ایک گاؤں میں ایک عورت رہتی تھی۔ اُس کے دو بیٹے تھے۔ ایک بیٹا کمانے کیلئے پردیس گیا تھا دوسرا اُسی کیساتھ رہتا تھا۔ تھوڑے دنوں پہلے اس کی موت ہوگئی تھی۔ بڑھیا اب بالکل تنہا رہ گئی تھی۔ وہ رات دن اپنے مرے ہوئے بیٹے کو یاد کرتی۔ وہ جانتی تھی کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئیگا۔ جبکہ بڑے بیٹے کے لوٹ کر آنے کا اُسے یقین تھا۔
پاس ہی کے دوسرے گاؤں میں ایک ٹھگ رہتا تھا۔ بڑھیا کے گاؤں میں اس کا ایک دوست تھا۔ وہ ایک مرتبہ اپنے دوست سے ملنے آیا تو اس سے اُسے بڑھیا کی کہانی معلوم ہوئی۔ وہ فوراً اپنے گاؤں لوٹا۔ دوسرے دن رات کو گاؤں میں آیا۔ بڑھیا کے مکان پر دستک دی۔
ٹھگ نے بھیس بدل رکھا تھا۔
بڑھیا نے دروازہ کھولا تو ٹھگ نے کہا، ’’دادی ماں۔ مسافر ہوں۔ رات بھر آرام کرنے کی جگہ دیدو۔‘‘ بڑھیا نے اُسے فوراً اندر بلایا۔ پانی پیش کیا تو بولا، ’’بہت تھک گیا ہوں۔ سونے کی جگہ بتا دو، دادی ماں۔‘‘
’’ارے بھوکے پیٹ کیسے سوئے گا؟ ابھی گرم گرم روٹیاں بناتی ہوں۔ کدّو کی سبزی تو تیار ہے۔ ویسے بیٹا تم کون سے گاؤں سے آرہے ہو؟‘‘
’’دادی ماں، میرا گاؤں یہاں سے دس کوس پر ہے۔ غلطی سے یہاں اُتر گیا ہوں۔‘‘ ٹھگ نے کہا۔ ’’اتر گئے ہو؟‘‘ بڑھیا نے حیرت سے کہا، ’’کہاں سے اُتر گئے ہو؟‘‘
’’مَیں دوسری دُنیا سے آرہا ہوں دادی ماں، میری ماں کی طبیعت خراب تھی۔ اُس نے بھگوان سے پرارتھنا کرکے مجھے بلایا تھا۔ بس سورگ سے لوٹ رہا ہوں۔‘‘
دوسری دُنیا کے نام پر بڑھیا کو اپنا بیٹا یاد آگیا۔ اُسے باقی کچھ نہ یاد رہا۔ فوراً بولی، ’’وہاں میرا بیٹا بھی ہے۔ کیا تم اس کو جانتے ہو؟‘‘
’’نام وام تو بتاؤ بیٹے کا، شاید ملاقات ہوئی ہو۔‘‘ ٹھگ نے دلچسپی دکھائی۔
’’اس کا نام دثو ہے....‘‘ بڑھیا نے کہا۔
’’دثو....‘‘ ٹھگ خوشی سے چیخ پڑا....‘‘ دثو، وہ گبرو، سندر سندر جوان.... تمہارا بیٹا ہے....‘‘ اس نے جھک کر بڑھیا کے پاؤں چھوئے.... ’’وہ تو میری ماں کی بازو والی کوٹھری ہی میں تھا۔ بڑا اچھا بڑا نیک لڑکا ہے۔‘‘
بیٹے کی تعریف سُن کر بڑھیا خوش ہوگئی۔ اشتیاق سے پوچھا، ’’وہ وہاں کیا کام کرتا ہے؟‘‘
’’بکریاں چراتا ہے۔‘‘ ٹھگ نے یوں ہی ہانک دیا۔ ’’رام رام! بکریاں چرانے میں تو بہت دوڑنا پڑتا ہے۔‘‘ بڑھیا فکرمند ہو کر بولی۔
’’اور کیا؟ بکریاں جھاڑیوں میں گھس جاتی ہیں، انہیں نکالنے میں کانٹے چبھتے ہیں، کپڑے پھٹ جاتے ہیں۔‘‘
’’کپڑے پھٹ جاتے ہیں۔‘‘ بڑھیا نے چونک کر کہا۔ ’’ہاں! کپڑے پھٹ جاتے ہیں! ارے کل مجھے وداع کرتے وقت تمہارا بیٹا آیا تو اُس کے جسم پر چیتھڑے لٹک رہے تھے....‘‘ ٹھگ نے اس کی بات پکڑ لی۔ ’’ہے بھگوان! رحم کرنا.... بیٹا! میرے پاس بیس میٹر کا لٹھا نیا کا نیا رکھا ہے.... اسے پہنچا دو گے....‘‘ ’’کیوں نہیں دادی ماں.... ضرور پہنچا دوں گا۔‘‘
بڑھیا نے گرم گرم روٹیاں، کدّو کی سبزی کے ساتھ سامنے رکھ دیں۔ اچار، پیاز، ہری مرچ یہاں تک کہ گُڑ کی ڈلی بھی تھالی میں رکھ دی۔
رات بھر آرام سے سو کر ٹھگ سویرے ہی جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ بڑھیا نے اسے ناشتہ کرایا پھر بیس میٹر کپڑا اور دو ہزار روپے دیکر رخصت کیا۔
اتفاق ایسا ہوا کہ اُدھر وہ ٹھگ رخصت ہوا اِدھر بڑھیا کا بڑا بیٹا پردیس سے واپس آگیا۔ کپڑوں کی گٹھری ایک طرف رکھ کر ماں کے پاؤں چھوئے اور بولا، ’’ماں، رات بھر چل کر آیا ہوں۔ جلدی سے کچھ کھانے کو دے۔‘‘
بڑھیا نے.... ناشتہ بناتے بناتے دوسری دُنیا سے آنے والے مسافر کے بارے میں بیٹے کو بتایا تو اُس نے سَر تھام لیا، ’’ماں! تُو بہت بھولی ہے۔ بھلا دوسری دُنیا میں جا کر بھی کوئی واپس آتا ہے۔ کیسا تھا وہ ٹھگ؟ اس کا حلیہ بتاؤ۔‘‘
بڑھیا نے حلیہ بتایا۔ بیٹے نے جلدی جلدی ناشتہ کیا۔ تب تک اُس نے سوچ لیا کہ اُسے اُس ٹھگ کو پکڑنا اور سبق سکھانا ہے۔
اُس نے ہاتھ بھی دھوئے اور ماں سے بولا، ’’ماں اب تُو دھیان سے سُن! مَیں جیسا کہتا ہوں، ویسا کر۔ ابھی کسی کو، کسی کے دوسری دُنیا سے آنے کے بارے میں کچھ نہ بتانا۔ مَیں لوٹ کر آتا ہوں۔ آنے پر مَیں پوچھوں گا ’’ماں کھانا کیا بنایا ہے؟ تو کہنا خرگوش نے جو کہا تھا وہ سب بنایا ہے۔ اس کے سوا ایک لفظ نہ کہنا۔‘‘
ماں کو اچھی طرح سمجھا کر اُس نے پنجرے میں سے ایک خرگوش نکال کر تھیلی میں ڈالا او رتھیلا اُٹھا کر بھاگا۔ اُسے معلوم تھا بازو والے گاؤں میں ایک ٹھگ خاندان رہتا ہے۔
وہ بھاگتا گیا، بھاگتا گیا۔
آخر اُسے.... کنوئیں کے نزدیک ایک آدمی لیٹا ہوا نظر آیا۔ اسکے نزدیک ایک بڑی سی گٹھری رکھی ہوئی تھی۔ بڑھیا کا بیٹا ٹھیک اُس کے نزدیک جا کر بیٹھا اور اُس آدمی سے ہنس کر بولا، ’’اچھے ملے بھیّا، تنہا چلتے چلتے تھک گیا ہوں۔‘‘
’’کہاں سے آرہے ہو؟‘‘ اُس نے پوچھا۔
بیٹے نے مخالف سمت کے ایک گاؤں کا نام بتا دیا۔ دونوں باتیں کرنے لگے.... ایسے گھل مل گئے جیسے برسوں کے دوست ہوں۔ اُس آدمی نے چلنے کا قصد کیا تو بیٹے نے کہا، ’’چلو میرے ساتھ میرے گھر چلو، میری ماں بہت اچھا کھانا بناتی ہے۔ کھانا کھا کر ٹھنڈے ٹھنڈے وقت میں گاؤں لوٹ جانا۔‘‘
آدمی جو ٹھگ ہی تھا کچھ سوچنے لگا۔
تھوڑی آنا کانی کرکے وہ راضی ہوگیا۔ دراصل اس کے دل میں یہ خیال رہ رہ کر آرہا تھا کہ یہ آدمی پردیس سے آرہا ہے۔ اس کے پاس نقدی ضرور ہوگی۔ اُسے بھی کیوں نہ ہتھیا لیا جائے۔ بولا، ’’چلو، تمہارا گھر دیکھ لیتا ہوں۔ کبھی وقت ملا تو آؤں گا۔ ابھی تو کھانا بننے میں وقت لگے گا۔‘‘
’’ارے نہیں۔ سندیسہ بھیجتا ہوں۔ اپنے پہنچنے تک کھانا تیار ہوجائے گا۔‘‘
’’سندیسہ کیسے بھیجو گے؟‘‘
’’میرا پالتو خرگوش ہے نا، وہ سندیسہ لے جائیگا۔‘‘
بیٹے نے خرگوش کو تھیلی میں سے نکالا، اُس کے کان کے پاس منہ لے جا کر زور سے بولا، ’’پیارے بٹو، دوڑ کر گھر جا اور ماں سے بتا دے کہ مَیں آرہا ہوں۔ میرے ساتھ ایک دوست بھی ہے۔ اس سے کہنا کھانے میں مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ بنائے۔ میٹھے میں کھیر.... اور دو چار قسم کی چٹنیاں بھی بنا لینا۔‘‘
اُس نے خرگوش کو نیچے چھوڑ دیا۔ خرگوش قلانچیں بھرتا ہوا غائب ہوگیا۔ اجنبی ہونق سا دیکھتا رہ گیا۔ پھر گلا صاف کرکے بولا، ’’خرگوش سندیسہ پہنچا دے گا؟‘‘
’’کیوں نہیں؟‘‘ بیٹے نے کہا، ’’چار دن کا تھا تب سے مَیں نے اُسے پالا ہے۔ میری ماں تو اسے اپنا بیٹا مانتی ہے۔ بات بھی کرتا ہے۔‘‘
گھر پہنچے تو اجنبی ٹھگ ٹھٹک کر کھڑا ہوگیا۔ مکان جانا پہچانا تھا۔ بڑھیا نے البتہ اسے پہچانا نہیں۔ بیٹے نے ہنس کر اُس کا ہاتھ پکڑ لیا، ’’رُک کیوں گئے۔ دوست کے گھر کو اپنا گھر سمجھو۔‘‘
اُس نے ورانڈے میں ٹھگ کا سامان رکھوایا اور اندر کوٹھری میں لے گیا۔ ماں سے ملوایا، ماں نے، جیسا بیٹے نے کہا تھا بیٹے کو بھینچ بھینچ کر پیار کیا۔ بیٹے نے کہا، ’’ماں! باقی سب باتیں بعد میں، پہلے پیٹ پوجا کروں گا۔‘‘
ماں نے کھانا لگایا.... دونوں نے کھایا پھر ٹھگ نے دل میں اٹھتے سوال کو پوچھ ہی لیا، ’’خرگوش کہاں ہے؟‘‘
بیٹے نے کہا، ’’ماں کو سندیسہ دینے کے بعد اُس کا کام ختم ہوگیا۔ پڑا ہوگا پنجرے میں۔‘‘
’’دکھاؤ ذرا۔‘‘
بیٹے نے کہا، ’’میرا بٹو ہے ہی اتنا پیارا، سب اُس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔‘‘ وہ اُٹھ کر صحن میں گیا۔ پہلے ورانڈے میں جا کر ٹھگ کا سامان ٹٹولا۔ اُس میں کپڑے کا لٹھا، نقلی داڑھی مونچھ دیکھ کر اطمینان کر لیا۔ پھر پنجرے میں سے خرگوش کو لے کر ٹھگ کے پاس پہنچا۔ ٹھگ نے بے اختیار کہا، ’’دوست! اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو۔‘‘
’’نہیں۔ یہ ناممکن ہے۔‘‘ بیٹے نے خرگوش کو سینے لگا لیا، ’’کوئی ہزار روپے بھی دے تو نہ بیچوں۔‘‘
’’نہ بیچو ہزار میں.... مَیں دو ہزار دیتا ہوں مجھے دے دو۔‘‘
بیٹے نے بے حد خوش ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے ٹھگ سے روپے سنبھالے اور خرگوش اُس کے ہاتھ میں دیدیا۔ پھر بولا، ’’تم ذرا دیر رکو۔ مَیں تمہارے لئے پان لے کر آتا ہوں۔‘‘
وہ گیا اور پاس پڑوس کے پانچ سات آدمیوں کو لے کر آیا۔ ٹھگ گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔ بیٹے نے اس سے کہا، ’’ٹھگ مہاراج! میری ماں کو ٹھگنے کی کہانی خود سناتے ہو یا مَیں سُناؤں؟ یہ میری ماں ہے.... جسے تم نے میرے بھائی کے نام پر دھوکہ دیا۔ مَیں تمہاری تھیلی میں کپڑے کا لٹھا اور نقلی داڑھی مونچھ دیکھ چکا ہوں۔‘‘
ٹھگ نے اپنا گناہ قبول کر لیا۔ کپڑا واپس کر دیا اور نقد تو پہلے ہی دے چکا تھا۔ بڑھیا اماں سے معافی مانگی اور منہ چھپا کر گاؤں سے چلا گیا۔