Inquilab Logo Happiest Places to Work

مریم مرزا خانی: ایرانی ریاضی داں، ’’ فیلڈز میڈل‘‘ جیتنے والی پہلی خاتون

Updated: April 17, 2026, 5:14 PM IST | Mumbai

Maryam Mirzakhani کی تحقیقی خدمات خاص طور پر جیومیٹری اور ڈائنامیکل سسٹمز میں نمایاں ہیں، ان کی کامیابی خواتین کیلئے تحریک ہے۔

Maryam was also a member of the National Academy of Sciences, USA. Photo: INN
مریم نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، امریکہ کی رکن بھی تھیں۔ تصویر: آئی این این

مریم مرزاخانی ایرانی ریاضی داں اور اسٹنفورڈ یونیورسٹی میں ریاضیات کی پروفیسر تھیں۔ جنہیں جدید دور کی سب سے ذہین اور بااثر خواتین سائنسدانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مریم کو ریاضی کے میدان میں دنیا کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’فیلڈز میڈل‘‘ سے نوازا گیا تھا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون اور پہلی ایرانی اور مسلمان شخصیت تھیں۔ اس اعزاز کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی کی رکن اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر فرانسز کِروان کا کہنا تھا’’ مجھے امید ہے کہ اس ایوراڈ سے اس ملک میں اور دنیا بھر میں بہت سی لڑکیوں اور خواتین کو اپنی صلاحتیوں پر یقین کرنے اور مستقبل میں فیلڈز میڈل جیتنے کا حوصلہ ملے گا۔ ‘‘
مریم مرزا خانی کی پیدائش۱۲؍ مئی۱۹۷۷ء کو تہران، ایران میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی ان کی غیر معمولی صلاحیتیں نمایاں ہونے لگیں، خاص طور پر ریاضی اور مسئلہ حل کرنے میں۔ بچپن میں وہ کہانیاں پڑھنے اور پیچیدہ ریاضیاتی مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتی تھیں، اور یہی شوق بعد میں ان کی عالمی کامیابیوں کی بنیاد بنا۔ 
مریم مرزاخانی نے اپنی اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم ایران میں حاصل کی۔ انہوں نے تہران میں واقع شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی، جہاں وہ اپنی کلاس کی نمایاں ترین طالبہ تھیں۔ بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ چلی گئیں اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کی ڈاکٹریٹ تحقیق انتہائی پیچیدہ جیومیٹری اور ڈائنامیکل سسٹمز کے موضوعات پر تھی جس نے انہیں ریاضی کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نوبیل یافتہ احمد حسن زویل کو’’ فادر آف فیمٹوکیمسٹری‘‘ کہا جاتا ہے

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریسی اور تحقیقی شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی اور بعد میں ا سٹینفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر رہیں۔ ان کی تحقیق بنیادی طور پر ہائپر بولک جیومیٹری، ٹوپولوجی اور ریمن سرفیز کی پیچیدہ ساختوں پر مرکوز تھی۔ انہوں نے ان شعبوں میں ایسے نئے نظریات متعارف کروائے جنہوں نے ریاضی کی سمجھ کو ایک نئی جہت دی۔ ۱۹۹۴ء میں مریم نے بین الاقوامی ریاضیاتی اولمپیاڈ میں طلائی تمغا جیتا۔ یہ پہلی ایرانی لڑکی تھیں جس نے یہ انعام جیتا اور مریم نے۱۹۹۵ء میں دوبارہ بین الاقوامی ریاضیاتی اولمپیاڈ میں طلائی تمغا جیتا، وہ پہلی ایرانی لڑکی تھی جس نے اس مقابلے میں مکمل اسکور حاصل کیا تھا۔ ان کی سب سے بڑی اور تاریخی کامیابی ۲۰۱۴ءمیں سامنے آئی جب انہیں فیلڈز میڈل سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ریاضی کی دنیا کا سب سے بڑا اور معتبر انعام سمجھا جاتا ہے۔ مریم مرزاخانی پہلی خاتون اور پہلی ایرانی شخصیت تھیں جنہوں نے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ریاضی کی دنیا کیلئے اہم تھی بلکہ دنیا بھر کی خواتین کیلئے ایک بڑی تحریک بھی بنی۔ 
ان کا کام آج بھی جدید ریاضی، فزکس اور کمپیوٹر سائنس میں استعمال ہو رہا ہے۔ مریم میرزاخانی کو ۲۰۱۳ءمیں کینسر ہوگیا تھا جس کے ۴؍ سال بعد ۱۴؍ جولائی۲۰۱۷ء کو ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ 
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK