Updated: February 26, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر حکومت نے بچوں میں بڑھتی ڈجیٹل لت اور آن لائن گیمنگ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کا ایک پینل تشکیل دیا ہے۔ وزیر آئی ٹی آشیش شیلار کے مطابق، پینل طویل اسکرین ٹائم کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات پر رپورٹ تیار کرے گا اور ممکنہ ضابطہ جاتی اقدامات تجویز کرے گا۔
مہاراشٹر کے بجٹ سیشن ۲۰۲۶ء کے دوران آشیش شیلار نے اعلان کیا کہ ریاست بھر میں بچوں میں بڑھتا ڈجیٹل انحصار اور گیمنگ لت پر قابو پانے کے لیے ماہرین کی ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پینل کو نابالغوں میں طویل ڈجیٹل نمائش کے جسمانی، ذہنی اور سماجی اثرات کا جامع مطالعہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے، اور اگلے اجلاس سے قبل رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ سرکاری بیانات کے مطابق، ریاست کے پانچ شناخت شدہ مراکز میں بچوں سے متعلق ہر ۱۰؍ میں سے تقریباً ۳؍ معاملات گیمنگ کی لت سے جڑے ہوئے پائے گئے۔ اسکولوں پر مبنی ایک سروے، جس میں انٹرنیٹ انحصار پیمانہ استعمال کیا گیا، کے مطابق تقریباً ۴۰؍ فیصد بچے شدید گیمنگ لت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے لیے پالیسی مداخلت کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اندور میں آلودہ پانی کے سبب ایک اور شخص کی موت ، عوام میں ناراضگی
اس پینل میں ماہرین تعلیم، بچوں کے ماہرین نفسیات، ماہرین اطفال، ٹیکنالوجی ماہرین، قانونی ماہرین، قانون نافذ کرنے والے حکام اور والدین گروپوں کے نمائندے شامل ہیں۔حکام کے مطابق، مقصد ایک کثیر جہتی جائزہ تیار کرنا ہے تاکہ شہری مراکز جیسے ممبئی کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں میں بھی مسئلے کی شدت کو سمجھا جا سکے۔ حکام نے نشاندہی کی کہ نیند کی کمی، بے چینی، چڑچڑاپن، تعلیمی کارکردگی میں کمی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل ضرورت سے زیادہ آن لائن گیمنگ اور اسکرین استعمال سے جڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مسلم خاتون کو رہائش سے انکار اور دلت باورچی پر اعتراض: سپریم کورٹ جج کی تشویش
زیر غور اقدامات میں شامل ہیں:آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز کے لیے سخت عمر کی تصدیق (ممکنہ ای کے وائی سی)۔ نابالغوں کے لیے ٹائم لمٹ ٹولز اور لازمی ’’ٹائم آؤٹ‘‘ فیچرز۔ ہندوستان کے لیے مخصوص ڈجیٹل گیمز کا مواد درجہ بندی نظام۔ اسکول نصاب میں ڈجیٹل حفظان صحت اور سائبر فلاح و بہبود کے ماڈیولز۔ اساتذہ کی تربیت اور والدین کے لیے آگاہی مہم۔ علاوہ ازیں، حکومت ’’متوازن ڈجیٹل فیڈنگ‘‘ کے تصور کو فروغ دینے پر بھی زور دے رہی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں نے حالیہ اجلاسوں میں اس مسئلے کو اٹھایا اور والدین و اساتذہ کی شکایات کا حوالہ دیا۔ یہ اتفاق رائے اس بات کی علامت ہے کہ ڈجیٹل لت کو محض انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ابھرتی ہوئی صحتِ عامہ کی تشویش سمجھا جا رہا ہے۔