Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن

Updated: July 18, 2026, 9:58 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ہندوستان کے معروف مصنف منشی پریم چند کی شہرہ آفاق کہانی ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ کی آسان تفہیم۔ یہ کہانی ۱۹۰۷ء میں شائع ہوئی تھی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مغرب کی جانب پھیلی ہوئی سنہری روشنی دیکھتے ہی دیکھتے مدھم پڑنے لگی اور شہر کی بلند فصیلوں، گنبدوں اور میناروں پر شام کا نرم سایہ اتر آیا۔ بازار، جو دن بھر خریداروں کے شور اور تاجروں کی آوازوں سے گونجتے رہتے تھے، اب خاموش ہونے لگے تھے۔ دکانوں کے سامنے چراغ روشن کئے جا رہے تھے اور گلیوں میں چلنے والے راہ گیروں کی رفتار بھی سست پڑ گئی تھی۔ لیکن شہر کا حویلیوں والا حصہ روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ یہاں کی سنگِ مرمر کی سیڑھیاں، رنگین شیشوں والی کھڑکیاں، خوشبو بکھیرتے ہوئے باغیچے اور دروازوں پر لٹکتے قیمتی پردے اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ یہاں دولت کی کبھی کمی نہیں رہی۔ رات ہوتے ہی ان عمارتوں میں ساز بجتے، محفلیں سجتیں، شاعری ہوتی اور شہر کے امیر ترین لوگ یہاں اپنی دولت اور ذوقِ موسیقی کا اظہار کرنے آتے۔ ان عالیشان عمارتوں میں اس زمانے کی سب سے مشہور حسینہ دلفریب رہتی تھی۔ دور دور تک اس کے حسن، ذہانت اور ناز و انداز کے چرچے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ جس نے ایک بار اسے دیکھ لیا، وہ اس کے حسن کا اسیر ہوگیا۔ رئیس، جاگیردار، تاجر اور شہزادے اس کی ایک جھلک پانے کیلئے بے قرار رہتے تھے۔ قیمتی ہیرے، سونے کے زیورات، نادر تحفے اور بیش قیمت لباس اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیئے جاتے مگر وہ شاید ہی کسی کی طرف دیکھتی۔ اکثر لوگ سمجھتے تھے کہ دولت ہر دروازہ کھول سکتی ہے مگر دلفریب کے دروازے پر پہنچ کر انہیں معلوم ہوتا کہ کچھ چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں خریدنا ممکن نہیں۔ اس کے بے شمار چاہنے والوں میں دلفگار نامی ایک نوجوان بھی تھا، جو شہزادہ تھا نہ دولتمند۔ اس کے پاس صرف ایک سچا دل تھا۔ 
وہ کئی بار اس کی حویلی کے باہر آیا، کئی راتیں اسی گلی میں گزاری مگر اسے اندر آنے کی اجازت نہ ملی۔ اس کے باوجود وہ مایوس نہ ہوا۔ ایک دن دلفریب نے اپنے خادم کے ذریعے پیغام بھیجا کہ اگر دلفگار چاہے تو اگلے روز حاضر ہو سکتا ہے۔ یہ خبر سن کر دلفگار کو محسوس ہوا جیسے برسوں کی دعائیں قبول ہو گئی ہوں۔ 
دوسرے دن حویلی پہنچا تو وہاں کی شان و شوکت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ خادم اسے ایک وسیع کمرے تک لے گیا، جہاں باریک ریشمی پردہ لٹکا تھا۔ پردے کے اُس پار دلفریب تھی۔ دلفگار کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ 
کچھ دیر بعد پردے کے پیچھے سے نہایت شیریں مگر باوقار آواز سنائی دی، ’’کیا تم ہی دلفگار ہو؟‘‘ ’’جی۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔ 
’’میں نے سنا ہے کہ تم اپنی جان تک میرے قدموں پر نچھاور کرنے کو تیار ہو۔ ‘‘ 
’’یہ سچ ہے، ‘‘ دلفگار نے بغیر کسی تردد کے کہا، ’’اگر میری جان آپ کے کسی کام آ سکتی ہے تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا۔ ‘‘
دلفریب نے کہا، ’’محبت دعوؤں کا نام نہیں۔ جو شخص خود کو سچا عاشق کہتا ہے، اسے اپنی سچائی ثابت بھی کرنی پڑتی ہے۔ ‘‘
دلفگار نے فوراً جواب دیا، ’’مجھے آزما لیجئے۔ ‘‘ دلفریب نے کہا، ’’تو پھر میری ایک شرط سن لو۔ دنیا میں جو چیز سب سے انمول ہے، اسے تلاش کر کے میرے پاس لے آؤ۔ اگر تم وہ نایاب رتن میرے قدموں میں رکھ دو، تو میں تمہیں اپنا ہم سفر بنا لوں گی لیکن ناکام ہوئے تو اس دروازے پر کبھی مت آنا۔ ‘‘
اب دلفگار کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا، دنیا کی قیمتی ترین چیز تلاش کرنا۔ اگر دلفریب اس سے دولت یا نایاب خزانہ مانگتی تو شاید وہ کسی نہ کسی طرح اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا، مگر ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ کیا ہے، اس سوال کا جواب نہ کسی کتاب میں لکھا تھا اور نہ ہی کسی دانشمند نے اسے کبھی بتایا تھا۔ 
کئی دنوں بعد اسے سمجھ میں آگیا کہ دلفریب کو دولت سے سروکار نہیں۔ وہ ذہین ہے، اس کے نزدیک سب سے انمول چیز کوئی اورہے، اور پھر اس نے انمول رتن کی تلاش میں شہر چھوڑ دیا۔ اس کے قدموں کے سامنے طویل راستے تھے، پہاڑ تھے، جنگل تھے، اور اجنبی بستیاں تھیں۔ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ سفر کتنے دنوں، کتنے مہینوں یا کتنے برسوں پر محیط ہوگا، مگر اس کے دل میں ایک ہی عزم تھا کہ وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا۔ اس نے متعدد شہروں کی خاک چھانی۔ ہر شخص نے اپنے علم اور تجربے کے مطابق جواب دیا۔ لیکن کوئی بھی جواب دلفگار کو مطمئن نہیں کرسکا۔ 
ایک شام وہ ایک اجنبی شہر میں پہنچا۔ سورج غروب ہونے والا تھا۔ ابھی وہ کسی سایہ دار جگہ کی تلاش میں تھا کہ اچانک کانوں میں شور و غوغا کی آوازیں آئیں۔ سبھی لوگ ایک ہی سمت میں تیزی سے جا رہے تھے۔ دلفگار بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔ ایک وسیع میدان میں سیکڑوں آدمی جمع تھے۔ میدان کے بیچوں بیچ ایک اونچا تختہ بنا ہوا تھا۔ دلفگار نے قریب کھڑے ایک معمر شخص سے پوچھا، ’’یہاں کیا ہونے والا ہے؟‘‘ بوڑھے نے کہا، ’’آج ایک بدنام مجرم کو سزا دی جائے گی۔ ‘‘ 
چند ہی لمحوں بعد سپاہیوں کا ایک دستہ نمودار ہوا۔ ان کے درمیان زنجیروں میں جکڑا ایک شخص چل رہا تھا جسے تختے کے قریب لایا گیا۔ قاضی نے سزا کا حکم ایک بار پھر بلند آواز میں پڑھ کر سنایا۔ اسی لمحے مجرم نے اچانک بلند آواز میں کہا، ’’ایک لمحہ، صرف ایک لمحہ!‘‘
سبھی چونک گئے۔ قانون کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد مجرم کی آخری خواہش پوچھی جاتی تھی۔ قاضی نے اشارہ کیا کہ اگر اس کی کوئی آخری خواہش ہے تو بیان کرے۔ مجرم کی نظر ایک چار یا پانچ برس کے بچے پر پڑی جو اپنے باپ کی انگلی پکڑے تماشائیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ دنیا کی سختیوں سے بے خبر، معصوم مسکراہٹ اس کے چہرے پر کھیل رہی تھی۔ وہ کبھی اپنے باپ کی طرف دیکھتا، کبھی لوگوں کے ہجوم کو حیرت سے تکتا اور کبھی زمین پر پڑے کنکروں سے کھیلنے لگتا۔ 
مجرم نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، ’’مَیں اس بچے کو گود میں لینا چاہتا ہوں۔ ‘‘ قاضی نے اجازت دے دی۔ بچے کا باپ پہلے جھجکا، مگر سپاہیوں کے اشارے پر اس نے بچے کو آگے بڑھا دیا۔ مجرم نے کانپتے ہاتھوں سے بچے کو اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ بچے نے بے خوفی سے اسے دیکھا اور اپنی ننھی انگلیاں اس کی ڈاڑھی میں پھنسا دیں۔ بچہ ہنسنے لگا، جیسے اسے اس بات کا احساس ہی نہ ہو کہ جس شخص کی گود میں وہ ہے، وہ چند لمحوں بعد اس دنیا میں نہیں رہے گا۔ یہ معصوم ہنسی مجرم کے دل پر بجلی بن کر گری۔ اسے اپنا بچپن یاد آ گیا۔ وہ دن یاد آئے جب وہ بھی اپنی ماں کی گود میں اسی طرح ہنسا کرتا تھا۔ اسے اپنا باپ یاد آیا، وہ گھر یاد آیا جسے اس نے جوانی کی سرکشی میں چھوڑ دیا تھا، وہ پہلا گناہ یاد آیا جس نے اسے جرم کی راہ پر ڈال دیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری زندگی خون، نفرت اور ظلم میں ڈوب گئی۔ اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ اس نے بچے کو زمین پر اتار دیا۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ ڈھانپ کر رونے لگا۔ یہ برسوں کے گناہوں، پشیمانی اور کھوئی ہوئی انسانیت کا اعتراف تھے۔ دلفگار، جو اب تک خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، یکایک چونک اٹھا۔ اس نے سوچا، ’’یہ عام آنسو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسے دل سے نکلا ہے جو ساری زندگی پتھر بنا رہا مگر آخری لمحے میں اسے اپنے گناہوں کا احساس ہو گیا۔ شاید دنیا میں اس سے زیادہ قیمتی کوئی چیز نہیں ہو سکتی کہ ایک مردہ ضمیر دوبارہ زندہ ہو جائے۔ ‘‘
جیسے ہی مجرم کو تختۂ دار کی طرف لے جایا گیا، دلفگار آگے بڑھا۔ اس نے زمین پر گرے اس کے آنسو کی بوند کو نہایت احتیاط سے اپنے رومال میں جذب کر لیا، گویا وہ واقعی دنیا کا سب سے قیمتی گوہر ہو۔ اسے یقین ہونے لگا تھا کہ شاید اس کی طویل جستجو اب اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ 
وہ دوبارہ اپنے شہر پہنچا۔ برسوں گزر چکے تھے۔ اس کی شکل و صورت بدل چکی تھی۔ چہرے پر دھوپ اور گردِ سفر کے آثار نمایاں تھے، لباس پھٹ چکا تھا۔ مگر اس کی آنکھوں میں ایک نئی روشنی تھی۔ خادم اسے اسی کمرے میں لے گیا جہاں برسوں پہلے دلفریب نے شرط رکھی تھی۔ پردے کے پیچھے سے وہی مانوس آواز آئی۔ ’’دلفگار، کیا تم واپس آ گئے؟‘‘
’’جی، ‘‘ اس نے ادب سے جواب دیا، ’’اور میں وہ چیز بھی ساتھ لایا ہوں جسے میں دنیا کا سب سے انمول رتن سمجھتا ہوں۔ ‘‘
’’پیش کرو، ‘‘ دلفریب نے کہا۔ 
دلفگار نے نہایت احتیاط سے رومال کھولا اور آنسو کی بوند، جسے اس نے اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھ کر محفوظ رکھا تھا، دلفریب کے سامنے پیش کر دی۔ پھر اس نے پورا واقعہ تفصیل سے سنایا۔ دلفریب سنتی رہی، پھر کہا، ’’دلفگار، تم ایک بہت قیمتی چیز لائے ہو۔ واقعی ایسا آنسو نایاب ہوتا ہے۔ انسان کا دل جب برسوں کی غفلت کے بعد جاگتا ہے تو اس کی قیمت دنیا کے بڑے بڑے خزانوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ‘‘ دلفگار مسکرانے لگا۔ 
دلفریب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’مگریہ دنیا کا سب سے انمول رتن نہیں ہے۔ ‘‘ یہ الفاظ سنتے ہی دلفگار کے چہرے کی رونق ماند پڑ گئی۔ اس نے پوچھا، ’’کیا اس سے بھی زیادہ قیمتی کوئی چیز موجود ہے؟‘‘ دلفریب نے نہایت سکون سے جواب دیا، ’’ہاں !‘‘ 
دلفگار پھر نامعلوم راستوں پر نکل پڑا۔ مہینے گزرتے گئے۔ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچتا رہا۔ کہیں جنگ کی تباہ کاریاں دیکھیں، کہیں قحط سے بلکتے ہوئے بچے، کہیں دولت کے انبار اور کہیں فقیروں کی جھوپڑیاں۔ اس نے نیک لوگوں کو بھی دیکھا اور ظالموں کو بھی، عبادت گزاروں کو بھی اور دنیا پرستوں کو بھی۔ ہر تجربہ اسے کچھ نہ کچھ سکھاتا، مگر اس کا دل ہر بار یہی کہتا کہ ابھی منزل دور ہے۔ 
ایک دن وہ ایک جنگ زدہ علاقے میں پہنچا۔ فضا بارود کی بو سے پُر تھی۔ زمین جگہ جگہ کھدی ہوئی تھی اور ہوا میں گرد کے بادل اُڑ رہے تھے۔ اسے معلوم ہوا کہ دو ملکوں کے درمیان خونریز جنگ جاری ہے۔ سپاہی اپنے وطن کی حفاظت کیلئے جانیں ہتھیلی پر رکھ کر لڑ رہے تھے اور میدانِ جنگ ہر لمحہ نئے شہیدوں کے خون سے رنگین ہو رہا تھا۔ 
دلفگار کیلئے یہ منظر بالکل نیا تھا۔ اس نے پہلے بھی موت دیکھی تھی مگر یہ موت مختلف تھی۔ یہاں لوگ دولت یا ذاتی دشمنی کیلئے نہیں بلکہ اپنے وطن، اپنے لوگوں اور اپنی عزت کیلئے جان دے رہے تھے۔ لڑائی اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی۔ توپوں کی آواز مدھم ہو چکی تھی مگر میدان میں ہر طرف زخمی اور شہید سپاہی بکھرے پڑے تھے۔ کہیں کسی زخمی کی کراہ سنائی دیتی، کہیں کوئی اپنے ساتھی کو آواز دے رہا تھا، اور کہیں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ 
دلفگار ان زخمیوں کے درمیان چلنے لگا۔ اسی دوران اس کی نظر میدان میں گرے ایک زخمی نوجوان سپاہی پر پڑی جو۔ اس کی وردی جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی اور سینے پر گہرا زخم تھا، جس سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ اس کے قریب کوئی طبیب تھا نہ ساتھی۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے چہرے پر خوف کا کوئی نشان نہ تھا۔ دلفگار اس کے قریب پہنچا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔ ’’بھائی!‘‘ اس نے نرمی سے کہا، ’’کیا تمہارے لئے پانی لاؤں ؟‘‘
سپاہی نے نفی میں سر ہلایا، ’’اب پانی سے کیا ہوگا؟‘‘ اس نے کمزور مگر پُرسکون آواز میں کہا۔ ’’میرا سفر ختم ہونے والا ہے۔ ‘‘ 
دلفگار کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے پوچھا، ’’تمہیں افسوس نہیں کہ تم اس عمر میں دنیا چھوڑ رہے ہو؟‘‘ سپاہی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی، ’’افسوس؟‘‘ اس نے بمشکل سانس لیتے ہوئے کہا، ’’اگر میری ایک جان سے میرے وطن کے ہزاروں لوگ محفوظ رہ جائیں تو یہ سودا مہنگا نہیں۔ انسان ایک دن ویسے بھی مر جاتا ہے، لیکن خوش نصیب وہ ہے جس کی موت دوسروں کی زندگی بن جائے۔ ‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے بڑی محبت سے اپنی مٹھی کھولی۔ اس کی مٹھی میں اپنے وطن کی مٹی کی ایک چھوٹی سی ڈھیلی تھی۔ اس نے اسے اپنے ہونٹوں سے لگایا، پھر سینے سے چمٹا لیا، ’’یہی میری سب سے بڑی دولت ہے۔ ‘‘ اس نے ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا، ’’خدا کرےیہ سرزمین ہمیشہ آزاد رہے۔ ‘‘ 
الفاظ ابھی مکمل بھی نہ ہوئے تھے کہ اس کے زخم سے خون کا ایک تازہ قطرہ بہہ نکلا۔ 
وہ قطرہ زمین پر گرا۔ سپاہی کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ دلفگار نے محسوس کیا کہ ابھی ابھی اس کے سامنے ایک ایسی قربانی مکمل ہوئی ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ یہ خون کسی ذاتی مفاد کیلئے نہیں بہا تھا۔ نہ دولت کی خاطر، نہ شہرت کیلئے، نہ اقتدار کی خواہش میں۔ یہ خون صرف وطن کی محبت میں بہا تھا۔ دلفگار نے عقیدت کے ساتھ اپنے رومال کا ایک گوشہ شہید سپاہی کے زخم پر رکھا اور اس کے خون کا ایک ننھا سا قطرہ جذب کر لیا۔ اس نے شہید کیلئے دعا کی اور دلفریب کی حویلی کی جانب قدم بڑھائے۔ اس بار اس کے دل میں پہلے سے کہیں زیادہ یقین تھا کہ شاید اس کی جستجو اب اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ 
کئی ہفتوں کے سفر کے بعد وہ دوبارہ اپنے شہر پہنچا۔ گلیاں وہی تھیں، بازار وہی تھے اور دلفریب کی حویلی بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی تھی۔ دلفگار کی آمد کی اطلاع اندر بھیجی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ پھر اسی وسیع کمرے میں کھڑا تھا جہاں ریشمی پردے کے پیچھے دلفریب موجود تھی۔ ’’دلفگار!‘‘ اس نے کہا، ’’تم پھر آ گئے؟‘‘ ’’جی، ‘‘ دلفگار نے سر جھکا کر جواب دیا، ’’اور اس بار مجھے یقین ہے کہ میں خالی ہاتھ نہیں آیا۔ ‘‘
’’کیا لائے ہو؟‘‘ دلفگار نے احتیاط سے رومال کھولا، اور اس میں جذب شدہ خون کے ننھے نشان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے میدانِ جنگ کا پورا واقعہ بیان کیا۔ کافی دیر خاموشی چھائی رہی، پھر ریشمی پردہ ایک طرف سرک گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب دلفگار نے دلفریب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ واقعی غیر معمولی حسن کی مالک تھی مگر اس وقت اس کے چہرے پر حسن سے زیادہ وقار اور سنجیدگی نمایاں تھی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ وہ بڑی دیر تک خون کے ننھے نشان کو دیکھتی رہی، پھر کہا، ’’دلفگار! تم کامیاب ہو گئے۔ ‘‘ یہ الفاظ سن کر دلفگار نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ دلفریب نے رومال کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا، جیسے یہ کوئی مقدس امانت ہو۔ 
’’یہی دنیا کا سب سے انمول رتن ہے۔ ‘‘
اس کی آواز میں غیر معمولی تاثیر تھی۔ 
’’وہ آنسو جو ایک گناہگار کی آنکھ سے توبہ کے احساس میں نکلے، یقیناً بہت قیمتی تھے کیونکہ وہ ایک مردہ ضمیر کی بیداری کی علامت تھے۔ لیکن اس شہید کے خون کا ایک قطرہ، جس نے اپنے وطن، اپنی قوم اور اپنے لوگوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کر دی، ان تمام خزانوں سے بڑھ کر ہے جنہیں دنیا دولت سمجھتی ہے۔ ‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہی، پھر بولی، ’’دولت ختم ہو جاتی ہے، تاج و تخت بدل جاتے ہیں، حسن ماند پڑ جاتا ہے، شہرت وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہے مگر جو خون وطن کی عزت کیلئے بہایا جائے، وہ قوموں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اسی خون کی بدولت قومیں سربلند رہتی ہیں اور آنے والی نسلیں آزادی کی سانس لیتی ہیں۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک مرصع صندوقچہ منگایا اور اس میں سے ایک کاغذ نکال کر سونے کے پانی سے لکھا:
’’وہ آخری قطرۂ خون جو وطن کی حفاظت میں گرے، دنیا کی سب سے بیش قیمت شے ہے۔ ‘‘
پھر وہ اپنی نشست سے اٹھی، دلفگار کے قریب آئی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس لمحے دلفگار کو محسوس ہوا کہ اس کی اصل کامیابی دلفریب کو حاصل کرنا نہیں بلکہ اس حقیقت تک پہنچنا ہے جس کیلئے وہ برسوں دنیا کی خاک چھانتا رہا تھا۔ محبت نے اسے سفر پر بھیجا تھا مگر سفر نے اسے انسان بنا دیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK