بیوی کی بات سُن کر شامو بے حد خوش ہوا اور جلدی سے دیال کے پاس گدھا مانگنے کیلئے چلا گیا۔ دیال نے کہا ’’بھائی، میرا گدھا نہ جانے صبح سے کہاں گیا ہے؟ تم چودھری سے ایک گھوڑا کرائے پر کیوں نہیں لے لیتے! چودھری کے پاس تو بہت سے گھوڑے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 10:56 AM IST | Surjeet | Mumbai
بیوی کی بات سُن کر شامو بے حد خوش ہوا اور جلدی سے دیال کے پاس گدھا مانگنے کیلئے چلا گیا۔ دیال نے کہا ’’بھائی، میرا گدھا نہ جانے صبح سے کہاں گیا ہے؟ تم چودھری سے ایک گھوڑا کرائے پر کیوں نہیں لے لیتے! چودھری کے پاس تو بہت سے گھوڑے ہیں۔
شامو اپنے کھیت میں سبزیاں اگاتا تھا۔ ان سبزیوں کو وہ ہر روز قریب کے شہر میں بیچنے کے لئے لے جاتا تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی گدھا تھا نہ بیل گاڑی۔ وہ سبزیوں کو ایک بڑے ٹوکرے میں بھر کر اپنے سر پر ہی لاد کر لے جاتا تھا۔ اور سر پر سبزیوں کا ٹوکرا اُٹھاتے اُٹھاتے وہ اکتا گیا تھا اُس کی گردن میں ہر وقت درد رہنے لگا تھا۔ کمر میں ٹیسیں اُٹھتی تھیں۔ ایک دن وہ بیوی کے سامنے یہ دُکھڑا لے کر بیٹھ گیا۔ بیوی نے اُسے مشورہ دیا کہ پڑوسی دیال کے پاس گدھا ہے، اُس سے گدھا مانگ کر وہ اُس پر سبزیاں لاد کر لے جائے۔
بیوی کی بات سُن کر شامو بے حد خوش ہوا اور جلدی سے دیال کے پاس گدھا مانگنے کیلئے چلا گیا۔ دیال نے کہا ’’بھائی، میرا گدھا نہ جانے صبح سے کہاں گیا ہے؟ تم چودھری سے ایک گھوڑا کرائے پر کیوں نہیں لے لیتے! چودھری کے پاس تو بہت سے گھوڑے ہیں۔ وہ تمہیں گھوڑا دے دے گا۔‘‘ پڑوسی دیال کا مشورہ مان کر شامو چودھری کے گھر کی جانب روانہ ہوا۔ چودھری کے پاس گھوڑے تو بہت سے تھے لیکن وہ تھا بہت کنجوس۔ اس لئے وہ لوگوں کو گھوڑے مفت میں کبھی نہیں دیتا تھا۔
شامو جب چودھری کے گھر پہنچا تو چودھری گھوڑوں کی مالش کر رہا تھا۔ اُس نے شامو کی بات سنی خوش ہو کر بولا ’’گھوڑا تم ضرور لے جاؤ، لیکن اس کا کرایہ پندرہ روپے ہوگا اور وہ تمہیں پیشگی دینا ہوگا۔‘‘ شامو اتنا کرایہ سُن کر چونک گیا۔ اُس نے کہا ’’لیکن میرے پاس تو اس وقت صرف پانچ روپے ہیں۔‘‘ اور اُس نے جیب سے پانچ روپے نکال کر دکھائے۔
چودھری نے جھپٹ کر شامو سے پانچ روپے چھین لئے اور کہا ’’تمہاری پانچ روپے آگئے۔ کل دس روپے لے آنا اور گھوڑا لے جانا۔‘‘ اتنا کہہ کر چودھری نے پانچ روپے اپنی جیب میں رکھ لئے اور پھر گھوڑوں کی مالش کرنے لگا۔
شامو پانچ روپے اس طرح جھپٹنے پر حیران پریشان رہ گیا۔ اُس نے ہمت کرکے اپنے روپے واپس مانگے۔ چودھری نے روپے دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ دس روپے اور لے آئے اور گھوڑا لے جائے۔
شامو اپنا سا منہ لے کر گھر کی طرف چلا۔ راستے میں اُسے اپنا ایک دوسرا پڑوسی گوپال مل گیا۔ اس نے شامو کو غمگین اور اداس دیکھ کر پوچھا ’’شامو بھائی کیا بات ہے؟ منہ لٹکائے کیوں آرہے ہو؟‘‘ شامو نے چودھری کی زبردستی کی بات سنا دی۔ گوپال نے اُسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا ’’تم فکر نہ کرو۔ کل مجھے اپنے ساتھ لے چلنا۔ میں چودھری سے پانچ کے بجائے پندرہ نہ رکھوا لوں تو میرا نام گوپال نہیں۔‘‘
دوسرے دن صبح کو شامو اپنے پڑوسی گوپال کو لے کر چودھری کے گھر پہنچا۔ گوپال نے چودھری سے کہا ’’چودھری صاحب ہم گھوڑا لینے آئے ہیں۔‘‘ چودھری نے کہا ’’گھوڑا لے جاؤ۔ لیکن پہلے مجھے دس روپے دے دو۔‘‘ گوپال نے کہا ’’ٹھہریئے۔ پہلے ہمیں دیکھ لینے دیجئے کہ یہ گھوڑا ہمارے لئے کافی چوڑا بھی ہے؟‘‘
’’چوڑا! کیا مطلب؟ شامو نے پندرہ روپے کرایہ پر گھوڑا ہی تو مانگا تھا۔ اب وہ چوڑا پتلا کہہ کر اپنے سودے سے مکر رہا ہے۔‘‘ چودھری نے کہا۔ گوپال نے ایک پیمائش کا فیتہ نکالا اور بولا ’’لمحہ بھر رُکئے۔ ہم ذرا ناپ تو لیں۔‘‘
گوپال گھوڑے کی پیٹھ کو فیتہ سے نانپنے لگا۔ پھر اُس نے شامو سے کہا ’’بھائی تمہارے لئے اٹھارہ انچ جگہ کافی ہوگی۔ مجھے پندرہ انچ جگہ چاہئے۔ میں یہاں بیٹھوں گا۔ پھر وہ فیتہ سے گھوڑے کو نانپتے ہوئے بولا ’’میری بیوی میرے پیچھے بیٹھ سکتی ہے۔ اس کے لئے اٹھارہ انچ جگہ چاہئے۔ تمہاری بیوی دبلی ہے۔ وہ آگے بیٹھے گی اور اس کے لئے بارہ انچ جگہ کافی رہے گی۔‘‘
چودھری نے جو گوپال کو گھوڑے کو ناپتے اور اس طرح کی باتیں کرتے دیکھا تو وہ گھبرا گیا۔ وہ بے چین ہو کر بولا ’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ اتنے آدمیوں کا بوجھ گھوڑا کیسے اُٹھائے گا؟‘‘
لیکن گوپال نے چودھری کی بات اَن سنی کر دی اور کہا ’’لمحہ بھر خاموش رہئے۔ ہم بچوں کو کیسے بٹھائیں گے۔ پپو گھوڑے کی گردن پر بیٹھ جائے گا۔ ببلی اُس کی گود میں۔‘‘
چودھری کے چہرے پر گھبراہٹ سے پسینہ بہنے لگا۔ وہ گوپال کی بات کاٹ کر بولا ’’سنو! کیا تم پاگل ہوگئے ہو؟ ایک گھوڑے پر اتنے آدمی کیسے سوار ہوسکتے ہیں؟‘‘
گوپال نے مسکراتے ہوئے کہا ’’ہم سب ایک ساتھ شہر میلہ دیکھنے کیلئے جانا چاہتے ہیں۔‘‘
چودھری نے چلّا کر کہا ’’نہیں سب کے لئے میں گھوڑا نہیں دوں گا۔ یہ گھوڑا تو اتنے آدمیوں کے بوجھ سے ایک قدم بھی نہیں اٹھا پائے گا۔‘‘
گوپال نے فیتے کو لپیٹتے ہوئے کہا ’’سودا سودا ہے۔ تم نے یہ گھوڑا ہمیں کرائے پر دیا ہے اور اس پر ہم سب ضرور سوار ہوں گے، ہاں تو شامو بھائی، تم بے بی کو کہاں بٹھاؤ گے؟‘‘
’’بےبی!‘‘ شامو نے حیرت سے کہا۔ پھر اپنا منہ بند کر لیا اور اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگا۔ گوپال نے پھر کہا ’’تمہاری بیوی اُسے گود میں لے لے گی۔ لیکن ہم اپنی بکریاں کہاں رکھیں گے؟‘‘
چودھری نے اپنے گنجے سر پر بہتے ہوئے پسینہ کو پونچھا اور حیرانی سے چیخ کر کہا ’’بکریاں! تم گھوڑے کو مارنا چاہتے ہو؟ بس سودا ختم ہے۔ گھوڑا کوئی جہاز نہیں ہے!‘‘
گوپال نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ’’سودا سودا ہے۔‘‘ اس معاملے کو عدالت میں لے جائینگے۔‘‘
چودھری نے پانچ روپے نکال کر اُن کے سامنے پھینک دیئے ’’یہ رہے تمہارے روپے۔ اٹھاؤ اور یہاں سے بھاگ جاؤ۔‘‘
’’تم نے پندرہ روپے میں گھوڑا دیا تھا۔ اب پانچ روپے واپس کرنا چاہتے ہو۔ تم نے ہمیں کیا سمجھا ہے؟‘‘ گوپال نے چلّا کر کہا۔
’’ہاں! کیا سمجھا ہے تم نے ہمیں؟‘‘ شامو نے بھی اکڑ کر کہا۔
’’شامو نے مجھے پانچ روپے دیئے تھے!‘‘ چودھری نے کہا۔ ’’لیکن تم نے پندرہ روپے میں گھوڑا دیا تھا۔ دیا تھا نا؟ اگر تم پندرہ روپے واپس نہیں کرتے تو ہم تھانے میں تمہاری شکایت کرنے کیلئے جا رہے ہیں؟‘‘
پولیس کا نام سن کر چودھری ڈر گیا۔ اُس نے جیب سے دس روپے اور نکال کر اُن کے سامنے پھینکے اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔
وہ دونوں اپنے اپنے گھر کو چل دیئے۔ شامو نے اپنی بیوی کو تمام واقعہ سنایا۔ وہ بھی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئی۔ شامو نے کہا ’’چودھری مہا کنجوس ہے۔ ہم نے آج اُسے خوب مات دی ہے۔ میں نے پانچ روپے دیئے تھے اور اُس سے پندرہ روپے واپس لئے۔‘‘ اتنا کہہ کر اُس نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس کی ہنسی غائب ہوگئی۔
جیب میں پھوٹی کوڑی نہ تھی۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ اس کی بیوی نے پوچھا۔
’’اوہ! اس چور گوپال نے اُس کے دیئے دس روپے بھی رکھ لئے اور میرے پانچ روپے بھی۔ کہاں ہے وہ بدمعاش؟‘‘
لیکن گوپال وہاں کہاں تھا؟ وہ تو اپنے گھر جا چکا تھا۔ شامو اپنے پانچ روپے کھو کر اپنی بیوقوفی پر پچھتاتا، ہاتھ ملتا رہ گیا۔