Inquilab Logo

بھوندو میاں سیاست کے میدان میں

Updated: June 22, 2024, 2:48 PM IST | Ahmad Jamal Pasha | Mumbai

بھوندو میاں جب سال بھر کی پڑھائی اور رٹائی کے بعد بھی سالانہ امتحان میں فیل ہوگئے تو یہ خبر ان کے چچا توندو میاں تک پہنچی، جو بہت بڑے لیڈر تھے۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

بھوندو میاں جب سال بھر کی پڑھائی اور رٹائی کے بعد بھی سالانہ امتحان میں فیل ہوگئے تو یہ خبر ان کے چچا توندو میاں تک پہنچی، جو بہت بڑے لیڈر تھے۔ انہوں نے بھتیجے کو اپنے یہاں بلایا اور اس کی ناکامی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’تمہارا جیسا ذہین اور محنتی طالب علم کیسے امتحان میں فیل ہوگیا!‘‘ پھر انہوں نے بھتیجے کے فیل ہونے کے اسباب کی چھان بین کی.... لیڈر چچا نے پوچھا، ’’تم نے کلاس ٹیچر سے ٹیوشن پڑھا تھا؟‘‘ بھوندو نے جواب دیا، ’’جی نہیں۔‘‘ توندو میاں نے دریافت کیا، ’’جو ٹیچر تم کو پڑھاتے تھے اس کے گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے تم جاتے تھے؟‘‘ بھوندو میاں نے انکار میں سر ہلایا۔
 ’’اسکول کی بلڈنگ فنڈ میں چندہ دیا تھا؟‘‘
 ’’نہیں!‘‘
 ’’کبھی پرنسپل یا کسی ماسٹر کو کوئی تحفہ دیا؟‘‘
 ’’جی نہیں۔‘‘
 ’’اسکول میں کبھی کوئی اسٹرائیک کرائی؟‘‘
 ’’جی نہیں۔‘‘
 ’’کبھی کسی ٹیچر کو مارا؟‘‘
 ’’جی نہیں....‘‘
 ’’اسکول میں کبھی کسی پر دھونس جمایا؟‘‘
 ’’نہیں۔‘‘
 لیڈر چچا نے بھوندو میاں پر ترس کھاتے ہوئے پوچھا، ’’پھر آخر مَیں پوچھتا ہوں کہ سال بھر تک تم نے کیا کیا؟‘‘ ’’مَیں نے سال بھر یہ کیا کہ پابندی سے اسکول گیا اور بہت محنت سے پڑھا لکھا۔‘‘ لیڈر چچا نے آپے سے باہر ہوتے ہوئے کہا، ’’مَیں کہتا ہوں، پڑھائی لکھائی کو مارو گولی۔ یہ بتاؤ کہ جب تم نے امتحان دیا تو ماسٹر کے پاس کاپی گئی تھی اس کے پاس کوئی سفارش بھی پہنچائی؟‘‘ بھوندو میاں نے جواب دیا، ’’جی نہیں۔‘‘ ’’تم نے پرنسپل کو نکلوانے کیلئے کبھی کوئی ہڑتال کرائی؟‘‘ ’’نہیں۔‘‘ لیڈر چچا نے سَر پیٹتے ہوئے کہا، ’’جب تم نے کامیاب ہونے والا کوئی بھی کام نہیں کیا تو پھر پاس آخر کیسے ہوجاتے؟‘‘ اس کے بعد لیڈر چچا نے بھتیجے کو امتحان میں نمایاں کامیابی کے کچھ گُر بتائے اور اسے گھر واپس بھیج دیا۔
 اسکول کھلتے ہی بھوندو میاں نے اسکول کے منیجر کے دفتر کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ ان کی مانگیں یہ تھیں: پرنسپل کو نکالا جائے.... امتحان میں فیل کرنے کا بلکہ امتحان لینے کا طریقہ ہی ختم کر دیا جائے۔ فیس اور پڑھائی آدھی کر دی جائے.... انٹرول میں دن کا کھانا اسکول سے ملے اور ہر لڑکے کو روزانہ جیب خرچ دیا جائے۔
 بھوندو میاں کی بھوک ہڑتال میں پرنسپل کے خلاف ٹیچروں، طلبہ اور خاص طور سے منیجر صاحب نے اس لئے بڑی دلچسپی لی کہ ان کی پرنسپل سے بڑی چلتی تھی۔
 بھوندو میاں نے کالج کی سیاست کو سمجھتے ہوئے یہ شرط بھی رکھی کہ مانگوں پر غور کرنے کے وعدے پر وہ منیجر صاحب کے کہنے سے بھوک ہڑتال توڑ سکتے ہیں۔ آخر منیجر صاحب نے ایک زور دار ناشتے پر بھوندو میاں کی بھوک ہڑتال ختم کرا دی۔ منیجر نے پرنسپل سے جواب طلب کر لیا کہ اتنے ذہین طالب علم کو اس نے فیل کس طرح کر دیا؟ پرنسپل نے اپنے سَر سے بلا ٹالنے کیلئے بھوندو میاں کے کلاس ٹیچر سے جواب طلب کر لیا.... اور کلاس ٹیچر نے غلطی کی ذمہ داری دوسرے ٹیچروں پر رکھی۔ اور دوسرے ٹیچروں نے اسکول کے کلرک پر ذمہ داری رکھی۔ اور کلرک نے چپراسی پر۔
 اس کے بعد منیجر نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بٹھا دی جس نے یہ فیصلہ کیا: ’’بھوندو میاں کی کاپیاں دوبارہ جانچی جائیں۔ اور اس چپراسی کو نکال دیا جائے جس کی غلطی سے بھوندو میاں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ اگر وہ رزلٹ اُن کے یہاں لے جانے کے بجائے منیجر صاحب کے پاس لے جاتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔‘‘
 اس کامیابی کے بعد بھوندو میاں اسکول کے مانے ہوئے لیڈر ہوگئے۔ وہ نہ صرف چند ہڑتالیں کرانے کے بعد ہر سال فرسٹ آنے لگے بلکہ پڑھائی ختم کرکے وہ وکیل نما لیڈر ہوگئے۔ اور آج وہ نہ صرف اسمبلی کے ممبر ہیں بلکہ ان کا ایک پیر جیل میں اور دوسرا وزارت کی کرسی پر رہتا ہے۔ ان دنوں وہ اپنے زمانے کے سب سے کامیاب وزیر تعلیم گنے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK