Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے ٹرمپ کو ایران جنگ پر ’’شائستگی‘‘ سے لتاڑا

Updated: March 18, 2026, 7:20 PM IST | Washington

آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے ٹرمپ کو ایران جنگ پر ’’شائستگی‘‘ سے لتاڑا ، انہوں نے وہائٹ ہاؤس میں اپنے سالانہ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایران میں جنگ، تارکین وطن اور برطانیہ کے وزیر اعظم کے ساتھ تعلقات سمیت متعدد امور پر شائستگی لیکن مضبوطی سے اختلاف کیا۔

Irish Prime Minister Michael Martin, US President Donald Trump. Photo: PTI
آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر: پی ٹی آئی

   آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے ٹرمپ کو ایران جنگ پر ’’شائستگی‘‘ سے لتاڑا ، انہوں نے وہائٹ ہاؤس میں اپنے سالانہ دورے کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایران میں جنگ، تارکین وطن اور برطانیہ کے وزیر اعظم کے ساتھ تعلقات سمیت متعدد امور پر شائستگی لیکن مضبوطی سے اختلاف کیا۔ اوول آفس میں سینٹ پیٹرک ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے۶۵؍ سالہ آئرش لیڈر نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا ،’’ ہم ایک چھوٹی قوم ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ تنازعات کا پرامن حل نکالا جائے،‘‘گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی مارٹن نے ٹرمپ کے ساتھ نرم لیکن ثابت قدم رویہ اپنایا۔جبکہ امریکی صدر نے زیادہ تر وقت اپنے اتحادیوں کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم مارٹن نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ یورپی لیڈر اور امریکی انتظامیہ مل کر کام کریں گے، اور امید ہے کہ ہم کسی مشترکہ نکتے پر پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

تاہم۷۹؍ سالہ ٹرمپ مطمئن نہیں تھے۔ انہوں نے یورپ پر ایران کے معاملے میں امریکہ کی مدد نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔‘‘انہوں نے ایرانی لیڈروں کو ’’ہٹلر کے بعد بدترین‘‘ قرار دیا۔بعد ازاں ایک اور نازک لمحہ اس وقت پیش آیا جب آئرش وزیر اعظم نے برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر کا دفاع کیا۔ ٹرمپ نے اسٹارمر پر ایران کے معاملے میں مدد نہ کرنے پر تنقید کی تو مارٹن نے کہا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بہت مخلص اور معقول شخص ہیں۔‘‘ٹرمپ نے اس موقع پر عالمی جنگ کے وقت کے برطانوی لیڈر ونسٹن چرچل کا مجسمہ دکھاتے ہوئے کہا کہ’’ اسٹارمر کوئی ونسٹن چرچل نہیں ہیں۔‘‘ اس پر مسکراتے ہوئے مارٹن نے ٹرمپ کا بازو چھوتے ہوئے کہا، ’’آئرلینڈ میں ان (چرچل) کے بارے میں تھوڑا مختلف نقطہ نظر ہے، انہوں نے ہمارے لیے کچھ مشکلات پیدا کی تھیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر کا ایران جنگ کے خلاف استعفیٰ

اس کے علاوہ مارٹن نے یورپ میں ہجرت کے حوالے سے ٹرمپ کے خیالات کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے پہلے، میں یہ کہوں گا کہ یورپ اب بھی رہنے کے لیے ایک بہترین جگہ ہے۔بعض اوقات  یورپ کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں مہاجرین کا سیلاب آ گیا ہے۔‘‘ایران کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ ایک اور غلطی کر بیٹھے جب انہوں نے آئرش صدر کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کیتھرین کونولی کو  He))کہہ کر مخاطب کیا، حالانکہ وہ ایک خاتون (she)ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK