• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چینی کمپنی کا ملازمین کو ۲۴۰؍ کروڑ روپے بونس، ویڈیوز وائرل

Updated: February 26, 2026, 6:05 PM IST | Beijing

چین کی ہینن کوانگشن کرین کمپنی نے ۲۰۲۵ء کے اختتام پر اپنے ملازمین میں ۱۸۰؍ ملین یوآن (تقریباً ۲۴۰؍ کروڑ روپے) بونس تقسیم کیے۔ تقریب میں ۶۰؍ ملین یوآن نقد اسٹیج پر دیے گئے جبکہ باقی رقم مرحلہ وار تقسیم کی گئی۔ نقدی سے سجی میزوں اور ’’منی گیم‘‘ کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گزشتہ ہفتے ہینن کوانکشن کرین کمپنی لمیٹڈ نے اعلان کیا کہ ۲۰۲۵ء کے مالی سال میں کمپنی کو ۲۷۰؍ ملین یوآن کا منافع ہوا جس کا تقریباً ۷۰؍ فیصد، یعنی ۱۸۰؍ ملین یوآن، ملازمین میں تقسیم کیا گیا۔ ۱۳؍ فروری کو کمپنی کی جانب سے منعقدہ ایک شاندار تقریب میں تقریباً ۷؍ ہزارافراد شریک ہوئے جن کی ضیافت کیلئے ۸۰۰؍ میزیں ترتیب دی گئی تھیں۔ اسی موقع پر ۶۰؍ ملین یوآن سے زائد نقد دیے گئے۔ تصاویر اور ویڈیوز میں میزوں پر رکھی نقدی کی قطاریں اور ملازمین کو نوٹ گنتے دیکھا جا سکتا ہے۔
تقریب میں ایک انٹرایکٹو گیم بھی کھیلا گیا جس میں ملازمین جتنی رقم گن لیتے، وہ اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے۔ کچھ افراد کو اسٹیج پر بلا کر انعامات دیے گئے، جبکہ کمپنی نے واشنگ مشینیں بھی تقسیم کیں۔ کمپنی کے چیئرمین کوئی پیجون نے موقع پر محکمہ خزانہ سے کہا کہ ’’کیا آپ کو لگتا ہے کہ سونے کی قیمتیں کچھ زیادہ بڑھ گئی ہیں؟ پچھلے برسوں میں ہم نے ہار اور انگوٹھیاں دی تھیں۔‘‘ یوں مجموعی بونس ۱۸۰؍ ملین یوآن تک پہنچ گیا۔

۲۰۰۲ء میں قائم ہونے والی کمپنی اب۱۳۰؍ سے زائد ممالک میں سرگرم ہے اور کرینیں اور مٹیریل ہینڈلنگ مصنوعات تیار کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کمپنی کا ۸۸ء۹۸؍ فیصد حصص کوئی پیجون کے پاس ہیں۔ واضح رہے کہ کوئی پیجون اس سے پہلے بھی بڑے بونس دے چکے ہیں۔ گزشتہ سال خواتین کے عالمی دن پر انہوں نے ۲؍ ہزار خواتین ملازم میں ۶ء۱؍ ملین یوآن تقسیم کیے گئے تھے۔ اسی وجہ سے چینی سوشل میڈیا پر انہیں ’’سب سے سخی باس‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’نوجوانوں پر کاروں کے قرضوں اور رہن سہن کا بھاری بوجھ ہے، ہم اس کے ذریعے انہیں جو ریلیف دے سکتے ہیں، دیتے رہیں گے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: یوکے: گورٹن ضمنی انتخاب: گرین پارٹی کی اردو مہم پر سیاسی ہنگامہ

تقریب کے ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد صارفین حیرت زدہ رہ گئے۔ کچھ لوگوں کو ملازمین پر رشک آیا تو بعض میں حسد عیاں ہوا۔ کچھ صارفین نے اسے ملازمین کی قدر افزائی قرار دیا، جبکہ دیگر نے سوال اٹھایا کہ کیا اس نوعیت کی نقد تقسیم پائیدار کارپوریٹ ماڈل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK