گزشتہ دنوں ناسا کی سابق خلا باز سنیتا ولیمز نے طلبہ اور سائنس کے شعبے کی معروف شخصیات سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ کامیابی کا راستہ تجسس، جہدِ مسلسل اور سوال کرنے کی عادت سے ہوکر گزرتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 5:41 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
گزشتہ دنوں ناسا کی سابق خلا باز سنیتا ولیمز نے طلبہ اور سائنس کے شعبے کی معروف شخصیات سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ کامیابی کا راستہ تجسس، جہدِ مسلسل اور سوال کرنے کی عادت سے ہوکر گزرتا ہے۔
۲۰؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو ناسا کی ہند نژاد امریکی خلا باز سنیتا ولیمز نے یو ایس ایمبسی (نئی دہلی) میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے خلا کی دنیا کو ان کیلئے ایک زندہ حقیقت بنا دیا۔ ایک ورچوئل تعلیمی سیشن کے دوران سنیتا ولیمز نے خلائی تحقیق، طویل مدتی مشنز، اور خلا میں روزمرہ زندگی کے تجربات شیئر کئے جس نے طلبہ میں زبردست جوش اور تجسس پیدا کیا۔اس میں ملک بھر کے اسکولوں اور کالجوں سے طلبہ، اساتذہ اور سائنسی اداروں کے نمائندے آن لائن شریک ہوئے۔ سیشن کا مقصد نوجوان نسل کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم کی جانب راغب کرنا اور انہیں مستقبل کے خلائی امکانات سے جوڑنا تھا۔ سنیتا ولیمز نے کہا کہ خلا باز بننے کا سفر صرف جسمانی طاقت کا نہیں بلکہ ذہنی مضبوطی، مستقل محنت اور سیکھنے کے جذبے کا امتحان ہوتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ سوال کرنے کی عادت اپنائیں، ناکامی سے نہ گھبرائیں اور سائنسی مضامین میں گہری دلچسپی پیدا کریں۔ ان کے مطابق، آج کے طلبہ ہی کل کے سائنسداں، انجینئر اور خلائی محقق ہوں گے۔ لائیو ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے اس مکالمے میں طلبہ نے خلا میں نیند، خوراک، ورزش اور زمین سے دور رہنے کے نفسیاتی اثرات جیسے سوالات کئے جن کے سنجیدہ اور متاثرکن جوابات نے سیشن کو یادگار بنا دیا۔ جانئے سنیتا ولیمز نے طلبہ کو کیا پیغام دیا۔
خلا تک کا سفر
سنیتا ولیمز نے واضح کیا کہ خلا تک پہنچنا کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی تیاری، نظم و ضبط اور
مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شروع سے خلاباز بننے کے واضح منصوبے کے ساتھ نہیں چلیں بلکہ ہر مرحلے پر سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ہر دن کچھ نیا سیکھیں۔ ہر دن کچھ نیا کریں۔
طلبہ کیلئے پیغام
بڑے خواب سیدھی لکیر میں چلنے سے پورے نہیں ہوتے، وہ کامیابی کے راستے میں حقیقت بنتے ہیں۔
ناکامی یعنی کیا؟
انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ ناسا تک پہنچنے سے پہلے انہیں بھی کئی بار رد کئے جانے، غلط فیصلوں اور ناکامیوں کا
سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق ناکامی انسان کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ راستہ درست کرنے کیلئے آتی ہے۔ناکامی دراصل یہ سکھاتی ہے کہ اگلا قدم کیسے بہتر اٹھایا جائے۔
طلبہ کیلئے پیغام
ناکامی اختتام نہیں، تربیت ہے۔ فیل ہونا شرمندگی نہیں، سیکھنے کا مرحلہ ہے۔ مسلسل سیکھتے رہیں۔
سائنس کی روح
سنیتا ولیمز نے زور دیا کہ سائنس صرف نمبرز، فارمولے یا امتحان کا نام نہیں۔ اصل سائنس سوال پوچھنے، مشاہدہ کرنے اور تجسس کو زندہ رکھنے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم سوال کرتا ہے تو وہ پہلے ہی سائنسدان بننے کے راستے پر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو صرف امتحان کے مضامین کے طور پر نہ دیکھا جائے۔
طلبہ کیلئے پیغام
اگر نمبر کم ہوں مگر سوال قائم رہیں تو راستہ بند نہیں۔
ٹیم ورک
سنیتا ولیمز نے کہا کہ خلا میں کوئی فرد اکیلا کامیاب نہیں ہوتا۔ ہر مشن سیکڑوں انجینئرز، سائنسدانوں اور خلابازوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تاہم، انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ اپنی کامیابی کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔ ہر انسان کا سفر، رفتار اور وقت مختلف ہوتا ہے۔
طلبہ کیلئے پیغام
اپنی گھڑی دوسروں کی گھڑی سے مت ملائیں۔ ہر کامیابی ٹیم ورک، اعتماد اور ایک دوسرے پر انحصار سے آتی ہے۔
خوف کا سامنا
انہوں نے ایمانداری سے تسلیم کیا کہ خلا میں زبردست خوف محسوس ہوتا ہے مگر فیصلے خوف کی بنیاد پر نہیں کئے جاتے۔ حوصلہ یہ نہیں کہتا کہ ڈر نا منع ہے بلکہ یہ کہتا ہے کہ ڈر کے باوجود ذمہ داری نبھائی جائے۔ ہر جگہ ثابت قدمی ضروری ہے ورنہ کامیابی ممکن نہیں۔
طلبہ کیلئے پیغام
خوف کو ساتھ لے کر چلنا سیکھیں۔ ڈر کے باوجود قدم اٹھانا ہی اصل بہادری ہے۔ یہ آپ کو مضبوط بناتا ہے۔
ڈسپلن
ڈسپلن آزادی کو مضبوط کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلاء میں آزادی صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب نظم و ضبط مضبوط ہو۔روزمرہ کی چھوٹی عادتیں ہی بڑے خوابوں کو سہارا دیتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی طلبہ ذہین اور محنتی ہیں انہیں ضرورت صرف سمت، رہنمائی اور خود پر یقین کرنے کی ہے۔
طلبہ کیلئے پیغام
روٹین دشمن نہیں، طاقت ہے۔ عالمی خواب دیکھنا غیر حقیقی نہیں اور انہیں پورا کرنا اہم ہے۔