Friedrich Fröbelنے یہ ثابت کیا کہ بچے کی فطری نشوونما، کھیل اور محبت پر مبنی تعلیم ہی ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کی بنیاد بنتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 6:14 PM IST | Mumbai
Friedrich Fröbelنے یہ ثابت کیا کہ بچے کی فطری نشوونما، کھیل اور محبت پر مبنی تعلیم ہی ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کی بنیاد بنتی ہے۔
فریڈرک فروبل ایک جرمن ماہرِ تعلیم، مفکر تھےجنہیں جدید پری اسکول اور نرسری تعلیم کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ ۲۱؍اپریل۱۷۸۲ء کو جرمنی کے شہر اوبر وائیسباخ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا بچپن نہایت مشکل حالات میں گزرا، کیونکہ ان کی والدہ ان کی کم عمری ہی میں وفات پا گئیں اور سوتیلی ماں سے انہیں وہ شفقت نہ مل سکی جس کی ایک بچے کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس تنہائی اور محرومی نے فروبل کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا اور یہی تجربات بعد میں ان کے تعلیمی نظریات کی بنیاد بنے، کیونکہ وہ یہ سمجھنے لگے کہ بچے کی فطری نشوونما کیلئے محبت، توجہ اور مناسب ماحول نہایت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایلن لاورن بین مشہور امریکی خلا باز،بحری افسر اور مصور تھے
فروبل نے ابتدا میں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کی، جن میں نیچرل سائنسز، ریاضی اور فلسفہ شامل تھے۔ بعد ازاں انہوں نے ماہرِ تعلیم جوہان ہینرک پسٹالوزی (Johann Heinrich Pestalozzi) کے ادارے میں کام کیا جہاں انہیں بچوں کی تعلیم کے عملی طریقوں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ پسٹالوزی کے نظریات نے فروبل کو بہت متاثر کیا مگرانہوںنے ان نظریات کو مزید وسعت دی اور اپنی منفرد تعلیمی فکر تشکیل دی۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ تعلیم محض کتابی علم کا نام نہیں بلکہ بچے کی فطری صلاحیتوں کو ابھارنے کا عمل ہے۔
فریڈرک فروبل کی سب سے بڑی اور انقلابی خدمت ’’کنڈرگارٹن‘‘ (Kindergarten) یعنی’’بچوں کا باغ‘‘ کا تصور پیش کرنا ہے۔ انہوں نے۱۸۳۷ء میں پہلا کنڈرگارٹن قائم کیا جہاں بچوں کو ایک باغ کی مانند سمجھا گیاجس کی نشوونما قدرتی انداز میں کی جاتی ہے۔ فروبل کے نزدیک بچہ فطرت کا تحفہ ہے اور اس کی تربیت کھیل، سرگرمی، مشاہدہ اور تخلیقی عمل کے ذریعے ہونی چاہئے۔ ان کا ماننا تھا کہ کھیل بچے کی زندگی کی سب سے اہم سرگرمی ہے کیونکہ کھیل کے ذریعے بچہ سیکھتا، سوچتا اور اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جے کارٹی امریکی باسکٹ بال کھلاڑی، مصنف اور پبلک اسپیکر تھے
فروبل نے تعلیم میں ’’تعلیمی کھلونوں‘‘ (Froebel’s Gifts) اور سرگرمیوں (Occupations) کا تصور بھی پیش کیا، جن میں گیندیں، بلاکس، لکڑی کے ٹکڑے اور دیگر اشکال شامل تھیں۔ ان کھلونوں کے ذریعے بچوں میں تخلیقی سوچ، ریاضیاتی فہم، نظم و ضبط اور جمالیاتی ذوق پیدا کیا جاتا تھا۔ فروبل کا نظریہ یہ تھا کہ بچہ چیزوں کو خود ہاتھ لگا کر، تجربہ کر کے اور کھیل کے ذریعے بہتر طور پر سیکھتا ہے، نہ کہ صرف سننے یا رٹنے سے۔فروبل کی خدمات ابتدا میں ہر جگہ قبول نہیں کی گئیں۔ جرمنی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب کنڈرگارٹن کو سیاسی وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا، مگر اس کے باوجود ان کے نظریات یورپ اور پھر پوری دنیا میں پھیلتے چلے گئے۔ ان کے شاگردوں اور پیروکاروں نے انگلینڈ، امریکہ اور دیگر ممالک میں کنڈرگارٹن نظام کو فروغ دیا۔ آج دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم کا جو تصور رائج ہے، اس کی بنیاد فروبل ہی کے نظریات پر قائم ہے۔فریڈرک فروبل ۲۱؍جون۱۸۵۲ء کو وفات پا گئے مگر ان کے افکار آج بھی زندہ ہیں۔