Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوبیل یافتہ احمد حسن زویل کو’’ فادر آف فیمٹوکیمسٹری‘‘ کہا جاتا ہے

Updated: April 10, 2026, 6:09 PM IST | Mumbai

Ahmed Hassan Zewailنے کیمیائی تعاملات کی تصاویر اور سمجھنے کے عمل کیلئے انقلابی کام کیا تھا جس پر انہیں ۱۹۹۹ء میں نوبیل دیا گیا تھا۔

Ahmed Zewail wrote 16 books and 600 research papers. Photo: INN
احمد زویل نے۱۶؍ کتابیں اور۶۰۰؍ تحقیقی مقالے تحریر کئے۔ تصویر: آئی این این

احمد حسن زویل مصری -امریکی کیمیاداں تھے۔ انہیں ۱۹۹۹ء میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا تھاجس کی وجہ کیمیاء کی شاخ فمٹو کیمسٹری سے جڑے ان کے کارنامے تھے۔ انہیں ’’ فادر آف فیمٹو کیمسٹری‘‘ (Father Of Femtochemistry) بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پہلے مصری اور مسلمان شخص ہیں جنہیں نوبیل انعام برائے کیمیا ملا۔ پروفیسر احمد زویل نے اپنی تمام زندگی امریکہ میں صرف کی اور امریکی صدر بارک اوباما کے مشیروں کی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 
احمد زویل کی پیدائش۲۶؍ فروری۱۹۴۶ء کو مصر کے شہر دسوق میں ہوئی تھی۔ زویل نےاسکندریہ یونیورسٹی سے کیمسٹری میں بیچلر آف سائنس( بی ایس ) اور ماسٹر آف سائنس ( ایم ایس)کی ڈگریاں حاصل کیں اور پھر اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کا رخ کیا جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ ان کی تحقیق کی بنیاد الیکٹران مائیکرواسکوپی اور فیمٹو سیکنڈ کیمیا پر تھی جو مالیکیولز کی بہت مختصر عرصے کی حرکات اور کیمیائی ردعمل کے مطالعے پر مرکوز ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ماہرکیمیا ڈوروتھی ہوجکن برطانیہ کی نوبیل یافتہ واحد خاتون ہیں

اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد زیویل نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیامیں پوسٹ ڈاکیٹرل تحقیق کی جس کے نگراں چارلس بونر تھے۔ اس کے بعد انہیں ۱۹۷۶ء میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں فیکلٹی کی تقرری سے نوازا گیا اور انہوں نے کیمیکل فزکس میں پہلی لینس پالنگ چیئر بنائی۔ وہ ۵؍مارچ۱۹۸۲ء کو امریکی شہری بن گئے۔ 
احمد حسن زویل نے فیمٹو سیکنڈ کیمیا کے شعبے میں نئے آلات اور طریقے ایجاد کئے جس سے سائنسدانوں کو مالیکیولز کے اندرونی ردعمل کو وقت کے چند فیمٹو سیکنڈز (ایک فیمٹو سیکنڈ ایک ٹریلینتھ سیکنڈ کے برابر) میں دیکھنے کا موقع ملا۔ اس شاندار تحقیق کیلئے انہیں ۱۹۹۹ء میں کیمسٹری کا نوبیل انعام دیا گیا جس سے نہ صرف مصر بلکہ دنیا بھر میں ان کی شہرت ہوئی۔ زویل نے کیمیکل ری ایکشنز کی سمجھ بوجھ کو نئی جہت دی اور سائنس کی دنیا میں تحقیق کی رفتار بڑھائی۔ 

یہ بھی پڑھئے: لیزمیٹنر آسٹرین ماہر طبیعیات اور جوہری سائنسداں تھیں

ان کی خدمات صرف تحقیقی میدان تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے تعلیمی اور سائنسی پالیسی سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ دنیا بھر میں سائنسی کانفرنسز اور ورکشاپس میں حصہ لیتے رہے۔ انہوں نے نیشنل سائنس فاؤنڈیشن، نیشنل اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا اور ترقی پذیر ممالک میں سائنس اور تعلیم کی ترویج کیلئے متعدد اقدامات کئے۔ کیمیکل ری ایکشنز کے نظریات اور تجرباتی طریقوں میں ان کی دریافتیں آج بھی کیمیا، فزکس، بایولوجی اور میڈیکل ریسرچ میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہیں مصر کا سب سے بڑا ایوارڈ’ آرڈر آف دی گرانڈ کولر آف نیل‘ اور فرانس سے ’لیجن ڈی آنر ‘جیسا اہم ترین اعزاز بھی عطا کیا گیا تھا۔ احمد زویل۲۰۰۹ء میں سابق امریکی صدر بارک اوباما کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کیلئے سائنس کے سفیر بھی منتخب کئے گئے تھے۔ احمد حسن زویل کا انتقال ۲؍ اگست۲۰۱۶ءکو امریکہ میں ہوا تھا۔ 
(وکی پیڈیا اور برٹانیکا ڈاٹ کام)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK