ایک رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ بندی کو آگے بڑھانے کیلئے امریکہ اور حماس کے درمیان قاہرہ میں براہِ راست مذاکرات کئے ہیں،امریکی وفد نے ایئریہ لائٹ اسٹون کی قیادت میں منگل کی رات قاہرہ میں حماس کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔
EPAPER
Updated: April 17, 2026, 6:11 PM IST | Gaza
ایک رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ بندی کو آگے بڑھانے کیلئے امریکہ اور حماس کے درمیان قاہرہ میں براہِ راست مذاکرات کئے ہیں،امریکی وفد نے ایئریہ لائٹ اسٹون کی قیادت میں منگل کی رات قاہرہ میں حماس کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔
امریکہ اور حماس نے غزہ پٹی میں جنگ بندی کے بعد پہلی مرتبہ براہِ راست مذاکرات کیے ہیں تاکہ نازک معاہدے کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی وفدنے ایئریہ لائٹ اسٹون کی قیادت میں منگل کی رات قاہرہ میں حماس کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ سے ملاقات کی۔لائٹ اسٹون کے ہمراہ نکولائی ملادینوف بھی تھے، جو امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے غزہ کے اعلیٰ نمائندہ ہیں۔دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے جاری مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ جبکہ حماس نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا: لبنان جنگ بندی پر شہریوں کامحتاط اظہارخوشی
بعد ازاں یہ ملاقات مارچ۲۰۲۵ء میں واشنگٹن اور حماس کے درمیان ہونے والے ابتدائی رابطوں کے بعد ہوئی ہے، جب امریکی حکام نے عوامی طور پر حماس سے اپنی پوزیشن پہنچانے کے لیے بات چیت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، الحیہ نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت اپنے تمام وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، جس میں حملے روکنا اور مکمل انسانی امداد کی اجازت دینا شامل ہے، تاکہ اگلے مرحلے پر آگے بڑھا جا سکے۔واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں اسرائیلی نسل کش جنگ میں۷۲؍ ہزار سے زائد افراد شہید اور ۱۷۱۰۰۰؍سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم یہ حملے گزشتہ اکتوبر میں امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کے تحت روکے گئے تھے۔جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں کم از کم۷۴۹؍ فلسطینی شہید اور ۲۲۰۰؍ زخمی ہوئے ہیں۔