فرانس کے وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں گھروں کے مالی حالات اور مجموعی معیشت پر بوجھ بڑھا رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: April 29, 2026, 9:40 PM IST | Paris
فرانس کے وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں گھروں کے مالی حالات اور مجموعی معیشت پر بوجھ بڑھا رہی ہیں۔
فرانسیسی وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں گھروں کے مالی حالات اور مجموعی معیشت پر بوجھ بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے سینیٹ میں کہا کہ جب تک یہ تنازعات جاری رہیں گے، ان کے اثرات خاص طور پر فرانسیسی عوام کی جیبوں پر اور پوری معیشت میں محسوس کیے جائیں گے۔لیکورنو نے اس صورتحال کو ’’قیمتوں کا بحران‘‘ قرار دیا، جو پیداواری قلت کی بجائے درآمد شدہ مہنگائی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ بعد ازاں سمندری نقل و حمل میں رکاوٹوں اور مذاکرات کے تعطل نے بازار میں قیمتیں بڑھا دی ہیں۔انہوں نے توانائی کے شعبے میں منافع پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر معمولی منافع ہو رہا ہے تو اسے دوبارہ تقسیم کرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
بعد ازاں وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ یہ بحران طویل رہے گا، تاہم حکومت کسی کو بھی بغیر مدد کے نہیں چھوڑے گی۔ساتھ ہی اس صورتحال سے متاثرہ شعبوں کی امداد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: پوری دنیا میں امریکہ کا تعلق صرف اسرائیل سے ہے: واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر
واضح رہے کہ ۴؍ سال سے زائد عرصے سے جاری یوکرین اور روس کی جنگ کے سبب گھریلو استعمال کی گیس کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کا نتیجہ مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہورہا ہے، اس کے علاوہ حالیہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین جنگ نے دنیا میں تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اور تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھنے کو ملا۔ جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑا، اور وہ مہنگائی کو برداشت کرنے پر مجبور ہو گئے۔عوام کو ہونے والی انہیں تکالیف کا ذکر فرانسیسی وزیر اعظم نے کیا۔