جو خبریں موصول ہو رہی ہیں وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ایران میں حکومت کیخلاف گھیرا تنگ کرنیوالوں کے سَر پر کس کا ہاتھ ہے؟
انقلاب ایران کو تقریباً ۴۵؍ سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ ۲۰؍ برس پہلے میں بھی ایران گیا تھا اور وہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا کہ مَیں لرز گیا تھا مگر جب مَیں نے احباب سے ذکر کیا کہ ایرانی انقلاب یا ایرانی حکومت کے خلاف گہری سازش رچی گئی ہے تو بیشتر لوگوں نے میرے اندیشوں کو مسترد کر دیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب میں اصفہان کی ایک مارکیٹ سے گزر رہا تھا تو ایک ایرانی لڑکی جو اپنی اصل عمر سے کم کی نظر آرہی تھی دوڑتی ہوئی آئی اور مجھے میرے نام سے پکارا۔ حیرت کی بات تھی، حیرت ہوئی۔ مَیں نے پوچھا کہ وہ مجھ کو کیسے جانتی ہے تو اس نے بتایا کہ وہ پونے میں زیر ِ تعلیم ہے اور اس نے وہیں مجھے دیکھا ہے۔ کچھ دیر تک تو مَیں اس سے دلار پیار کی باتیں کرتا رہا پھر درخواست کی کہ وہ میری بیٹی کے لئے حجاب خریدوانے میں میری مدد کرے۔ کچھ دیر تو وہ یونہی ٹال مٹول کرتی رہی، پھر صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’مجھے حجاب سے نفرت ہے۔‘‘ اس جواب سے مَیں نے اندازہ کر لیا تھا کہ انقلاب ایران کے خلاف گہری سازش رچی گئی ہے۔ اس کے بعد حجاب کے خلاف تحریک ۲۰۲۲ء میں شروع ہوئی اور اب جھوٹی سچی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ ایران میں بغاوت کی آگ بھڑکتی جا رہی ہے۔ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا پھر اخبارات سے تصدیق ہوگئی کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ بغاوت کی چنگاری کو ہوا دے رہی ہے۔ اب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے امریکہ و اسرائیل کی حکومتوں اور خفیہ ایجنسیوں نے ایران میں تشدد کے علاوہ ایران، سعودی عرب اور ایران و افغانستان میں جنگ کے شعلے بھی بھڑکانے کی کوشش کی تھی مگر فریقین نے ہوش کے ناخن لئے اور بات مزید بگڑنے سے بچ گئی تھی۔ موجودہ تحریک کے بارے میں جو خبریں موصول ہو رہی ہیں وہ یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں کہ ایران میں حکومت کے خلاف گھیرا تنگ کرنے والوں کے سَر پر کس کا ہاتھ ہے؟
افغانستان میں بھی ان طاقتوں نے یہی کرنے کی کوشش کی تھی مگر پھر مغرب نواز طاقتوں کو گمنامی کے غار میں چھپنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اللہ کرے ایران میں بھی یہی ہو۔ یہ صحیح ہے کہ جو طاقت ایرانی حکومت کو احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت نہ استعمال کرنے کی دھمکی دے رہی ہے اسی کی لگائی ہوئی پابندیوں کے سبب ایران کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور وہاں کے عوام کیلئے اناج ہی نہیں دوا لینا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ ایسے میں عوام کے ایک طبقے کا سڑکوں پر آجانا خلاف توقع نہیں ہے مگر جب کوئی طبقہ کسی ملک کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آجائے اور کھلم کھلا نعرہ لگائے کہ اس کا مقصد پرانے حکمراں اور طرز حکمرانی کو واپس لانا ہے تو حکومت خاموش نہیں بیٹھ سکتی لہٰذا ایران کی حکومت کا بغاوت کو سرد کرنا سمجھ میں آتا ہے مگر ڈونالڈ ٹرمپ کا ایرانی حکومت کو دھمکی دینا سمجھ سے باہر ہے.... کچھ عرصہ پہلے اسرائیل کے عوام بھی تو اپنی حکومت کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے ان کے خلاف طاقت بھی استعمال کی تھی مگر ٹرمپ نے اسرائیل کی حکومت کو تو کوئی دھمکی نہیں دی تھی۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں کو ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کی کیا ضرورت ہے؟ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے بجا طور پر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان جو کھچڑی پکتی رہی ہے یا حال ہی میں دونوں نے جو ملاقات کی ہے اس میں یہی طے ہوا ہے کہ جنگ اور جنگی حربوں کے ذریعہ جو مقصد نہیں حاصل کیا جاسکتا وہ مقصد بغاوت کی چنگاری بھڑکا کر حاصل کیا جائے۔ مگر کیا ایسا کرنا آسان ہے؟ شاید نہیں ۔ اس نتیجے کے پیچھے حکومت اور ایران کی حزب اختلاف کے بیانات اور کچھ دوسرے حقائق ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ ایران میں مہنگائی ۴۲؍ فیصد سے زیادہ ہوچکی ہے۔ بیروزگاری کا اور بُرا حال ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء ۷۲؍ فیصد اور دوائیں ۵۰؍ فیصد مہنگی ہوچکی ہیں ۔ ایرانی ریال کا اور بُرا حال ہے یعنی کرنسی ختم اور معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ جس سے عوام میں پریشانی ہے اور وہ سڑکوں پر اتر آئے ہیں مگر عوام میں کچھ دشمن طاقتوں کے ایجنٹ بھی ہیں جو عوام کو تشدد کیلئے ورغلا رہے ہیں ۔ ایسے میں کسی بھی حکومت کا حرکت میں آنا ضروری ہے۔ ایرانی حکومت نے ایک درجن افراد گرفتار کئے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ پریشاں حال عوام کو تشدد پر اکسا رہے تھے۔ روس نے کئی کارگو جہاز تہران اور اصفہان بھیجے ہیں کہ ایرانی عوام کو راحت پہنچائی جاسکے مگر حزب اختلاف کی لیڈر مریم راجوی کا بیان ہے کہ صرف ۲۰۲۵ء میں ایران کے ۹۷؍ شہروں میں ۲۲۰۰؍ افراد سولی پر چڑھائے گئے۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء کی تعداد کی دگنی اور ۲۰۲۲ء کی تعداد کی چوگنی ہے۔ ۲۰۲۵ء میں ۶۴؍ خواتین کو بھی پھانسی دی گئی تھی جو پچھلے سال کے مقابلے دگنی تھی۔
ایران کی حکومت تسلیم کر رہی ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھی ہے۔ صدر مسعود پیزے شکیان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کی مشکلات سننا چاہتی ہے مگر کرنسی پر قابو پانا مشکل ہے۔ ٹرمپ اور ایران کے اعلیٰ اختیاراتی عہدیداروں میں جھڑپ بھی ہورہی ہے۔ ایرانی سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں شورش بڑھا رہے ہیں ۔ بات سمجھ میں آتی ہے۔ ۱۹۷۱ء میں جب عربوں کو ابتدائی دنوں میں فتح ہوئی تھی تو سازشوں کا ایک سلسلہ سامنے آیا تھا۔ اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر پر بم برسائے تھے، بعد میں بہار عرب کے نام پر عوامی احتجاج کی لہر چلی تھی۔ یہی ایران کے خلاف کیا جا رہا ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ مذہبی رہنما علی خامنہ ای ۸۶؍ سال کی عمر میں خود فیصلے کرتے ہیں ۔ ٹرمپ کا دھمکی دینا یوں بھی غلط ہے۔ اگر ان کو انسانیت یا مظلوم عوام سے پیار ہوتا تو وہ بنگلہ دیش کے حکمرانوں کو بھی وینزویلا کے صدر کی طرح گرفتار کرکے لے جاتے کہ بنگلہ دیش میں اقلیت پر ظلم کی خبریں آرہی ہیں مگر انہوں نے وہاں ایسا کچھ نہیں کیا۔ یہی دہرا معیار امریکہ کی تباہی کا باعث بنے گا۔ یہ صحیح ہے کہ ایران بُری طرح پریشاں حال عوام اور ان میں چھپے دشمنوں کے گھیرے میں ہے مگر خامنہ ای کے عزم محکم کے ساتھ دُنیا بھر کے لوگوں کی دعائیں بھی ان کے ساتھ ہیں اس کے باوجود ایران میں کیا ہوتا ہے اس کا انحصار روس اور چین کے رویے اور اقدام پر ہے۔ ان کا سرگرم نہ ہونا خامنہ ای کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ محض اندیشہ نہیں ہے۔ پناما کے مینوئل نوریگا، ہونڈو راس کے جان آرلینڈو، ہیتی کے جین برٹرینڈ، ارسٹائیڈ اور وینزویلا کے مادورو کو امریکہ عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گرفتار کرچکا ہے۔ ہمیں ایران کے عزائم اور تیور دونوں عزیز ہیں بس یہ درخواست ہے کہ ایرانی قیادت اپنی حفاظت پر بھی توجہ دے۔