بادل اس لئے نہیں گرتے کہ وہ نہایت باریک قطروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 6:33 PM IST | Mumbai
بادل اس لئے نہیں گرتے کہ وہ نہایت باریک قطروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
آسمان پر تیرتے ہوئے بادل انسان کو نرم، ہلکے اور بے وزن دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان میں پانی کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ روزمرہ مشاہدے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بادل بعض اوقات گھنٹوں بلکہ دنوں تک فضا میں معلق رہتے ہیں اور فوراً زمین پر نہیں برستے۔ اس دوران کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ اتنی نمی اور وزن رکھنے کے باوجود بادل زمین پر کیوں نہیں گرتے؟
یہ بھی پڑھئے: شکر کو’چینی‘ کہتے ہیں، کیوں؟
بادلوں کی اصل ساخت
بادل دراصل پانی کے بے حد باریک قطروں یا برف کے نہایت چھوٹے کرسٹلز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ یہ قطرے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ان کا وزن بہت کم ہوتا ہے۔ ایک عام بادل میں اربوں کھربوں قطرے ہوتے ہیں، مگر ہر قطرہ انفرادی طور پر اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ وہ فوراً نیچے نہیں گرتا۔
یہ بھی پڑھئے: سانتا کلاز سرخ و سفید لباس ہی پہنتا ہے، کیوں؟
ہوا کی اوپر کی طرف حرکت
فضا میں گرم ہوا ہلکی ہو کر اوپر کی طرف اٹھتی ہے جسے اوپر اٹھنے والی ہوائیں (Updrafts) کہا جاتا ہے۔ یہ ہوائیں بادلوں کے اندر موجود ننھے قطروں کو سہارا دیتی ہیں اور انہیں معلق رکھتی ہیں۔ جب تک یہ اوپر کی طرف حرکت موجود رہتی ہے، قطرے زمین کی طرف نہیں گر پاتے۔
یہ بھی پڑھئے: پائلٹ، کو پائلٹ سے مختلف غذا کھاتا ہے، کیوں؟
ہوا کی مزاحمت (Air Resistance)
چھوٹے پانی کے قطرے جب نیچے کی طرف حرکت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہوا کی مزاحمت ان کی رفتار کو بہت کم کر دیتی ہے۔ یہ مزاحمت اتنی مؤثر ہوتی ہے کہ قطرے ہوا میں تیرتے رہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے دھواں یا گرد کے ذرات فضا میں معلق یا تیرتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: صابن کے بلبلہ میں دھنک بنتی ہے، کیوں؟
ہوا کی تہیں اور فضائی دباؤ
فضا مختلف تہوں پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر تہہ کا فضائی دباؤ مختلف ہوتا ہے۔ بعض اوقات بادل ایسی تہہ میں ہوتے ہیں جہاں دباؤ اور ہوا کی گردش انہیں سہارا دیتی ہے۔ ان فضائی حالات میں بادل ایک خاص بلندی پر معلق رہتے ہیں اور اس وقت تک نہیں گرتے جب تک دباؤ اور ہوا کی گردش میں نمایاں تبدیلی نہ آ جائے۔بادل جس فضا میں موجود ہوتے ہیں وہاں درجہ حرارت کا توازن بھی نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔