Inquilab Logo Happiest Places to Work

سائنسدانوں کا مریخ جانے کا نیا راستہ تلاش کرنے کا دعویٰ، سفر۱۵۳؍ دن پر محیط

Updated: April 29, 2026, 10:06 PM IST | Rio de Janeiro

سائنسدانوں نے مریخ جانے کا نیا راستہ تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اس کا سفر جہاں سال پر محیط ہوتا تھا، گھٹ کر ۱۵۳؍ دن رہ جائےگا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

روایتی مشن میں مریخ کا سفر کئی ماہ پر محیط ہوتا ہے اور مکمل مشن اکثر ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہوتاہے۔ لیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ اس دورانیے میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ Acta Astronautica میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، سیارہ کے ابتدائی مدار کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے مریخ کا راؤنڈ ٹرپ سفر صرف۱۵۳؍ دنوں میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تحقیق ریو ڈی جنیرو شمالی ریاستی یونیورسٹی کے مارسیلو ڈی اولیویرا سوزا کی زیر قیادت کی گئی۔ اس میں  سیارہ سی اے ۲۱؍ ۲۰۰۱؍ کے ابتدائی مدار کا تجزیہ کیا گیا، جس کا متوقع راستہ زمین اور مریخ دونوں سے گزرتا تھا۔ محققین نے اس سیارے کے مدار کے جھکاؤ سے پانچ ڈگری کے اندر منتقلی کے راستے تلاش کئے۔بعد ازاں جانچ کے دوران۲۰۲۷ء،۲۰۲۹ء اور۲۰۳۱ء کے مریخ کے مدار میں سے صرف ۲۰۳۱کی صف بندی موزوں پائی گئی۔ سوزا کے مطابق،۲۰۳۱ء کا مریخ مدار راؤنڈ ٹرپ مشن کیلئے موزوں ترین ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی سطح پر اب ۱۰ فیصد سمندری علاقے محفوظ، لیکن ۲۰۳۰ء کیلئے طے کردہ ہدف سے ہنوز کافی دور

واضح رہے کہ یہ تحقیق کا یہ طریقہ کار کسی ایک سیارہ کے استعمال کیلئے محدود نہیں، بلکہ ایک اسکریننگ کا طریقہ کار (screening method) پیش کرتی ہے جو موزوں منتقلی کے مواقع کی پہچان کر سکتا ہے جو عام ریاضی سے چھوٹ جاتے ہیں۔اس کے مطابق ممکنہ سفرمیں ۳۳؍ سے۵۶؍ دن جانے کا سفر اور۹۰؍ سے ۱۳۵؍دن واپسی کا سفر شامل ہے۔ بعد ازاں مریخ کے سفر کا دورانیہ کم کرنا انسانی مشن کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس سے خلائی تابکاری سے بچاؤ اور لاجسٹک مشکلات کم ہوتی ہیں۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ سیارہ کا  ابتدائی ڈیٹا (جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے) بین السیارتی سفر کی منصوبہ بندی کو نئی سمت دے سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK