• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونے کی کلغی والا مرغ

Updated: October 03, 2026, 2:25 PM IST | Sabra Habib | Mumbai

مرغ کو پکڑا گیا اور اسے جلتی آگ میں پھینک دیا گیا۔ وہ آگ کے بیچوں بیچ جا کر گرا۔ تب وہ وہاں بولنے لگا ’’ناک او ناک پانی اگلو۔ منہ او منہ پانی اگلو۔‘‘ اور اس طرح سے پانی گرا۔ اور چولہے کی ساری آگ بجھ گئی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

کسی شہر میں ایک بوڑھا اور بوڑھیا رہتے تھے۔ وہ دونوں بہت ہی غریب تھے کھانے کو گیہوں کا ایک دانہ بھی نہ تھا۔ تب وہ جنگل گئے اور وہاں سے خوب ڈھیر سے بلوط کے بیج جمع کرکے لائے۔ انہوں نے کھانا شروع کیا۔ کھا ہی رہے تھے کہ پتہ نہیں کیسے بوڑھیا کے ہاتھ سے ایک بیج زمین پر گر پڑا۔ اور وہ اندر دھنستا چلا گیا۔ تھوڑے دنوں میں اس بیج سے پودا نکل آیا۔ پھر فرش سے اونچا ہونے لگا۔

جب بوڑھیا کی نظر پڑی تو وہ شوہر سے بولی، ’’فرش کو کاٹنا چاہئے تاکہ پیڑ اور بڑا ہو جائے۔ کیونکہ جب وہ بڑا ہو جائے گا تو اناج کے لئے ہم کو جنگل نہیں جانا پڑے گا۔ یہیں جھوپڑی میں توڑ کر کھا لیا کریں گے۔‘‘

بڈھے نے فرش کاٹ دیا۔ پیر بڑا ہوتا گیا اور بڑھتے بڑھتے چھت سے جا لگا۔ بڈھے نے چھت بھی کاٹ دیا۔ پھر کھپریل بھی اتار دیا۔ مگر پیڑ تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا، رکنے کا نام ہی نہیں لیتا تھا یہاں تک کہ آسمان تک پہنچ گیا۔

جب ان دونوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں رہا تو بڈھے نے ایک بورا لیا اور پیڑ پر چڑھ گیا۔ چڑھتا رہا، چڑھتا رہا اور آسمان تک پہنچ گیا۔ وہاں آسمان پر وہ ادھر اُدھر گھومنے پھرنے لگا۔ پھر اسے سونے کی کلغی والا ایک مرغ نظر آیا۔ اور اس کے پاس ایک چکی رکھی ہوئی تھی۔ بڈھے نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی۔ اس نے فوراً مرغے کو پکڑا، چکی لی اور نیچے اترنے لگا۔

یہ بھی پڑھئے: گھڑی چور

جب جھوپڑی میں پہنچا تو بیوی سے بولا، ’’اب کیا کریں۔ ہم کھائیں گے کیا؟‘‘ ’’ذرا ٹھہرو۔‘‘ بوڑھیا بولی، ’’مَیں چکی چلاتی ہوں۔‘‘

اس نے چکی چلا نا شروع کی۔ یہ کیا اس میں سے تو پکے پکائے کیک اور پراٹھے نکلتے گئے۔ دونوں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔

اسی وقت پاس سے ایک امیر آدمی گزر رہا تھا۔ وہ ان کی جھوپڑی میں آیا۔ اور بولا، ’’تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہوگا؟‘‘

بوڑھیا نے جواب دیا، ’’بیٹے تم کو کیا چاہئے، پراٹھے کھاؤ گے؟‘‘

پھر اس نے چکّی اٹھائی اور چلانا شروع کی۔ فوراً ہی کیک اور پراٹھے نکلنا شروع ہوگئے۔

امیر آدمی نے خوب کھایا اور بولا، ’’نانی ماں! یہ چکّی میرے ہاتھ بیچ دو۔‘‘ ’’نہیں۔‘‘ وہ بولی، ’’مَیں اسے نہیں بیچوں گی۔‘‘

اس نے ان کی مہربانی کا فائدہ اٹھایا اور رات میں چکّی چرالی۔ جب ان دونوں کو پتہ چلا کہ ان کی چکّی چرالی گئی ہے تو انہیں بہت افسوس ہوا۔ اور رونے پیٹنے لگے۔

’’ٹھہرو۔‘‘ سونے کی کلغی والا مرغ بولا، ’’مَیں اڑ کر جاتا ہوں اور اسے پکڑتا ہوں۔‘‘

پھر وہ امیر آدمی کے محل پر پہنچا۔ پھاٹک پر بیٹھ گیا اور زور زور سے چلانے لگا، ’’ککڑوں کوں ککڑوں کوں۔ امیر آدمی او امیر آدمی ہماری چکی واپس کر دو۔ جو سونے کی نیلے رنگ کی ہے۔‘‘

جب اس آدمی نے یہ سنا تو اس نے حکم دیا۔

اس مرغ کو فوراً پکڑو اور پانی میں پھینک دو۔

مرغ کو پکڑا گیا اور اسے ایک کنویں میں پھینک دیا گیا۔

تب وہ بولا، ’’ناک او ناک پانی پی لو۔ منہ او منہ پانی پی لو۔‘‘ اور اس طرح سے کنویں کا سارا پانی ختم ہوگیا۔

سارا پانی پیا اور پھر محل کی طرف اٹھ گیا۔ بالکنی پر بیٹھا۔ اور پھر زور زور سے چلانے لگا، ’’ککڑوں کوں ککڑوں کوں۔ امیر آدمی او امیر آدمی ہماری چکی واپس کرو۔ سونے کی۔ نیلی۔ واپس کرو۔ ہماری چکی، سونے کی نیلی۔ امیر آدمی۔ او امیر آدمی۔

تب اس آدمی نے اپنے باورچی کو حکم دیا کہ اسے جلتی آگ میں پھینک دیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے:گاندھی جی کی اہم خصوصیات جنہیں ہر طالب علم کو یاد رکھنا چاہئے!

مرغ کو پکڑا گیا اور اسے جلتی آگ میں پھینک دیا گیا۔ وہ آگ کے بیچوں بیچ جا کر گرا۔ تب وہ وہاں بولنے لگا ’’ناک او ناک پانی اگلو۔ منہ او منہ پانی اگلو۔‘‘ اور اس طرح سے پانی گرا۔ اور چولہے کی ساری آگ بجھ گئی۔

مرغ کے پَر پھڑ پھڑائے وہ محل کی طرف اُڑا اور زور زور سے چلانے لگا، ’’ککڑوں کوں، ککڑوں کوں۔ امیر آدمی او امیر آدمی۔ ہماری چکّی واپس کرو۔ سنہری اور نیلی۔ ہماری چکّی واپس کرو۔ سونے کی نیلی۔ امیر آدمی او امیر آدمی۔‘‘

ٹھیک اسی وقت، امیر آدمی کے گھر دعوت ہو رہی تھی۔ مہمانوں نے سنا کہ مرغ کیا کہہ رہا ہے تو وہ فوراً وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ امیر آدمی ان کے پیچھے پیچھے دوڑا پھر مرغ نے جلدی سے چکّی اٹھائی اور گھر کی طرف اُڑ گیا۔

(ماخوذ روسی کہانیاں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK