Updated: April 29, 2026, 10:06 PM IST
| New York
فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے استعمال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کے نائب چیئرمین عمر ہادی نے سلامتی کونسل کے مباحثے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ان یکطرفہ اقدامات کو روکے جو شہر کی آبادیاتی اور ثقافتی شناخت کو متاثر کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کیلئے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ انہوں نے انتباہ جاری کیا کہ موجودہ پیش رفت خطے کو ”تقسیم اور مایوسی“ کی طرف دھکیل رہی ہے۔
فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کے استعمال سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کے نائب چیئرمین عمر ہادی نے سلامتی کونسل کے مباحثے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے کی صورتحال میں امن کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں اور اس کے بجائے نقل مکانی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہادی نے بیان دیا کہ ”صورتحال... امن کی طرف نہیں بڑھ رہی ہے۔ بلکہ گہری تقسیم، بے دخلی اور مایوسی کی طرف بڑھ رہی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی پالیسیاں غیر قانونی طریقوں اور مسلسل قبضے کے ذریعے بحران کو مزید شدید بنا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پانی کواجتماعی سزا کے ہتھیارکے طور پراستعمال کررہا: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈر
ہادی نے زور دیا کہ غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ایک واحد سیاسی اور علاقائی اکائی کے طور پر سلوک کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کسی بھی ایسے نقطہ نظر کو مسترد کر دیا جو غزہ کو علیحدہ انسانی مسئلے کے طور پر الگ کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ”امن تقسیم کے ذریعے نہیں آئے گا۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ تمام علاقوں میں جاری پیش رفت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
ہادی نے یروشلم میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ان یکطرفہ اقدامات کو روکے جو شہر کی آبادیاتی اور ثقافتی شناخت کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات فلسطینیوں کو ان کے تاریخی اور مذہبی ورثے سے محروم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے دو فلسطینی مبلغین پر مسجد اقصیٰ میں ایک ہفتے کیلئے پابندی عائد کر دی
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ہادی نے شہریوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کرنے اور الحاق، بستیوں کی توسیع اور اجتماعی سزا جیسی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر مزید زور دیا کہ وہ ’نیویارک اعلامیہ ۲۰۲۴ء‘ پر عمل درآمد کی طرف پیش قدمی کرے جو دو ریاستی حل اور قبضے کے خاتمے کی طرف ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔