• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مختصر کہانی: وھیل

Updated: January 10, 2026, 4:36 PM IST | Qasim Siddiqui | Mumbai

اب سے سو برس پہلے کی بات ہے کہ وھیل مچھلی کے شکار کے لئے ایک جہاز سمندر میں جا رہا تھا۔ یہ جہاز بہت بڑا تھا۔ اس پر دس شکاری کشتیاں موجود تھیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
اب سے سو برس پہلے کی بات ہے کہ وھیل مچھلی کے شکار کے لئے ایک جہاز سمندر میں جا رہا تھا۔ یہ جہاز بہت بڑا تھا۔ اس پر دس شکاری کشتیاں موجود تھیں۔ وھیل مچھلی نظر آنے پر ان کشتیوں کے ذریعہ سے ہی اس کا شکار کیا جاتا تھا اور جہاز کو دُور رکھا جاتا تھا تاکہ کہیں زخمی وھیل جہاز کو نہ اُلٹ دے۔
ایک دن جہاز والوں نے ایک بڑی وھیل دیکھی۔ وہ جہاز سے تقریباً ایک میل دُور تھی۔ اُس کو دیکھ کر فوراً جہاز سے کشتیاں اُتاری گئیں۔ ایک کشتی اس مچھلی کے بہت قریب پہنچ گئی۔ ایک ملّاح نے اپنا بلّم، جس کو ہارپون کہتے ہیں، پھینک کر اس کے سَر پر مارا۔ مگر وہ اس کے سَر پر نہیں لگا، بلکہ اس کے جسم کو لگتا ہوا سمندر میں گِر پڑا۔ پھر کیا تھا۔ وھیل کو بہت طیش آیا۔ وہ ایک دم اُس ملّاح کی طرف جھپٹی، اس کشتی کو اُلٹ دیا اور ملّاح کو اپنے جبڑوں میں پکڑ کر نگل گئی۔ یہ ماجرا دیکھ کر اس کے ساتھیوں نے اپنی اپنی کشتیاں اس کے قریب لا کر اس پر حملہ کیا اور سب نے مل کر اس کو مار ڈالا۔ مری ہوئی وھیل کو کھینچ کر وہ جہاز تک لائے۔ پچاس آدمیوں نے اسے جہاز پر چڑھایا۔ جب اس کا پیٹ چاک کیا گیا تو ملّاح اس کے پیٹ میں بیہوش مگر زندہ ملا۔ وہ چوبیس گھنٹے تک اس کے پیٹ میں زندہ رہا۔ اس کے جسم پر سفید داغ پڑ گئے تھے۔ ایک ہفتہ کے علاج کے بعد وہ ٹھیک ہوا۔ مگر اس کے دماغ میں کچھ خرابی آگئی تھی جو رفتہ رفتہ گئی۔ اس مچھلی کا پیٹ بیس فٹ لمبا تھا۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک جہاز سمندر میں جا رہا تھا کہ اچانک ایسا معلوم ہوا جیسے جہاز میں بھونچال آگیا ہو۔ جہاز پر کام کرنے والے اور سب آدمی گِر پڑے، کھانے کے برتن ٹوٹ گئے اور جہاز اُلٹتے اُلٹتے بچا۔ تھوڑی دیر کے بعد جہاز کا کپتان یہ دیکھنے کے لئے اُٹھا کہ کیا بات ہوئی ہے۔ وہ سمجھا کہ جہاز کسی چٹان سے ٹکرا گیا ہے، مگر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ اس جہاز کی ٹکر ایک وھیل سے ہوئی ہے۔ وھیل جہاز سے تھوڑی دور پر موجود تھی۔ جہاز سے چھ چھوٹی چھوٹی کشتیاں اُتاری گئیں جن میں آٹھ آٹھ آدمی بیٹھے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس لمبے لمبے بلّم تھے۔ جوں ہی وہ اس مچھلی کے پاس پہنچے اور اس کو مارنا چاہا، اُس نے پانی میں غوطہ لگا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ ایک کشتی کے نیچے سے برآمد ہوئی اور اس نے کشتی کو اُلٹ دیا۔ کشتی کے آٹھوں افراد پانی میں گِر پڑے۔ وھیل منہ پھاڑے ان کی طرف لپکی۔ انہوں نے بھی اپنے اپنے بلّم سنبھال لئے تاکہ اس پر حملہ کرسکیں۔ دوسری کشتیاں بھی قریب آگئیں اور ان پر بیٹھے ہوئے آدمیوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ شور سے یہ وھیل بھی بدحواس سی ہونے لگی۔ اب مچھلی چار فٹ کے فاصلے پر تھی اور ایک جست لگا کر انہیں نگلنا چاہتی تھی کہ ان لوگوں نے بلّم اس کے منہ کے اندر مارنے شروع کر دیئے۔ وھیل کا منہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ایک ہاتھی اس کے منہ میں آسکتا ہے! یہ لوگ اس کے بلّم مارتے جا رہے تھے اور شور مچا رہے تھے۔ اتنے میں دوسری کشتیاں اُن کے قریب آگئیں۔ اب زور کا حملہ شروع ہوگیا۔ چاروں طرف سے وھیل پر بلّم پڑ رہے تھے۔ یکایک مچھلی غوطہ لگا گئی۔ ان آدمیوں کو پھر کشتی پر سوار کیا گیا۔ خالی کشتی ابھی تک اسی طرح تیر رہی تھی۔ چار منٹ کے بعد وہ زخمی مچھلی غصے میں بھری باہر نکلی۔ اس نے خالی کشتی کو اپنے جبڑوں میں پکڑ کر چبا ڈالا۔ وہ اپنی دُم غصے میں پانی پر مار رہی تھی۔ سب آدمی خوف سے کانپ رہے تھے۔ موت انہیں سامنے نظر آرہی تھی۔ ان میں سے ایک نے ہمت کرکے بلّم پھینک کر مارا۔ اتفاق سے یہ وھیل کے سَر پر پڑا۔ سَر پر بلّم کا پڑنا تھا کہ وہ تڑپ اٹھی۔ اب اس پر قابو پانا آسان تھا۔ چاروں طرف سے بلّم مارے گئے اور آخر اُسے ختم کر دیا گیا۔ یہ وھیل ساٹھ فٹ لمبی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK