آپ جانتے ہیں کہ پائی (π ) یعنی 3.14 یا 22/7 لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ دائرہ نما ہر چیز اسی کی مرہون منت ہے؟ سوچئے اگر دنیا سے پائی غائب ہوجائے تو کیا ہوگا؟
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 10:04 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
آپ جانتے ہیں کہ پائی (π ) یعنی 3.14 یا 22/7 لیکن کیا آپ یہ جانتے ہیں کہ دائرہ نما ہر چیز اسی کی مرہون منت ہے؟ سوچئے اگر دنیا سے پائی غائب ہوجائے تو کیا ہوگا؟
تصور کریں کہ آپ کے ہاتھ میں ایک کاپی اور قلم ہے۔ آپ سے کہا جاتا ہے کہ ایک عدد لکھنا شروع کریں۔ آپ دس ہندسے لکھتے ہیں، پھر سو، پھر ہزار۔ وقت گزرتا جاتا ہے، لیکن وہ عدد ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ نہ اس کا آخری ہندسہ آتا ہے، نہ اس میں کوئی ایسا باقاعدہ نمونہ دکھائی دیتا ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکیں کہ آگے کیا آنے والا ہے۔ اب آپ کے ذہن میں ایک ہی سوال ہوگا؛ کیا واقعی ایسا بھی کوئی عدد ہے جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا؟
یہ بھی پڑھئے: ہر تعلیمی سرگرمی اور تجربہ آپ کے مستقبل کی تعمیر میں اہم
’’پائی‘‘ ایک حیرت انگیز عدد ہے
طلبہ نے ریاضی میں 3.14یا 22/7 کی صورت میں پائی کو دیکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صرف اندازے ہیں۔ پائی کی اصل قیمت 3.141592..... سے شروع ہوتی ہے اور پھر ہندسے بغیر رُکے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی نے اس کا آخری ہندسہ نہیں دیکھا کیونکہ یہ عدد ختم ہی نہیں ہوتا۔ دنیا کے طاقتور ترین کمپیوٹر بھی پائی کے کھربوں ہندسے معلوم کر چکے ہیں، مگر ہر نئی گنتی کے بعد مزید ہندسے سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ عدد انسان کو اپنے پیچھے دوڑاتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یہ صرف کتابیں نہیں، آپ کی Mentor ہیں، اِن سے ہر دن کچھ نیا سیکھیں
۲۲؍ جولائی کا انتخاب کیوں؟
۲۲؍ جولائی کو Pi Approximation Day منایا جاتا ہے۔ ریاــضی میں 22/7 کو پائی کی قیمت نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے پائی کا بہت عمدہ تخمینہ (Approximation) کہا جاتا ہے۔ اگر آپ ۲۲؍ کو ۷؍ سے تقسیم کریں تو جواب آتا ہے:
22 ÷ 7 = 3.142857…
۷؍ واں مہینہ جولائی ہے اس لئے اس ماہ کی ۲۲؍تاریخ کو یہ دن منانے کا انتخاب کیا گیا۔ واضح رہے کہ پائی کی دریافت عظیم یونانی ریاضی داں ارشمیدس (تصویر: بائیں جانب) نے کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: آسان مراحل میں جانئے پورا سال تعلیمی ہدف پر قائم رہنے کا طریقہ
ارشمیدس؛ جس نے دائرے کا راز جاننے کی ٹھان لی
تقریباً ۲۲۰۰؍ سال پہلے، جب کمپیوٹر تھے نہ کیلکولیٹر، اور نہ ہی جدید سائنسی آلات کا تصور۔ بحیرۂ روم کے کنارے ایک خوبصورت یونانی شہر سراقوس میں ایک ایسا نوجوان رہتا تھا جسے دنیا بعد میں تاریخ کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار کرنے لگی۔ اس کا نام تھا ارشمیدس۔ وہ عام لوگوں کی طرح صرف چیزوں کو دیکھتا نہیں تھا، ان کے بارے میں سوچتا بھی تھا۔ اگر وہ کسی کنویں سے پانی نکالتا، تو سوچتا کہ ڈول اوپر کیسے آتا ہے؟ اگر کسی کشتی کو پانی پر تیرتے دیکھتا، تو اس کے ذہن میں سوال اٹھتا کہ لکڑی ڈوبنے کے بجائے تیرتی کیوں ہے؟ اگر وہ کسی پہیے کو گھومتے دیکھتا، تو سوچتا کہ اس دائرے کے اندر کون سا اصول چھپا ہوا ہے۔ اس کیلئے دنیا ایک کتاب تھی، اور ہر چیز ایک سوال۔ ان ہی سوالوں میں ایک سوال ایسا بھی تھا جس نے اسے برسوں تک سوچنے پر مجبور رکھا۔ کیا ہر دائرے میں کوئی ایسا راز چھپا ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا؟ ارشمیدس نے دیکھا کہ دائرے چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی۔ کسی برتن کا منہ گول ہے، پہیہ بھی گول ہے، سورج اور چاند بھی ہمیں گول دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن کیا ان سب کے درمیان کوئی مشترک تعلق موجود ہے؟ اس زمانے کے ریاضی داں جانتے تھے کہ اگر دائرے کے گرد کا فاصلہ، یعنی محیط، اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کے فاصلے، یعنی قطر، پر تقسیم کیا جائے تو ہر بار تقریباً ایک ہی جواب حاصل ہوتا ہے۔ لیکن وہ جواب آخر ہے کیا؟ یہی وہ معمہ تھا جس نے ارشمیدس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس نے سوچا، اگر دائرے کی صحیح پیمائش ممکن نہیں، تو کیوں نہ اس کے قریب پہنچنے کی کوشش کی جائے؟
یہ بھی پڑھئے: وہ ۲۴؍ شخصیات جو اے آئی کی دنیا کو تشکیل دے رہی ہیں
چنانچہ اس نے دائرے کے اندر ایک کثیرالاضلاع (ایسی شکل جس کے کئی ضلع ہوں ) بنایا۔ ابتدا میں اس شکل کے صرف چند ضلع تھے، اس لئے وہ دائرے سے کافی مختلف نظر آتی تھی۔ پھر اس نے انہی اضلاع کی تعداد بڑھانی شروع کر دی۔ چار، چھ، آٹھ، بارہ، چوبیس؛ جوں جوں اضلاع بڑھتے گئے، وہ شکل دائرے سے مشابہ ہوتی گئی۔ ارشمیدس نے ایک اور کثیرالاضلاع دائرے کے باہر بھی بنایا۔ اب دائرہ دو شکلوں کے درمیان تھا۔ ایک شکل اندر سے دائرے کو چھو رہی تھی اور دوسری باہر سے اسے اپنے اندر لئے ہوئے تھی۔ اب اس کی دو حدیں تھیں۔ وہ جانتا تھا کہ دائرے کا اصل محیط ان دونوں شکلوں کے درمیان ہے۔ اس نے بار بار حساب کئے، نئے نئے خاکے بنائے اور آخرکار اپنی حیرت انگیز ذہانت کی مدد سے ثابت کیا کہ ’’پائی‘‘ کی اصل قیمت دو مخصوص اعداد کے درمیان موجود ہے۔ یہ ریاضی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی کامیابی تھی۔ بعد کے زمانوں میں انہی حسابات کی بنیاد پر 22/7 (3.14) جیسا شاندار تخمینہ سامنے آیا، جو اتنا درست ہےکہ اب بھی اسی کی مدد سے دائرے سے متعلق بے شمار حسابات کئے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آپ مشین کو سکھائیں گے کہ وہ ڈیٹا سے کیسے سیکھے اور فیصلے کرے!
پائی ہمارے اِردگرد ہے مگر نظر کیوں نہیں آتا؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ پائی ہماری روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں موجود ہے؟ صبح بیدار ہونے سے لے کر رات کو سونے تک، نہ جانے کتنی بار پائی سے آپ کا واسطہ پڑتا ہے مگر آپ کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ یاد رکھئے، جہاں دائرہ ہے، وہاں پائی ہے:
(۱) کرکٹ کے میدان میں پائی
اگر آپ کرکٹ کے شوقین ہیں تو یقیناً آپ نے گیند کو ہوا میں بلند ہوتے، اسپن ہوتے اور باؤنڈری کی طرف جاتے دیکھا ہوگا۔ گیند گول ہوتی ہے، اس لئے اس کی ساخت اور حرکت کو سمجھنے میں بھی پائی استعمال ہوتا ہے۔ اسٹیڈیم کے گول حصوں کی پیمائش، پریکٹس نیٹس کے ڈیزائن، روشنی کے بڑے گول ٹاورز، حتیٰ کہ اسکور بورڈ کے بعض ڈیزائن بھی دائرے کی پیمائش پر مبنی ہیں۔
(۲) سکے، گھڑیاں اور بوتلوں کے ڈھکن
سکے، گھڑی اور پانی کی بوتل کے ڈھکن کو غور سے دیکھیں۔ یہ سبھی گول ہیں۔ ان تمام چیزوں کو بنانے والی مشینیں ان کے قطر، محیط اور رقبے کا حساب لگاتی ہیں، اور ہر جگہ پائی استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہ حساب معمولی سا بھی غلط ہو جائے تو ڈھکن بوتل پر صحیح طرح بند نہیں ہوگا، گھڑی کے پرزے درست نہیں بیٹھیں گے اور سکے اپنی مقررہ پیمائش کے مطابق نہیں بن سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں کو بامعنی بنائیں، یہ سرگرمیاں آپ کی صلاحیتیں نکھاریں گی
(۳) سائیکل کے پہیے سے لیکر ٹرین تک
موٹر سائیکل کاپہیہ جب ایک چکر مکمل کرتا ہے تو گاڑی ایک خاص فاصلہ طے کرتی ہے۔ فاصلہ معلوم کرنے کیلئے پہیے کے محیط کی ضرورت ہوتی ہے، اور محیط معلوم کرنے میں پائی کا کردار کلیدی ہے۔ اسی اصول پر سائیکلیں، کاریں، بسیں، ٹرینیں اور ریل گاڑیاں اپنے سفر کا حساب رکھتی ہیں۔ اگر پہیوں کا درست حساب نہ لگایا جائے تو رفتار، فاصلہ اور ڈیزائن تینوں متاثر ہو سکتے ہیں۔
(۴) بڑے پل، گنبد اور عمارتیں
اگر آپ نے کبھی کسی مسجد کا خوبصورت گنبد دیکھا ہو یا کسی بڑے اسٹیڈیم کی چھت پر نظر ڈالی ہو تو جان لیں کہ ان کی منصوبہ بندی میں بھی پائی شامل ہے۔ گول ستون، محرابیں، پانی کے بڑے ٹینک، سرنگیں اور فلائی اوور، یہ سب ایسے ڈھانچے ہیں جن کی مضبوطی اور درست پیمائش کیلئے انجینئر پائی کا سہارا لیتے ہیں۔ ہر عمارت کی تعمیر پائی کی مرہون منت ہے۔
(۵) پیزا خریدتے وقت
فرض کریں آپ کے سامنے دو پیزا رکھے ہیں۔ ایک کا قطر ۱۰؍ انچ اور دوسرے کا ۱۲؍ ہے۔ بیشتر لوگ سمجھتے ہیں کہ دونوں میں صرف دو انچ کا فرق ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔ چونکہ پیزا گول ہے، اس لیے اس کا رقبہ پائی کی مدد سے معلوم کیا جاتا ہے۔ صرف دو انچ قطر بڑھنے سے پیزا کا رقبہ کافی زیادہ ہو جاتا ہے، یعنی آپ کو کھانے کیلئے کہیں زیادہ حصہ ملتا ہے۔
(۶) اسپتالوں میں پائی
جب ڈاکٹر سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی جیسی مشینوں سے جسم کا معائنہ کرتے ہیں تو ان مشینوں کے اندر گول حصے مسلسل گردش کرتے ہیں۔ ان کی حرکت، تصاویر بنانے کا عمل اور درست پیمائش ریاضی کے اصولوں پر ہوتی ہے، جن میں پائی بھی شامل ہے۔ مصنوعی دل کے بعض حصوں، خون کی نالیوں کے ماڈلز اور طبی آلات کے ڈیزائن میں بھی دائرے کا حساب ضروری ہوتا ہے۔
پائی اور انسانی یادداشت کا معجزہ!
۲۱؍ مارچ ۲۰۱۵ء کو وی آئی ٹی یونیورسٹی میں راج ویر مینا نامی طالب علم نے اعشاریہ کے بعد ۷۰؍ ہزار ہندسے یاد رکھنے کا گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے محض ۷؍ ماہ بعد سریش کمار شرما (تصویر میں ) نے ۷۰؍ ہزار ۳۰؍ ہندسے یاد کرکے ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
یہ بھی پڑھئے: آسان طریقے سے تھیوری کے ساتھ پریکٹیکل، یہ ہے اس کورس کی خصوصیت
کمپیوٹنگ میں کئی مرتبہ ریکارڈ توڑنے کا ریکارڈ!
گوگل کمپیوٹیشنل حدود کو آگے بڑھانے کیلئے بڑے پیمانے پر کلاؤڈ انفراسٹرکچر کا استعمال کرتا ہے جسے وسعت دینے کیلئے جاپان کی ایما ہاروکا آئی واؤ نے متعدد مرتبہ اپنا ہی ریکارڈ توڑا ہے۔ وہ پائی کی دسیوں کھربوں ہندسوں میں کامیابی سے کمپیوٹنگ کر رہی ہیں۔
ملئے ’’پرنس آف پائی‘‘ سے
ماہر طبیعیات لیری شا کو پیار سے ’’پرنس آف پائی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ۱۹۸۸ء میں انہوں نے پائی ڈے کی بنیاد رکھی۔ اس دن مختلف پھلوں سے Pie (ایک قسم کا میٹھا پکوان) بنایا جاتا ہے اور ریاضی اور سائنس میں Pi کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے۔