کیلئے یہ جان لینا کافی ہے کہ ہرمز سے آزادانہ نقل و حمل بند ہوتے ہی ٹرمپ بلبلانے لگے کیونکہ اس سے عالمی معیشت خطرہ میں پڑ رہی ہے جس کا خمیازہ واشنگٹن کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے نیٹو سے وابستہ کئی ملکوں سے بہ اصرار کہا کہ وہ اس آبنائے کو کھلوانے میں امریکہ کی مدد کریں مگر کوئی بھی ملک ٹرمپ کا ساتھ دے کر اپنے ہاتھ میلے نہیں کرنا چاہتا۔ ان ملکوں کے نزدیک یہ کوئلے کی دلالی ہے۔ یہ اس لئے بھی ہوا کہ اب تک کسی ملک پر واضح نہیں ہے کہ اس جنگ کا مقصد کیا ہے اور امریکہ بہادر نے اس میں خو د کو کیوں جھونکا۔ اگر ٹرمپ نیتن یاہو کے بہکاوے میں آگئے ہیں تو بہکنے کی سزا خود بھگتیں۔ اُن کے خیال میں یہ جنگ امریکہ کا سرپھرا پن ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کے اعلیٰ سیکوریٹی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق
دنیا کو اب سے پہلے کا سرپھرا پن گوارا ہوگیا تھا جب امریکہ نے عراق پر عام تباہی کے ہتھیاروں کی تہمت لگا کر ’’مملکت ِصدام‘‘ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی حتیٰ کہ صدام حسین کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ وہ سرپھرا پن اس لئے گوا را تھا کہ اس میں ’’سر‘‘ پوری طرح ’’پھرا‘‘ نہیں تھا اور سفارتی عمل کی جعلی ہی سہی، پاسداری کی گئی نیز حلیف ملکوں کو ’’اعتماد‘‘ میں لیا گیا تھا۔ ایران پر حملے کیلئے امریکی صدر نے کسی سے مشورہ نہیں کیا، اپنے اراکین پارلیمان سے بھی نہیں۔ مگر آبنائے ہرمز کو بند کرکے ایران نے دُنیا کو ڈرانے والے صدر ٹرمپ کو اس طرح گھیر لیا ہے کہ ان کی بولتی بند ہے۔ آپ کہیں گے وہ تو ضرورت سے زیادہ بول رہے ہیں۔ جی نہیں، وہ بولتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور بکواس کررہے ہیں۔ اتنے ملکوں نے جنگ میں شرکت سے منع کردیا ہے کہ بوکھلائے ٹرمپ کا اصل بوکھلانا ابھی باقی ہے۔ ایسے میں ’’میک امریکہ گریٹ اگین‘‘ کے نعرہ پر بھروسہ کرنے والوں کو چاہئے کہ اُنہیں روزانہ فون کریں اور پوچھیں کہ کیا امریکہ گریٹ بنا؟ کیوں نہیں بنا؟ کب بنے گا؟ کیا جنگ ہارنے کے بعد بنے گا؟