ملک کے مشکل ترین پیشہ ورانہ امتحانات میں شمار ہونے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے امتحان میں اس بار کرنال کی رہنے والی ہونہار طالبہ دِکشا گوئل نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
آل انڈیا سی اے ٹاپر دِکشاکی استقبالیہ تقریب۔ تصویر:آئی این این
ملک کے مشکل ترین پیشہ ورانہ امتحانات میں شمار ہونے والے چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے امتحان میں اس بار کرنال کی رہنے والی ہونہار طالبہ دِکشا گوئل نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف انڈیا(آئی سی اے آئی) کی جانب سے جاری کئےگئے سی اے فائنل۲۰۲۶ء کے نتائج میں دِکشا گوئل نے۶۰۰؍ میں سے۴۸۶؍ نمبر حاصل کئے اور قومی سطح پر ٹاپ کیا ہے۔دِکشا کا مجموعی فیصد۸۱؍ رہا، جو اس امتحان کی سختی کو دیکھتے ہوئے انتہائی شاندار سمجھا جا رہا ہے۔ کرنال کی دِکشا کی اس کامیابی کو محض ایک امتحان کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل عرصے کی مسلسل محنت، صبر اور خود اعتمادی کا ثمر قرار دیا جا رہا ہے۔ سی اے کی تعلیم کو ذہنی طور پر نہایت چیلنجنگ مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں مضامین کی گہرائی، مسلسل پریکٹس اور وقت کے بہترین استعمال کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ اس امتحان میں ملک بھر سے ہزاروں امیدوار شریک ہوتے ہیں، مگر آخری فہرست میں جگہ بنانا ہی بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنا غیر معمولی کارنامہ ہے۔دِکشا گوئل نے کہا کہ میں اپنی کامیابی کیلئے اپنے تمام اساتذہ کی شکر گزار ہوں کیونکہ میری اس کامیابی میں ان کا بھی بڑا کردار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کبھی بھی۱۰؍ گھنٹے سے زیادہ مطالعہ نہیں کرتی تھیں، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ان۱۰؍ گھنٹوں میں صدفیصد توجہ پڑھائی پر ہی مرکوز رکھی، ذہن کو بھٹکنے نہ دیا۔ انہوں نے دیگر طلبہ کو مشورہ دیا کہ سخت محنت کے ساتھ اسمارٹ ورک بھی ضروری ہے۔ اگر۱۰؍ گھنٹے پوری لگن سے پڑھ لیا جائے توپھر ۱۴؍ سے ۱۵؍ گھنٹے پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ذہن کو تازہ رکھنے کے لیے وہ ہر مہینے دو دن کا وقفہ لیتی تھیں۔ ان دو دنوں میں وہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی تھیں، باہر گھومنے جاتی تھیں، شاپنگ کرتی تھیں یا کھیلتی تھیں۔ یہ وقفہ انہیں تازہ دم رکھتا تھا۔ دِکشا نے بتایا کہ ریویژن اور ماک ٹیسٹ نے ان کا اعتماد بڑھایا۔ دِکشا کی والدہ ریکھا گوئل نے کہا کہ دِکشا بچپن سے ہی تعلیم میں بے حد محنتی رہی ہے۔ اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھی۔ آج اس کی کامیابی سے ہمارا خواب پورا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سال میرٹ لسٹ میں دوسرے مقام پر انیرودھ گرگ رہے جو پاؤنٹاصاحب کے رہائشی ہیں۔ گرگ نے۴۵۲؍ نمبر حاصل کیے جو تقریباً۷۵ء۴۴؍فیصد بنتے ہیں۔ تیسرے مقام پر رشبھ جین، جو نئی دہلی سے ہیں، اور دھرو ڈیمبلا، جو سونی پت کے رہنے والے ہیں، دونوں نے۴۵۱؍ نمبر ات کے ساتھ مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔