• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغرور تتلی اور نیک کوّا

Updated: October 10, 2026, 5:27 PM IST | Atiya Badr Rehman | Mumbai

مغرور تتلی کوّا کے رنگ اور آواز کا مذاق اُڑاتی ہے لیکن وہی کوّا اس کی جان بچاتا ہے، پڑھئے یہ دلچسپ کہانی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
گاؤں سے قریب ایک چھوٹا سا جنگل تھا، جہاں چند جانور، پرندے اور کیڑے مکوڑے رہتے تھے۔ چونکہ یہ آبادی سے قریب تھا اس لئے اکثر آدمیوں کا گزر بھی ادھر سے ہو جاتا اور یہاں کے جانور بھی کبھی کبھی آبادی کی طرف نکل پڑتے۔ اس جنگل میں ایک پیڑ پر شہد کی مکھیاں رہتی تھیں اور اسی پیڑ کی شاخوں پر چند کوّے بھی رہا کرتے تھے۔ قریب ہی چند پودے اُگے تھے، جن پر بڑے پیارے لال، پیلے، نیلے، رنگ برنگے پھول کھلتے تھے۔ اور روزانہ ایک بڑی پیاری سی تتلی آکر اپنے نازک نازک رنگین پنکھ پھیلائے، ایک پھول سے دوسرے پھول اور دوسرے سے تیسرے پر اُڑتی رہتی۔ پھولوں پر بیٹھ کر کبھی پنکھ بند کر لیتی تو لگتا جیسے کوئی رنگین کلی ہو، اور کبھی پنکھ کھولتی تو معلوم ہوتا جیسے ایک ساتھ کئی پھولوں کی پتیاں اس کے پنکھوں پر سجی ہوں۔ بہر حال بڑی حسین تھی وہ۔
شہد کی مکھیاں اور کوّے روز اُسے دیکھتے تھے۔ مکھیوں اور کوّؤں میں بڑی دوستی تھی۔ اور تتلی انہیں بڑی پیاری لگتی تھی۔ ان لوگوں نے ایک دن سوچا، چلو تتلی سے بات کریں، ہوسکتا ہے کہ اس سے بھی دوستی ہو جائے کیونکہ چھوٹا سا جنگل ہے، آدمیوں کی جانب سے کوئی نہ کوئی خطرہ لگا رہتا ہے، اسی لئے ایک سے بھلے دو، دو سے بھلے چار۔
یہ سوچ کر ایک دن مکھیوں اور کوّؤں نے تتلی کے آتے ہی اُسے آواز دی۔
’’بہن تتلی ہمیں تم سے کچھ کہنا ہے۔‘‘ تتلی نے پنکھ بند کئے، پھر کھولے، پھر اپنے نازک سے بٹن جیسے سَر کو موڑا، اور بڑے ناز سے کہا ’’یہ کیسی کرخت آوازیں ہیں۔ اور پھر ہمیں مخاطب کرنے کی تمیز بھی نہیں۔‘‘ کوّے نے پوچھا ’’یہ بہن! ہم نے تو بہن کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس سے اچھا لفظ ہمارے ذہن میں آیا نہیں۔ ویسے بھی تم جو پسند کرو۔ وہی کہہ کر پکاریں گے تمہیں۔ اور ہاں، جہاں تک آواز کا تعلق ہے، اللہ نے جیسی بھی بنائی ہے۔ اس کا شکر ہے۔‘‘ تتلی اپنی بڑی ہی مہین آواز میں ہنس کر بولی، ’’لو سنو، میری آواز سنو! ایسی نرم جیسی نئی کونپل کو ہوا چھو گئی ہو۔ آواز ہو تو ایسی.... اور ہاں کس ناطے سے مَیں تمہاری بہن لگتی ہوں۔ تمہارا رنگ دیکھو، توبہ! ایسا سیاہ جیسے کوئلہ! اور مجھے دیکھو تو جانور تو کیا، انسان اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے تک خوشی سے مجھے پکڑنے میرے پیچھے دوڑتے ہیں.... اجی، کالے کوّے قریب ہی تو جھرنا بہتا ہے، کبھی اس میں اپنا منہ دیکھ آؤ، تو پھر دیکھوں کس منہ سے رشتہ جوڑتے ہو مجھ سے۔‘‘
 
 
کوّا چالاک تھا، لیکن پھر بھی اپنی تو ہین سن کر بیچارے نے شرم سے گردن جھکا لی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اتنی پیاری خوبصورت تتلی کی زبان اتنی کڑوی ہوگی۔ اور وہ اپنے حُسن پر اتنا غرور کرتی ہوگی۔‘‘ مکھی نے کوّے کو دیکھا اور کہا، ’’شانہ بھیّا، دل کیوں چھوٹا کرتے ہو، مَیں تتلی سے بات کرتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے تتلی کو پکارا، ’’محترمہ تتلی! ذرا سننا۔ بہن کہوں تو آپ ناراض ہوں گی۔ لیکن میری ایک بات سن لو۔ رشتہ جوڑنا اور دوستی کرنا پسند نہیں تو نہ سہی۔ لیکن اس طرح کسی کا دل تو نہ دُکھاؤ۔ دیکھو کوّے کو بھی اسی خدا نے بنایا ہے جس نے تمہیں اور مجھے بنایا ہے۔ کالا ہے تو اس کا کیا قصور۔ مانا کہ تم حسین ہو لیکن دُنیا میں خدا کی بنائی کوئی چیز بے کار نہیں۔
تتلی پھر ہنسی اور بولی، ’’اوہو! تو بی مکھی تمہیں بھی بولنا آتا ہے۔ مَیں تو سمجھتی تھی، تم صرف چوری کرتی ہو اور اپنے بھنبھناتے، بے رنگ پَروں سے اُڑ کر اپنے چھتے میں جا بیٹھتی ہو؟‘‘ اب مکھی کو بھی بڑا غصہ آیا۔ اس نے کہا، ’’مجھے بولنا تم سے زیادہ ہی آتا ہے۔ سننے کیلئے تیار ہو، تو ہو جائے مقابلہ۔‘‘
اب کیا تھا تتلی پھر سے اُڑی، غصہ سے کانپتی قریب کے ایک بڑے سے پھول پر آبیٹھی اور بولی، ’’ذرا سنو تو مَیں بھی، کیا بولنا آتا ہے تمہیں؟‘‘
مکھی بھی آگ بگولا تھی۔ فوراً بولی، ’’تمہاری وہ آواز جسے تم نرم کو نپل سے ہوا کے چھو‘نے کی مثال دیتی ہو، وہ کسی کو سُنائی دے تو اسے آواز کہیں۔ اور بقول تمہارے شہد کی مکھی کی بھنبھناتی آواز سُن کر تو انسان بھی ڈر کر بھا گیا ہے۔ اور ہاں تم مجھے چور کہتی ہو، اجی تتلی بی، دماغ رکھتی ہو تو سوچو مَیں پھولوں کا رس جمع کرتی ہوں تو انسان اسے صحت بخش، میٹھی غذا ’شہد‘ کے نام سے اکٹھا کرکے لے جاتا ہے، میرا چھتہ کبھی دیکھا ہے غور سے؟ کس سلیقے سے چوکور خانے بناتی ہوں، اور وہ بھی بے کار نہیں جاتا۔ انسان اس سے موم نکالتا ہے۔ اجی چور تو تم ہو۔ پھولوں کا رس چُراتی ہو اپنی غذا کے لئے.... اور ہاں، ایک بات اور سن لو، کوّے کے رنگ پر جو تم نے اعتراض کیا ہے، تو ذرا جھرنے پر جا کر اپنے پَروں کو بھی دیکھتیں! تمہارے ان رنگین پنکھوں پر خوبصورتی تو ان سیاہ دھبوں کی وجہ سے ہے، ورنہ تمہارا حسن بڑا پھیکا لگتا!‘‘
تتلی بولی، ’’کہہ چکیں اپنی تو میری سنو اب.... میرے حسن کو نظر نہ لگے۔ یہی سوچ کر اللہ میاں نے یہ سیاہ دھبے میرے پَروں پر ڈالے ہیں۔ اور تمہاری بساط ہی کیا۔ تم انسان کو کاٹتی ہو تو وہ نفرت سے بلبلا اٹھتا ہے۔ اسی لئے ڈرتا ہے تم سے۔ کیا فائدہ ایسی زندگی سے جو کسی کے ڈر کا باعث بنے۔ مجھے دیکھ کر تو انسان قدرت کی حسن کاری کا قائل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پھولوں کے گرد جیسے باریک بیجوں کو پھیلانے کا ایک ذریعہ ہوں مَیں بھی۔ یعنی زمین پر خوبصورت پھولوں کو پھیلانے کا ذریعہ۔ سمجھیں؟ لیکن یہ بھنبھناہٹ اور کائیں کائیں سننا پسند نہیں مجھے۔ اس لئے مَیں اب چلی اور آئندہ اگر کبھی مجھ سے معافی مانگنے کا خیال آئے تو مجھے تتلی رانی کہہ کر مخاطب کرنا۔‘‘ اس طرح تتلی ان کا دل دکھا گئی۔
دوسرے دن صبح میاں شانہ کوّا نکل پڑا۔ اپنے بیوی بچوں کیلئے کھانا فراہم کرنے۔ مکھیاں بھی سلام علیک کے بعد اپنے کام میں جٹ گئیں۔ شانہ کوّے کی کوّی بچوں کو کچھ دیر صبح کی دھوپ دینے باہر نکلی۔ اور پچھلے دن کی بات کو یاد کرکے پھولوں کے پودوں کی طرف نظر دوڑائی۔ دیکھا تتلی آج نہیں آئی۔ ناراض ہوگئی ہوگی، اس نے سوچا۔
پھر دوسرے دن اور تیسرے دن، یوں ہی پانچ دن گزر گئے۔ اور تتلی نہیں آئی۔ تب ایک دن شام کو جب شانہ کوّا لوٹا تو کوّی نے اس بات کا ذکر اس سے کیا۔ کوّے کو اور مکھیوں کو فکر ہوئی کہ تتلی کی خیریت معلوم کریں۔ رحم دل شانہ کوّا اس کا پتہ لگانے نکلنے ہی والا تھا کہ اتنے میں ایک چھوٹی سی تتلی اڑتی ہوئی وہاں آئی اور پکارا ’’بھیّا شانہ کوّا مَیں تتلی رانی کی بہن ہوں۔ چنّی تتلی میرا نام ہے۔ آپ سے مدد مانگنے آئی ہوں۔ رانی باجی بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہیں۔ جس دن آپ لوگوں نے انہیں دوستی کی دعوت دی، اس کے دوسرے دن انہوں نے غصہ کے مارے یہاں نہ آنے کی ٹھان لی۔ مَیں نے لاکھ منع کیا کہ بستی کی طرف مت جاؤ، لیکن مانیں نہیں۔ اور جھرنے کے اس پار وہ جو لال بنگلہ نظر آتا ہے نا، اس کے باغیچے کی طرف جانکلیں۔ اور پانچ دن سے لوٹیں نہیں تو مَیں پریشان ہو کر پتہ لگانے نکلی۔ اور دیکھا کہ باغیچے میں ایک چھوٹے سے شریر لڑکے نے انہیں باریک جال میں قید کر رکھا ہے۔ مجھے پتہ ہے بھیّا کہ باجی بہت مغرور ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے آس پاس کے کیڑوں اور پرندوں سے، ان کا جھگڑا ہے۔ ان کی دن رات کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ لوگ اتنے بیزار ہیں کہ کوئی مدد کو نہیں آرہا ہے۔ اب آپ لوگ ہی کچھ کریں۔‘‘
کوّا بڑا رحم دل تھا، فوراً تیار ہوگیا۔ لیکن چنّی تتلی نے کہا، ’’بھیّا یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔ اس لڑکے نے میری بہن کی نگرانی کے لئے ایک آدمی رکھا ہے اور خود باغیچے میں آنے والے پرندوں کو ایک کھلونے سے مار کر گرا دیتا ہے۔‘‘ مکھیوں نے سُنا تو کہا، ’’بھائی شانہ کوّا، یہ بات تم اکیلوں سے بننے والی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم کو بے جا کسی کو چھیڑنے کی عادت نہیں ڈالی۔ کچھ ایسا کرو کہ ہم اس باغیچے کے رکھوالے کو ہٹا سکیں۔‘‘ کوّے نے کچھ سوچا اور چنّی تتلی کے ساتھ اُڑ چلا۔ دونوں پہنچے باغیچے کے پاس اور دور، دور سے نظر رکھی کہ لڑ کا کیا کر رہا ہے۔ وہ اپنی چھوٹی سی کھلونا بندوق لئے پہلے تو گھومتا رہا۔ پھر تتلی رانی کے جال کے پاس آیا جو خاموش بے جان سی پڑی تھی۔ اُسے چھیڑا اندر کچھ پھولوں کی پتیاں ڈالیں، لیکن تتلی رانی اداس ہی پڑی رہی۔ یہ دیکھ کر اس نے فوارے کی راہ لی جو ایک حوض میں تھا۔ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں اس میں تیر رہی تھیں۔ لڑکے نے انہیں چھیڑنے کی غرض سے اپنی چھوٹی سی بندوق حوض کے کنارے رکھی، اور دونوں ہاتھ پانی میں ڈالے۔ کوّے نے موقع غنیمت جانا اور پھرتی سے وہ بندوق چونچ میں دبائی اور یہ جا وہ جا۔ لڑکے نے زور زور سے رونا، چیخنا شروع کیا۔ چوکیدار اور دوسرے نو کر دوڑے کوّے کو ہش ہش کرتے اور پتھر پھینکتے۔ لیکن شانہ کوّ ا بھی بڑا چالاک تھا۔ وہ بھی ایسے اُڑ رہا تھا کہ لوگ اس کا پیچھا کرسکیں۔ کوّا اُڑتے اُڑتے پہنچا اپنے پیڑ کے پاس۔ اور مکھیوں کے چھتے کے قریب ہی شاخ پر کھلونا والی بندوق کو اٹکا دیا۔ نوکروں نے اسے ڈنڈوں سے نکالنے کی کوشش کی تو شہد کی مکھیوں کو دھکا لگا۔ مکھیاں تو منتظر تھیں وہ نوکروں کو لپٹ گئیں۔
اِدھر یہ مصروف تھے، اُدھر کوّ ا اُڑا اور تتلی رانی کے اوپر سے جال کھینچ کر پھینک دیا۔ تتلی را نی اتنی کمزور ہو چلی تھی کہ خود سے اُٹھ بھی نہ سکتی تھی۔ چنّی تتلی کی مدد سے کوّے کے پیروں پر بیٹھی اور کوّے نے اسے اس کے گھر پہنچایا۔ چنّی تتلی نے جلدی سے کچھ پھولوں کا رس اسے پلایا، تب بڑی نحیف آواز میں بولی، ’’بھیّا شانہ کوّا۔ آج مجھے عقل آگئی ہے۔ جیسے ہی کچھ طاقت آجائے گی، اپنی بہنوں مکھیوں سے معافی مانگنے آؤں گی۔ آج سے آپ سب مجھے بہن تتلی کہیں۔ اب مجھے پتہ چلا کہ واقعی رنگ و نسل کے فرق کو مٹاکر، مل کر رہنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔‘‘
شانہ کوّا یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ کہنے لگا، ’’بہن، اب تم آرام کرو۔ فی الحال تو مَیں تمہارا پیغام سب ساتھیوں کو سنا دوں گا۔ پھر تم اطمینان سے آکر مل لینا۔ اچھا اب مَیں چلوں، خدا حافظ!‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK