• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

عالمی کہانیوں کا ترجمہ: مَجُوس کا تحفہ

Updated: February 09, 2024, 4:48 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

امریکی ادیب او ہنری کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی گفٹ آف میگی (امریکی تلفظ: میجائے)‘‘ The Gift of Magi کا اُردو ترجمہ۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

ایک ڈالر ۸۷؍ سینٹ۔ اس کے پاس بس اتنی ہی رقم تھی جس میں ۶۰؍ سینٹ سکوں کے شکل میں تھے جو اس نے کافی عرصہ میں جمع کئے تھے۔ کبھی گھر کا راشن یاسبزیاں خریدتے وقت تو کبھی قصاب کی دکان پر مول بھاؤ کرتے ہوئے وہ پیسے بچانے کی کوشش کرتی تھی۔ تبھی اس نے اپنے سرخ رخساروں پر آنسوؤں کی تپش محسوس کی۔ اس رقم کو ’’ڈیلا‘‘ نے تین مرتبہ شمار کیا۔ ایک ڈالر ۸۷؍ سینٹ اور اگلے دن کرسمس ہے۔ 
یہ واضح تھا کہ اتنی رقم میں وہ کچھ نہیں خرید سکتی۔ اس کے پاس کمرے میں پڑے جھری زدہ صوفے پر گر کر آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں رہ گیا تھا۔ لہٰذا ڈیلا نے یہی کیا۔ اپنی زندگی کے مشکل دنوں کو وہ اسی طرح آنسو بہاکر آسان بنانے کی کوشش کرتی تھی۔ ستم ظریقی یہ تھی کہ یہ مشکل دن ہر ایک دن بعد آجاتا تھا۔ زندگی سسکیوں اور مسکراہٹوں کا نام ہے۔ لیکن ڈیلا کی زندگی میں سسکیاں زیادہ اور مسکراہٹیں کم تھیں۔ 
ڈیلا رو لینے کے بعد اب سسکیاں بھر رہی تھی۔ اس دوران ہم اس کے مکان کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس چھوٹے سے فلیٹ کا کرایہ فی ہفتہ ۸؍ ڈالر تھا۔ چیزیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کسی بھکاری کا مکان تو نہیں لگتا تھا مگر لوگ اسے ’’بھکاری کا گھر‘‘ کہنے میں دو سیکنڈ نہیں لگاتے تھے۔ یہ فلیٹ ڈیلا کی غربت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ مکان کے دروازے کے قریب ایک ٹوٹا پھوٹا لیٹر باکس تھا جس میں کبھی خط نہیں آتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ڈور بیل تھی جس میں بٹن نہیں تھا۔ دروازے پر ’’مسٹر جیمز ڈِلنگھم ینگ‘‘ درج تھا جس کے کئی حروف اب مٹنے کے قریب تھے۔ مسٹر جیمس ’’جم‘‘ کے نام سے مشہور تھے اور مسز ڈِلنگھم’’ڈیلا‘‘ تھی جو فی الحال سسکیاں بھر رہی ہے۔ کچھ دیر بعد ڈیلا نے اپنا رونا دھونا ختم کیا اور اپنے نازک رخساروں کو ہتھیلی کے پشت سے بے دردی سے رگڑتی اٹھ کھڑی ہوئی اور کھڑکی کے پاس آگئی۔ کل کرسمس تھا اور اس کے پاس صرف ایک ڈالر ۸۷؍ سینٹ تھے۔ وہ مہینوں سے پیسے بچا رہی تھی۔ ان کی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ تھے مگر وہ کفایت شعار تھی۔ وہ کرسمس پر جم کیلئے شاندار تحفہ خریدنا چاہتی تھی لیکن ایک ڈالر ۸۷؍ سینٹ میں کچھ اچھا مل پانا ناممکن تھا۔ وہ برسوں سے اس سوچ میں گھنٹوں صرف کرتی تھی کہ وہ اپنے پیارے جم کیلئے ایسا تحفہ خریدے گی جو اس کے شایان شان ہو۔ کمرے کی کھڑکیوں کے درمیان ایک آئینہ تھا۔ یہ آئینہ کم بلکہ آئینہ کی ایک پٹی تھی جس میں ایک انسان کا سراپا بمشکل ہی سما پاتا تھا۔ ڈیلا اتنی دبلی پتلی تھی کہ اس کا عکس آئینہ میں اچھی طرح فٹ ہوجاتا تھا۔ 
اُس نے آئینے میں کچھ دیکھا اور پھر اچانک وہ کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر آئینے کے سامنے آگئی۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں لیکن اس کے چہرے کا رنگ ۲۰؍  سیکنڈ میں اُڑ گیا۔ اس نے اپنے بالوں سے کلپ نکالا اور اس کے بال لہراتے ہوئے کمر پر بکھر گئے۔ ڈِلنگھم خاندان کے ان دو افراد کے پاس دو ایسی چیزیں تھیں جن پر انہیں ناز تھا۔ 

پہلی چیز؛ جم کے پاس سونے کی ایک گھڑی تھی جو برسوں سے اس کے خاندان کی ملکیت تھی۔ دوسری چیز؛ ڈیلا کے خوبصورت بال۔ اگر کسی دن ڈیلا اپنے بال فلیٹ کی کھڑکی سے نیچے لٹکا دیتی تو ملکۂ شیبہ اپنی ساری دولت اس کے بالوں پر لٹا دیتی۔ اگر شاہ سلیمان، جم کی گھڑی دیکھ لیتے تو اسے پانے کیلئے اپنی ساری دولت اس کے نام کردیتے۔ 

ڈیلا کے خوبصورت بال اس کے گرد لہرا رہے تھے۔ بھورے پانی کے جھرنے کی طرح لہراتے اور چمکتے بال۔ اس کے بالوں کی لمبائی گھٹنوں کے نیچے تک تھی۔ کسی خیال نے دستک دی اور وہ گھبرا گئی۔ آنکھوں میں موجود دو آنسو سرخ قالین میں جذب ہوگئے۔ اپنے بالوں کو سمیٹ کر وہ گلی میں آگئی۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی آنسو تیر رہے تھے۔ 
’’ایم ایم ای سوفرونی؛ بالوں کا ہر سامان‘‘ اس دکان کے پاس ڈیلا کے قدم رک گئے۔ وہ اداسی سے دکان میں چلی گئی۔ 
’’میڈم! کیا تم میرے بال خریدو گی؟‘‘ ڈیلا نے سوال کیا۔ ’’جی ہاں ! مَیں بال بھی خریدتی ہوں۔ ‘‘ میڈم نے کہا۔ ’’اپنی ٹوپی اتارو اور مجھے اپنے بال دکھاؤ۔ ‘‘
ڈیلا نے بھورا جھرنا بکھیر دیا۔ 
’’بیس ڈالر۔ ‘‘ میڈم نے بالوں کو دیکھتے ہی کہا۔ ’’مجھے منظور ہے۔ ‘‘ ڈیلا نے جلدی سے کہا۔ اور اگلے دو گھنٹوں بعد وہ دکانوں کے چکر کاٹ رہی تھی کہ اپنے پیارے شوہر جم کیلئے کوئی قیمتی اور خوبصورت تحفہ خرید سکے۔ 
آخر کار اسے ایک تحفہ مل ہی گیا۔ یہ یقینی طور پر جم کیلئے بنایا گیا تھا۔ کسی بھی دکان میں اس جیسا کوئی دوسرا تحفہ نہیں تھا۔ یہ پلاٹینم کی ایک فوب چین (گھڑی سے لگائی جانے والی چین۔ دورِقدیم میں گھڑی کو اس چین سے منسلک کیا جاتا تھا اور پھر اسے کوٹ یا پتلون میں لگایا جاتا تھا) تھی جس کا ڈیزائن سادہ مگر منفرد تھا۔ اس نے تحفہ کی قیمت ۲۱؍ ڈالر ادا کی اور ۸۷؍ سینٹ لئے گھر لوٹ آئی۔ وہ بہت خوش تھی۔ اپنے جم کیلئے اس نے دنیا کا سب سے نایاب تحفہ خریدا تھا۔ 
جب ڈیلا گھر پہنچی تو اس نے سمجھداری دکھائی اور اپنے سر پر بچ جانے والے بالوں کو گھنگھریالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کرلنگ آئرن لئے اور اس وقت طلب کام میں مصروف ہوگئی۔ چالیس منٹ کے اندر اس کا سر چھوٹے چھوٹے گھنگھروؤں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ ایک اسکول لڑکے کی طرح نظر آرہی تھی۔ اس نے آئینے میں اپنا عکس احتیاط اور تنقیدی نظروں سے دیکھا۔ ’’میری اس حرکت کے بعد اگر جم مجھ پر غصہ نہ کرے اور مجھے غور سے دیکھے تو مَیں اب بھی قبول صورت ہوں۔ مَیں ایک ڈالر ۸۷؍ سینٹ سے کچھ خرید ہی نہیں سکتی تھی۔ مَیں ایسا کرنے پر مجبور تھی۔ ‘‘ اس نے خود کلامی کے انداز میں اپنے آپ کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ ۷؍ بجے ڈیلا نے کافی اور آلو کے چپس بنائے۔ 
جم ہمیشہ وقت پر گھر آتا تھا۔ ڈیلا اپنے ہاتھ میں ’’فوب چین‘‘ لئے دروازے کے قریب میز کے کونے پر بیٹھ گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے جم کے قدموں کی آواز سنی۔ ایک لمحے کیلئے وہ سفید پڑ گئی۔ گھبراہٹ میں جتنی دعائیں یاد تھیں، سبھی پڑھ ڈالیں۔ سرگوشی میں کہنے لگی: ’’براہ کرم، خدا، جم کو یہ سمجھائیں کہ مَیں اب بھی خوبصورت ہوں۔ ‘‘
دروازہ کھلا اور جم اندر داخل ہوا۔ اس نے احتیاط سے درواز بند کر دیا۔ وہ ایک دبلا پتلا انسان تھا جس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ وہ صرف ۲۲؍ سال کا تھا۔ اس سرد موسم میں اسے ایک اوور کوٹ اور دستانوں کی ضرورت تھی۔ گھر میں چپس اور کافی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی نظریں ڈیلا پر پڑیں۔ کچھ دیر تک ڈیلا، جم کے تاثرات سمجھ ہی نہیں سکی۔ 
وہ گھبرا گئی۔ جم کی آنکھوں میں غصہ تھا نہ حیرت۔ ناپسندیدگی تھی نہ ہیبت۔ اس کے تاثرات عجیب تھے۔ وہ صرف ڈیلا کو دیکھے جارہا تھا۔ ڈیلا اس کے پاس آگئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا ترجمہ: لارا

’’جم!‘‘ اس نے روتے ہوئے کہا، ’’مجھے اس طرح مت دیکھو۔ مَیں نے اپنے بال کاٹ کر فروخت کردیئے ہیں کیونکہ میں کرسمس پر تمہیں تحفہ دینا چاہتی تھی۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ میرے بال دوبارہ بڑھ جائیں گے۔ کیا تمہیں اعتراض ہے؟ میرے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا۔ مَیں تمہارے لئے تحفہ خریدنا چاہتی تھی۔ میرے بال بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ جم! کچھ کہو۔ `میری کرسمس، جم! مسکراؤ جم! مَیں نے تمہارے لئے بہت خوبصورت تحفہ خریدا ہے۔ ‘‘
’’تم نے اپنے بال کاٹ دیئے؟‘‘ جم نے بڑی مشقت سے کہا، گویا وہ اب تک اس حقیقت کو قبول نہیں کرسکا تھا، یا، اپنے آپ کو سمجھانے میں اسے اتنا وقت لگا تھا۔ 
’’اسے کاٹ کر بیچ دیا۔ ‘‘ ڈیلا نے کہا، ’’کیا تم مجھے بغیر بالوں کے پسند نہیں کرتے؟ مَیں وہی ہوں نا! بس بال کاٹ لئے ہیں۔‘‘
 جم نے کمرے میں یہاں وہاں دیکھا۔ 
’’تم کہہ رہی ہو کہ تم نے اپنے بال کاٹ دیئے۔ ‘‘ اس نے حیرت اور تقریباً احمقانہ انداز میں کہا۔ ’’بال کمرے میں نہیں ہیں۔ ‘‘ڈیلا نے کہا۔ ’’میں نے بال فروخت کردیئے ہیں۔ یہ کرسمس کی شام ہے۔ پلیز! مجھ سے بات کرو۔ مَیں نے یہ تمہارے لئے کیا ہے۔ مَیں تم سے بے انتہا محبت کرتی ہوں اور مَیں تمہارے لئے اپنی ہر قیمتی چیز فروخت کرسکتی ہوں۔ کیا میں ناشتہ لگا دوں، جم؟‘‘
جم شاید اس حقیقت کو قبول کرنے میں وقت لے رہا تھا۔ اس نے اپنے اوور کوٹ کی جیب سے ایک پیکٹ نکال کر میز پر رکھ دیا۔ 
’’ڈیلا! ایسا کبھی نہیں سوچنا کہ دنیا کی کوئی طاقت میرے دل میں تمہارے لئے محبت کم کرسکتی ہے۔ ‘‘ جم نے کہا۔ ’’لیکن جب تم یہ پیکٹ کھول کر دیکھوگی تو تمہاری بھی وہی کیفیت ہوگی جو کچھ دیر پہلے میری تھی۔ ‘‘
سفید انگلیوں نے تیزی سے پیکٹ پھاڑ دیئے اور پھر ڈیلا خوشی سے چیخ پڑی۔ اگلے ہی پل اسے افسوس ہونے لگا۔ آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ پیکٹ میں کنگھیوں کا ایک خوبصورت سیٹ تھا جس میں ہر قسم کی چھوٹی بڑی کنگھیاں تھیں (اس دور میں کنگھیوں کا سیٹ صرف امراء ہی کے پاس ہوتا تھا)۔ یہ سیٹ ڈیلا نے کچھ عرصہ قبل شہر کی ایک مہنگی اور بڑی دکان میں دیکھا تھا۔ 

خالص کچھوے کے خول میں موجود ان کنگھیوں کے دستے پر قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ اس کے خوبصورت بھورے بالوں کیلئے یہ سیٹ موزوں ترین تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ کنگھیاں مہنگی ہیں۔ وہ انہیں خریدنا چاہتی تھی مگر جیب اجازت نہیں دیتی تھی۔ وہ تڑپتی رہی اور گھر لوٹ آئی۔ لیکن آج یہ کنگھیاں اس کی تھیں لیکن اس کے سر پر خوبصورت بھورے بال نہیں تھے۔ ڈیلا نے کنگھیوں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، ’’جم! میرے بال بہت تیزی سے بڑھتے ہیں۔ ‘‘
اچانک ڈیلا اچھل پڑی۔ جم نے اب تک اپنا خوبصورت تحفہ نہیں دیکھا تھا۔ ڈیلا نے اپنی مٹھی جم کے سامنے کھول دی۔ جم نے اس کی چاند سی ہتھیلی تھام لی جس پر قیمتی دھات چمک رہی تھی۔ 
’’جم! کیا یہ خوبصورت نہیں ہے؟ مَیں نے اسے ڈھونڈنے کیلئے پورے شہر کی خاک چھانی۔ اب تمہیں دن میں سو بار وقت دیکھنا پڑے گا۔ مجھے اپنی سونے کی گھڑی دو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ جب یہ فوب چین سونے کی گھڑی سے منسلک ہوگی تو کیسی نظر آئے گی۔ ‘‘گھڑی دینے کے بجائے جم جھری زدہ صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ اپنے سر کے پیچھے رکھ کر مسکرا یا۔ 
’’ڈیلا، ‘‘ اس نے کہا، ’’چلو اپنے کرسمس کے تحائف کو تھوڑی دیر کیلئے بھول جاتے ہیں۔ یہ اچھے ہیں مگر فی الحال ہم انہیں استعمال نہیں کرسکتے۔ مَیں نے تمہارے لئے کنگھیوں کا سیٹ خریدنے کیلئے اپنی سونے کی گھڑی فروخت کردی۔‘‘

نوٹ: مجوس (آتش پرست، یا، پارسی) کو انگریزی میں Magiکہتے ہیں۔ عیسائیت میں تین مجوس کا واقعہ کافی مشہور ہے۔ انجیل اور عیسائی اساطیری کہانیوں کے مطابق یہ وہ تین شخص تھے جو مسیح کی پیدائش پر ان کے دیدار کیلئے یروشلم پہنچے اور اپنے ہمراہ سونا، لوبان اور مُر، بطور سوغات لے کر گئے۔ 
یہ اولین تین افراد تھے جو مسیح پر ایمان لائے۔ انجیل میں مذکور ہے کہ یہ مشرق (یعنی ایران) سے آئے تھے۔ معروف جغرافیہ داں مارکو پولو کے سفرنامے میں ان تینوں کے مربع نما مقبروں کا ذکر ہے جو تہران کے قریب ساوہ کے مقام پر ہیں۔ ان کے تحفوں میں سونا، مسیح کی حیثیت ظاہر کرتا ہےیعنی ’’یہودیوں کا بادشاہ۔ ‘‘ لوبان، بغیر باپ کے بیٹے کے طور پر مسیح کی خوشبودار شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔ مُر(ایک خوشبو دار گوند)، مسیح کی موت کی علامت ہے۔ اس کہانی کا نام ’’مجوس کا تحفہ‘‘ اس لئے ہے کہ مجوس، عقلمند شخصیت تھے۔ یہ لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق تحفے دیتے تھے۔ انہوں ہی نے کرسمس کے تحائف دینے کی رسم ایجاد کی۔ عقلمند ہونے کے ناطے، ان کے تحفے بلاشبہ دانشمندانہ تھے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہاں ایک فلیٹ میں رہنے والے دو افراد (ڈیلا اور جم) نے بے وقوفی کی کہ اپنے گھر کی سب سے قیمتی دو چیزیں ایک دوسرے کیلئے نادانستہ طور پر قربان کر دیں۔ لیکن تحفے دینے والوں میں یہ دونوں سب سے زیادہ عقلمند تھے۔ تحائف دینے اور وصول کرنے والوں میں یہ دونوں سب سے زیادہ عقلمند ہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ عقلمند ہیں۔ وہ مجوس ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK