Inquilab Logo Happiest Places to Work

حج مزید مہنگا، عازمین پر۱۰؍ہزار روپے کا مزید بوجھ

Updated: April 30, 2026, 8:54 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

۱۵؍ مئی تک اضافی رقم جمع کرانے کی ہدایت۔ مشرق وسطیٰ کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے ہوائی جہاز کا ایندھن مہنگا ہونے کا جواز پیش کیا گیا۔

Hajj pilgrims are being sent off at Mumbai`s Chhatrapati Shivaji Maharaj International Airport. Photo:INN
ممبئی کے چھتر پتی شیوا جی مہارا ج انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر عازمین حج کو روانہ کیا جارہا ہے۔ تصویر:آئی این این
 حج ۲۰۲۶ء کے لئے تمام عازمین پر مزید ۱۰؍ ہزار روپے کا اضافی بوجھ لادا جارہا ہے۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے توسط سے حج بیت اللہ کے لئے جانے والے تمام ایک لاکھ ۲۲؍ہزار ۵۰۰؍عازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ رقم ۱۵؍ مئی ۲۰۲۶ء تک جمع کرادیں۔ ۱۸؍ اپریل سے شروع ہونے والی عازمین کی روانگی سے اب تک جتنے عازمین مدینہ طیبہ پہنچ چکے ہیں ، ان کے اہل خانہ یہ ذمہ داری ادا کردیں۔ 
اس کے لئے حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سی کی جانب سے ۲۸؍ اپریل کو ایک سرکیولر جاری کیا گیا ہے۔ اس میں تفصیل سے تمام باتوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران سے پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر حج ۲۰۲۶ء کے فضائی چارٹر آپریشنز کے لئے ہوائی جہاز کے کرایے میں نظرثانی کے لئے وزارت اقلیتی امور نے ایک سرکیولر جاری کرکے اضافے کو منظوری دی ہے۔ اس لحاظ سے ایک عازم پر۱۰۰؍ ڈالر کی اضافی رقم شامل ہے، اسے حاجیوں کو برداشت کرنا ہوگا۔
حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی وجہ سے بنیادی کرایہ میں اصل میں ۴۰۰؍ ڈالر سے زیادہ کے اضافہ کا ایئر لائنز کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا مگر عازمین کے مفاد میں اور انہیں گراں بار ہونے سے بچانے کے لئے اضافے کو۱۰۰؍ ڈالر تک محدود کیا گیا۔ 
کیسے یہ رقم جمع کرائیں؟
حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عازمین حج یہ اضافی رقم کریڈٹ کارڈ /نیٹ بینکنگ کا استعمال کرتے ہوئے hajcommittee.gov.inیا حج سویدھا ایپ پر ادا کرسکتے ہیں ۔اسی طرح اسٹیٹ بینک آف انڈیا یا یونین بینک آف انڈیا کی کسی بھی شاخ میں حج کمیٹی آف انڈیا کے کھاتے میں مخصوص پے ان سلپ حج کمیٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب بینک حوالہ نمبر کا استعمال کرتے ہوئے بھی رقم جمع کرائی جاسکتی ہے ۔اس تعلق سے ہر کور کو فراہم کردہ منفرد بینک حوالہ نمبر رسید میں درج ہونا ضروری ہے۔ 
اس ضمن میںتمام ریاستی و مرکز کے زیر انتظام حج کمیٹیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ عازمین کو فوری طور پر مطلع کریں اور مطلوبہ رقم بروقت جمع کرانے کو یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ تمام دعوؤں کے باوجود امسال گزشتہ سال کے مقابلے پہلے ہی عازمین پر ۲۱؍ ہزار روپے سے زائد بوجھ پڑچکا ہے۔ ۲۰۲۵ء میںجہاں فی عازم ۳؍ لاکھ ۱۹؍ہزار روپے دینا پڑا تھا وہ ۲۰۲۶ء میں بڑھ کر۳؍لاکھ۴۰؍ ہزار روپے ہوگیا اور اب ایندھن کی قیمت بڑھنے کا حوالہ دے کر۱۰؍ ہزار روپے مزید ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
امسال یہ بھی ہوا کہ عازمین سے سفر حج خرچ کئی ماہ قبل ہی جمع کرالیا گیا۔ ایسے میں عازمین کا یہ سوال درست ہے کہ حج پر روانگی کے بعد ان پر مزید بوجھ لادنے کا کیا جواز ہے؟
مہاراشٹر حج کمیٹی کی ٹرینرس کے ذریعے پیغام رسانی 
  کمیٹی آف انڈیا کے جاری کردہ سرکیولر کے بعد ریاستی حج کمیٹی میںنمائندۂ انقلاب کے رابطہ قائم کرنے پربتایا گیا کہ ٹرینرس سے کہا گیا ہے کہ وہ عازمین کو اس تعلق سے پیغام دیں کہ وہ یہ رقم جمع کرائیں ۔ جو عازمین حج کے لئے روانہ ہوچکے ہیں، ان کی جانب سے یہ ذمہ داری اہل خانہ یا اعزہ ادا کردیں۔
پہلے لیا گیا کرایہ کیا کم ہوش ربا تھا ؟
قارئین کو یاد ہوگا کہ اس دفعہ سب سےسستا حج احمدآباد امبارکیشن پوائنٹ سے جانے والوں کا ہے اور سب سے مہنگا سفرِ حج وجے واڑہ سے ہوا، دوسرے نمبر پرسری نگرہے، حالانکہ ہمیشہ ممبئی سے جانے والوں کو سب سے کم خرچ دینا پڑتا تھا۔
یہ بھی کم حیران کن نہیںہے کہ ممبئی سے فی عازم ہوائی جہاز کا کرایہ ۹۶؍ ہزار ۹۳۴؍روپے، وجے واڑہ کا ایک لاکھ ۶۵؍ہزار ۷۰۹؍ روپے اورسری نگر کا ہوائی جہاز کا کرایہ ایک لاکھ ۴۸؍ہزار ۳۰۹؍ روپے لیا گیا، اس کے باوجوداب مزید ۱۰؍ ہزار روپے اداکرنے کوکہا گیا ہے جومجموعی طور پرسوا ارب روپے سےزائدہوگا ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK