Inquilab Logo Happiest Places to Work

رائے گڑھ ضلع کے ۳۹۲؍ دیہاتوں میں چٹان کھسکنے کا خطرہ،مکین جان ہتھیلی پر لئے جی رہے ہیں

Updated: April 30, 2026, 12:01 AM IST | Alibag

گزشتہ ۱۶؍ سال کے دوران چٹان کھسکنے کے ۱۱؍ واقعات پیش آچکے ہیں جن میں مجموعی طور پر ۳۵۰؍ افراد کی موت ہو چکی ہے، کئی متاثرین اب تک متبادل مکانات سے محروم

Such scenes are seen in Raigad during rainy days (File)
رائے گڑھ میں بارش کے دنوں میں ایسے مناظر دکھائی دیتے ہیں(فائل)

موسلا دھار بارش اورطوفان  کے دوران رائے گڑھ ضلع کی کئی پہاڑی بستیوں کو لینڈ سلائیڈنگ( چٹان کے کھسکنے) کا خطرہ ہوتا ہے۔ گزشتہ ۱۶؍ سال میں، یہاں ۱۱؍ بڑے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں ۳۵۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ ہر سال موسم با را ں میں کہیں نہ کہیں اس طرح کے چھوٹے بڑے واقعات ہوتے رہتے  ہیں۔
  اطلاع کے مطابق رائے گڑھ ضلع کے ۱۵؍ تعلقوں میں کروائے گئے جغرافیائی سروے کے مطابق ۳۹۲؍ گاؤں اب بھی لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات سے گھر ے ہوئے ہیں۔ان گاؤں میں ضروری اقدامات کیلئے ۴۰۰؍ تجاویز حکومت کو بھیجی گئی ہیں۔ تاہم حکومت نے ۳؍ سال میں ایک بھی تجویز منظور نہیں کی۔ لہٰذادیہی علاقوں میںاب بھی خوف برقرار ہے۔رائے گڑھ ضلع کے مہاڑ، پولاد پور، شری وردھن، مانگاؤں کے علاوہ جنوبی تعلقوں کے بہت سے گاؤں پہاڑوں کے دامن میں بسے ہوئے ہیں ۔ ۲۰۲۳ء میں، کھالاپور تعلقہ کے ارشال واڑی میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ  سے ۸۴؍ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ دیگر اضلاع کے مقابلے اس علاقے میں چٹان کھسکنے کے حادثات  زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہر مانسون میں یہاں لوگ کسی حادثے کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ ضلع کے کونڈیویتے، جوئی، روہن، کوتوال، لوئر چوہان واڑی، تلیے، سوتار واڑی، کیونالے، ارشل واڑی میں اس طرح کے واقعات پیش  آچکے ہیں...
 ٹھوس اقدامات کا فقدان
 رائے گڑھ کے جنوبی حصے میں کئی گاؤں پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں۔ ان دیہاتوں کو لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ ضلع انتظامیہ ہر سال عہدیداروں کو ان دیہاتوں میں اقدامات کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ تاہم اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کیلئے ضروری اقدامات نہیں کئے جاتے۔ جس کی وجہ سے موسم بار اں کے دوران شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں۔پہلے مرحلے میں ۷۳؍ گاؤں کا سروے کیا گیا۔سروے آف انڈیا نے لینڈ سلائیڈنگ کے ۳۹۲؍ علاقوں میں سے ۷۳؍ گاؤں کا ابتدائی سروے کیا جس میں علی باغ کے ۲؍، مروڈ کے ۳؍، شری وردھن کے ۳؍، مانگاؤں پین کے ۱۱؍، مہاڈ کے ۲۴؍ ، اور پولاد پورکے ۳۹؍،پہاڑی گاؤں شامل ہیں۔ 
متاثرین مکانات کے منتظر
موسم باراں میں رائے گڑھ ضلع میں گزشتہ ۱۶؍ سال میں مٹی کے تودے گرنے سے ۳۵۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگرچہ جوئی اور داسگاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ حادثات کے ورثاء کو زمین دی گئی  لیکن مستقل مکانات  بناکر نہیں دیئےگئے۔ مہاڈ تعلقہ میں تلئے گاؤں حادثہ میں ۲۷۲؍ مکانات مہاڈا کی طرف سے بنائے جانے تھے لیکن اب تک صرف    صرف ۶۳؍ لوگوں کو گھروں کی چابیاں ملی ہیں۔ باقی  متاثرین گھروں کے انتظار میں ہیں۔ پولاد پور کے کیونالے اور سوتار واڑی گاؤں کے ورثاء کو ابھی تک ان کے جائز مکان نہیں ملے ہیں۔انتظامیہ کی جانب سے عوام میں بیداری پیدا کی جارہی ہے۔
 رائے گڑھ میں ۲۰۲۳ء کے جغرافیائی سروے میں ۲۱۱؍ دیہات لینڈ سلائیڈنگ زون میں شامل تھے۔ ۲۰۲۴ء میں ان دیہاتوں کی تعداد گھٹ کر ۱۰۳؍ہو گئی جبکہ ۲۰۲۵ء اور ۲۰۲۶ء کے سروے میں یہ تعداد ۳۹۲؍  ہوگئی۔ ماہرین کے مطابق چٹان کھسکنے کے واقعات جنگلات کی کٹائی، مٹی کی کھدائی اور پہاڑوں پر تعمیرات کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے شکار گاؤں میں بیداری پیدا کی جائے۔ اس سلسلے میں انتظامیہ احتیاط برت رہا ہے اور مختلف پروگراموں کے ذریعے لوگوں میں بیداری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

raigad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK