کسی نے سچ کہا ہے دوسروں کیلئے کنواں کھودنے والا خود اس میں گر جاتا ہے، کہانی کا یہی سبق ہے۔
’’ہش....‘‘ مَیں نے اگلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے خورشید کو دھیرے سے اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس نے دائیں بائیں بڑی ہوشیاری سے دیکھا اور پھر ماسٹر صاحبان کو آپس میں گفتگو کرتے دیکھ کر میری طرف مڑا اور پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘
’’ذرا سوال نمبر چھ بلاٹنگ پیپر پر حل کرکے مجھے دے دو۔‘‘
’’اچھا!‘‘ اُس نے دھیرے سے کہا اور میز پر جھک گیا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ بلاٹنگ پیپر پر پینسل سے سوال لکھ رہا تھا۔ مَیں دل ہی دل میں خوش ہوا کہ خورشید نے میری بات نہیں ٹالی اور مجھ سے جھگڑا ہونے کے باوجود میرا کہا مانا۔
مَیں اور خورشید نہ صرف کلاس فیلو تھے بلکہ پڑوسی اور گہرے دوست بھی تھے۔ ہمارے والدین بھی ہم لوگوں کی طرح ایک دوسرے کے دوست تھے۔ دونوں گھروں میں اتنا زیادہ اپنا پن تھا کہ محلے والے ہمیں حسد بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔ کچھ حاسدوں نے تو ہمارے والدین میں کئی بار آپس میں جھگڑا کرا دینے کی بھی پوری کوشش کی۔ لیکن ہمارے اور خورشید کے گھر والے تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں لڑے، بلکہ اور زیادہ ایک دوسرے سے قریب تر ہوگئے۔
لیکن مَیں اور خورشید اپنے والدین کی طرح نہ زیادہ سوجھ بوجھ کے مالک تھے، اور نہ اُن جیسے تعلیم یافتہ تھے کہ آپس میں پھوٹ ڈلوانے والوں کے چکّر میں نہ پھنستے۔ کچھ ساتھیوں نے ہمارے دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی طرف سے کچھ اس طرح نفرت کے بیج بوئے کہ ہم ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ مَیں خورشید سے بدظن ہوگیا اور وہ میری ذات سے نفرت کرنے لگا۔ مگر پھر بھی بول چال تھوڑی بہت چلتی رہی۔ گویا مکمل طور سے تعلقات ختم نہیں ہوئے۔ کبھی کبھار ہم دونوں اپنی اپنی جگہ صلح کرنے کی سوچ بھی لیتے۔ مگر جھگڑا کرانے والے بیچ میں شیطان بن کر آدھمکتے اور نفرت کی دیوار دوبارہ کھڑی ہوجاتی۔
اسی کھنچاؤ کے عالم میں وقت گزرتا رہا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سالانہ امتحان آگئے۔ امتحان شروع ہوتے ہی ہم دونوں میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی بازی لگی۔ یعنی ہر مضمون میں ایک دوسرے سے بڑھ کر نمبر لانے کی کوشش ہونے لگی۔
حساب کے علاوہ مَیں ہر بار خورشید سے ہر مضمون میں زیادہ نمبر لاتا تھا۔ لیکن اس بار تو حساب کا پرچہ دیکھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ پرچہ انتہائی سخت تھا اور ایک سوال کے علاوہ دوسرا سوال مجھ سے ہلا تک نہیں۔ چند لمحے تو مَیں سَر تھامے بیٹھا رہا۔ پھر بڑی ہمت کرکے خورشید سے سوال پوچھا اور جان بوجھ کر سوال نمبر چھ کے لئے کہا، کیونکہ چھٹا سوال پورے پرچے میں سب سے زیادہ سخت تھا۔ دوسرے سوال تو تھوڑے بہت مَیں خود ہی حل کر لیتا لیکن نمبر چھ نے حواس گم کر دیئے تھے۔ سوالوں کا یہ مقابلہ انتہائی سخت تھا۔ خورشید کو گردن جھکائے انہماک سے پرچہ حل کرتے دیکھ کر مجھے پسینہ آگیا۔ چند پَل کے لئے تو مَیں ہمت ہار بیٹھا اور قلم رکھ کر اس منظر میں کھو گیا۔ جب خورشید کامیابی سے مسکراتا ہوگا اور مَیں ناکام ہو کر مایوس منہ لٹکائے بسورتا ہوں گا۔ لیکن ان خیالات کے باوجود ایک بار پھر مَیں نے قلم اُٹھایا اور اپنے وائس پرنسپل صاحب کے اس قول پر عمل کرتے ہوئے کہ ’’کاپی پر کچھ نہ کچھ لکھو ضرور خواہ ’الف‘ کی جگہ جواب میں ’ب‘ ہی ہو۔‘‘ سوال کرنے لگا۔
امتحان بخیر و خوبی ختم ہوگئے اور پھر دعاؤں کا دَور شروع ہوا۔
آخر نتیجہ سنانے کا دن بھی آہی گیا۔ مَیں نے خورشید کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر ایک عجیب طرح کی مسرت اور سکون تھا۔ ایک لمحہ کے لئے مجھے اس کی خوشی دیکھ کر جلن ہوئی لیکن دوسرے ہی پَل کسی بڑے مفکر کا قول یاد آگیا ’’دوسرے کی خوشی دیکھ کر نہ جلو...‘‘ اور اس طرح مَیں نے خود پر قابو پا لیا اور کلاس میں داخل ہوا۔ ابھی ماسٹر صاحب نہیں آئے تھے۔ درجے میں شور و غل مچا ہوا تھا۔ ہر ایک اپنے اپنے نمبروں اور پرچوں کے بارے میں ایک دوسرے کو بتا رہا تھا۔ مَیں نے سُنا خورشید برابر میں بیٹھے ہوئے رمیش سے بڑے یقین کے ساتھ کہہ رہا تھا ’’بھئی اپنی تو حساب میں فرسٹ پوزیشن آئے گی اور دوسرے مضامین میں سیکنڈ۔‘‘ حسد نے ایک بار میرے دل میں پھر سَر اُبھارا اور نفرت نے میری نگاہوں میں خورشید کے لئے انگارے بھر دیئے۔ یکایک ’’ماسٹر صاحب آگئے...‘‘ کا شور ہوا اور پھر سب اپنی اپنی جگہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔
نمبر وار رزلٹ کارڈ ماسٹر صاحب نے نام پکار پکار کر لڑکوں کو دینا شروع کئے۔
’’حبیب احمد پاس...‘‘
’’مجیب اللہ پروموشن...‘‘
’’رمیش ساہنی تھرڈ...‘‘
’’یوگیش کمار پانڈے پاس...‘‘
’’الطاف نبی فیل...‘‘
’’خورشید حسن فیل...‘‘
’’ارے!‘‘ مَیں اچھل کر اپنی جگہ کھڑا ہوگیا۔
’’یہ کیا ہوا؟‘‘ کئی آوازیں میری آواز کے ساتھ ابھریں اور مَیں نے دیکھا کہ خورشید کی آنکھوں میں آنسو کانپ رہے تھے۔ نہ جانے کیوں میرا دل بھی بھر آیا اور ماسٹر صاحب کے یہ پکارنے پر بھی مجھے کوئی خاص مسرت نہیں ہوئی کہ مَیں پاس ہوگیا ہوں۔ مَیں نے بڑی بے دلی سے رزلٹ کارڈ لیا۔ اور خورشید کو کلاس روم سے باہر جاتا دیکھ کر تیزی سے اس کے پیچھے پہنچا۔
’’خورشید بھائی مجھے تمہارے فیل ہونے کا بہت ہی صدمہ ہوا...‘‘ حقیقت میں یہ میرے دل کی آواز تھی۔ اچانک وہ تیزی سے مڑا اور مجھے لپٹ گیا۔
’’قیصر مجھے معاف کر دو... مجھے معاف کر دو... میرے بھائی... مَیں بہت بُرا ہوں۔ مَیں نے تمہیں دھوکہ دیا... دھوکہ... جس کا نتیجہ مجھے مل گیا۔‘‘
مَیں حیران رہ گیا۔
’’مجھے دھوکہ دیا؟ وہ کیسے؟‘‘
’’مَیں نے جو سوال تمہیں حل کرکے دیا تھا وہ مَیں نے جان بوجھ کر غلط حل کیا تھا لیکن... اتفاق سے وہی ٹھیک ہوگیا... اور...‘‘ اُس نے بتایا اور مَیں سوچنے لگا جو دوسروں کے لئے کنواں کھودتا ہے خود ہی اس میں گرتا ہے!