تھوڑی دور اور جانے کے بعد موہن نے دیکھا کہ کچھ چیونٹیاں جا رہی ہیں۔ ہر ایک، ایک ایک چاول کا دانہ لئے جا رہی تھی۔ اُس نے کہا ’’چیونٹیو! ٹھہرو! ایک منٹ کے لئے ٹھہرو اور میرے ساتھ کھیلو۔
EPAPER
Updated: March 14, 2026, 10:39 AM IST | Syeda Ghazali | Mumbai
تھوڑی دور اور جانے کے بعد موہن نے دیکھا کہ کچھ چیونٹیاں جا رہی ہیں۔ ہر ایک، ایک ایک چاول کا دانہ لئے جا رہی تھی۔ اُس نے کہا ’’چیونٹیو! ٹھہرو! ایک منٹ کے لئے ٹھہرو اور میرے ساتھ کھیلو۔
کہتے ہیں بہت دنوں کی بات ہے کہ کسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام موہن تھا۔ موہن بہت ہی سست اور کاہل تھا۔
ایک دن موہن صبح اسکول جانے کے بجائے گاؤں کے کھیت میں چلا گیا۔ وہ صبح بہت خوشگوار تھی۔ سورج چمک رہا تھا اور چڑیاں چہچہا رہی تھیں۔ موہن اسکول جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ تمام دن کھیلے کودے لیکن وہاں اس کے ساتھ کھیلنے کے لئے کوئی نہیں تھا۔ اس کے گاؤں کے تمام ساتھی اسکول گئے تھے۔ راستے میں اسے ایک کتّا ملا۔ اُس نے اُس کو پکارا ’’اے کتّے ادھر آؤ اور میرے ساتھ کھیلو!‘‘ کتّے نے اپنی زبان میں کہا ’’نہیں نہیں، مَیں تمہارے جیسا کاہل نہیں ہوں جو تمہارے ساتھ کھیلوں میں اپنے مالک کے گھر کی حفاظت کرنے جا رہا ہوں۔‘‘ پھر موہن نے دیکھا کہ ایک کوّا اپنی چونچ میں ایک اخروٹ لئے جا رہا ہے۔ موہن نے کوّے کو آواز دی ’’میرے قریب آؤ اور میرے ساتھ کھیلو۔‘‘ کوّے نے کہا ’’نہیں نہیں، مَیں بیکار نہیں ہوں مَیں اپنا گھونسلہ بنا رہا ہوں۔ مَیں اس کو ضرور بارش ہونے سے پہلے ختم کر دوں گا۔ مَیں کسی کے ساتھ بھی کھیل نہیں سکتا۔ مجھے بہت کام ہے۔‘‘ کہتے ہوئے اُڑ گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مختصر کہانی: گدھے کے سینگ
تھوڑی دور جانے کے بعد مکھیوں کو اِس پھول سے اُس پھول کو جاتے ہوئے دیکھتا ہے اور کہتا ہے ’’خوبصورت مکھیو! آؤ اور میرے ساتھ کھیلو۔‘‘ مکھیوں نے کہا ’’نہیں نہیں.... ہمیں شہد بنانا ہے۔ ہم کو بات کرنے کا وقت نہیں ہم بہت مصروف ہیں۔‘‘
تھوڑی دور اور جانے کے بعد موہن نے دیکھا کہ کچھ چیونٹیاں جا رہی ہیں۔ ہر ایک، ایک ایک چاول کا دانہ لئے جا رہی تھی۔ اُس نے کہا ’’چیونٹیو! ٹھہرو! ایک منٹ کے لئے ٹھہرو اور میرے ساتھ کھیلو۔ تم اپنا کام بعد میں بھی کرسکتی ہو۔‘‘ لیکن چیونٹیوں نے کہا ’’نہیں نہیں.... یہی ایک مناسب وقت ہے غذا جمع کرنے کا۔ ہم غذا جمع کر رہے ہیں تاکہ جب غلا وغیرہ نہیں اُگتا اس وقت اس کو کھا سکیں۔ ہم ایک منٹ کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔ تمہاری باتوں میں ہمارا ایک منٹ ضائع ہوگیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کام میں مصروف ہوگئیں۔
تب موہن نے کہا ’’کیا میرے سوا گاؤں میں کوئی کاہل نہیں؟‘‘ تمام کتّے، پرندے، چیونٹیاں اور مکھیاں سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ موہن نے کہا ’’مَیں بھی آج سے اپنے کام میں مصروف رہوں گا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اسکول کی طرف بھاگتا ہوا ماسٹر آنے سے پہلے پہنچ گیا۔
پیارے بچّو! جس طرح کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے کام پر لگا ہوا ہے اسی طرح ہم کو بھی چاہئے کہ وقت کی قدر جانیں اور کوئی لمحہ بیکار نہ گزاریں۔