بولر نے کہا کہ ”میں اب ٹرمپ کو پہچان نہیں پاتی، پہلے میں انہیں اپنا ”عزیز دوست“ مانتی تھی۔“ انہوں نے نیتن یاہو کے واشنگٹن کے متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی فیصلہ سازی پر غیر ضروری اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 7:20 PM IST | Washington
بولر نے کہا کہ ”میں اب ٹرمپ کو پہچان نہیں پاتی، پہلے میں انہیں اپنا ”عزیز دوست“ مانتی تھی۔“ انہوں نے نیتن یاہو کے واشنگٹن کے متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی فیصلہ سازی پر غیر ضروری اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی سابق عہدیدار کیری پریجین بولر نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنی مہم ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ (ماگا MAGA) سے منہ موڑنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی اسرائیلی اثر و رسوخ کے تحت تشکیل دی جا رہی ہے۔
پیر کے دن ’پیئرز مورگن ان سینسرڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بولر نے کہا کہ ”میں اب ٹرمپ کو پہچان نہیں پاتی، پہلے میں انہیں اپنا ”عزیز دوست“ مانتی تھی۔“ بولر نے اسرائیل اور اس کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”میرے خیال میں ہم ایک مقبوضہ قوم ہیں۔ ایک غیر ملکی ملک نے ہماری حکومت پر قبضہ کر رکھا ہے۔“ انہوں نے نیتن یاہو کے واشنگٹن کے متعدد دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ امریکی فیصلہ سازی پر غیر ضروری اثر و رسوخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی وارننگ، امریکہ کو ایک اور ویتنام کا سامنا ہو سکتا ہے
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بولر کو وہائٹ ہاؤس کے ’ریلیجئس لبرٹی کمیشن‘ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً ۲۰ برسوں سے ٹرمپ کی وفادار حامی رہی ہیں لیکن اب وہ خود کو شدید مایوس محسوس کرتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عام قدامت پسند ووٹرز تیزی سے انتظامیہ کی موجودہ سمت کی مخالفت کر رہے ہیں۔
سابق امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ "ماگا سے جڑے لوگوں سے میری گفتگو ہوتی رہتی ہے... اوسط امریکی اس جنگ کے بالکل خلاف ہے۔“ بولر کے مطابق، بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت کی وجہ قومی مفادات نہیں، بلکہ بیرونی دباؤ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی رائے دہندگان ایسے لیڈروں کی حمایت نہیں کریں گے جو غیر ملکی تنازعات سے بچنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن عمل اس کے برعکس کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے مشیروں کو ایران جنگ شروع کرنے پر پچھتاوا: رپورٹ
امریکی عہدیدار جو کینٹ کا استعفیٰ
واضح رہے کہ بولر کے یہ سخت تبصرے، امریکی ’قومی مرکز برائے انسداد دہشت گردی‘ کے سربراہ جو کینٹ کے استعفیٰ کے بعد سامنے آئے ہیں۔ `ایکس‘ پر پوسٹ کئے گئے ایک کھلے خط میں کینٹ نے صاف لفظوں میں کہا کہ میں ضمیر کی بنیاد پر (مشرق وسطیٰ میں) جاری جنگ کی حمایت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایران سے امریکہ کو ”کوئی فوری خطرہ“ لاحق نہیں تھا، جیسا کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا۔
کینٹ نے لکھا کہ ”میں ضمیر کی بنیاد پر جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا... یہ واضح ہے کہ ہم نے اس جنگ کو اسرائیل اور اس کی طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کی وجہ سے شروع کیا ہے۔“ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میڈیا اور حکام پر مشتمل مخصوص گروہ نے اس تنازع کے گرد بیانیہ تشکیل دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹوں کی بارش، کمپاؤنڈ میں آگ لگ گئی
کینٹ، جنہیں جنگ کا تجربہ حاصل ہے، نے اس تنازع میں انسانی جانوں کے ضیاع کے متعلق خبردار کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ امریکی فوج کے ذریعے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق، اب تک ۱۳ امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً ۲۰۰ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ سے پالیسی پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے لکھا کہ صدر اب بھی ’راستہ بدلنے اور نئی راہ متعین کرنے‘ کی صلاحیت رکھتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے مزید امریکیوں کو ایسی جنگ میں بھیجنے کے خلاف متنبہ کیا جس سے ملک کو کوئی واضح فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔