Inquilab Logo Happiest Places to Work

جے ای ای ایڈوانسڈ کے ٹاپر شبھم کمار کی کامیابی کا راز، سوشل میڈیا سے دوری

Updated: June 03, 2026, 2:29 PM IST | Agency | Gaya

گیا،بہار کے شُبھم کمار نے جے ای ای ایڈوانسڈ ۲۰۲۶ء میں۳۶۰؍ میں سے۳۳۰؍ نمبر حاصل کرکے پورے ملک میں پہلا رینک حاصل کیا ہے۔

All India Topper Shubham Kumar.Photo;INN
آل انڈیا ٹاپر شبھم کمار-تصویر:آئی این این
گیا،بہار کے شُبھم کمار نے جے ای ای ایڈوانسڈ ۲۰۲۶ء میں۳۶۰؍ میں سے۳۳۰؍ نمبر حاصل کرکے پورے ملک میں پہلا رینک حاصل کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ۱۸؍سالہ یہ طالب علم جے ای ای ایڈوانسڈ کے امتحان کی صبح ۶؍بجے دہلی میں اپنے ہوٹل سے امتحانی مرکز کے لئے روانہ ہوئے، جو تقریباً۲۰؍ کلومیٹر دور تھا۔ اس سے قبل وہ جے ای ای مینس میں۱۰۰؍ پرسنٹائل اور آل انڈیا رینک۶؍ حاصل کر چکے تھے۔یہی وجہ ہے کہ دوستوں، اساتذہ اور ساتھی طلبہ کو ان سے ایک اور شاندار کارکردگی کی توقع تھی۔گزشتہ اتوار کی رات جب آئی آئی ٹی رورکی نے جے ای ای ایڈوانسڈ ۲۰۲۶ء کے نتائج کا اعلان کیا تو شبھم کو معلوم ہوا کہ انہوں نے ملک کے سب سے مشکل داخلہ امتحانات میں سے ایک میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
شُبھم کے والد شیو کمار گیا میں ہارڈویئر کی دکان چلاتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کنچن دیوی خاتون خانہ ہیں۔ وہ ایسے خاندان میں پروان چڑھے جہاں انجینئر بننا اب بھی پہلی نسل کا خواب سمجھا جاتا تھا۔ ان کی بڑی بہن حال ہی میں آئی آئی ٹی پٹنہ سے فارغ التحصیل ہوئی ہیں، لیکن اس سے پہلے خاندان میں کسی نے آئی آئی ٹی کا سفر طے نہیں کیا تھا۔ ایلن کریئر انسٹی ٹیوٹ کو دئیے گئے انٹرویو میں شُبھم نے کہا کہ ’’ پورا خاندان بہت خوش ہے۔ ہم اپنے خاندان کے پہلے انجینئر بننے جا رہے ہیں۔ دسویں تک مجھے ریاضی اورفزکس میں بہت دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ میں نے سوچا کہ اگر مجھے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے اور بڑے پلیٹ فارم پر خود کو منوانا ہے تو جے ای ای بہترین راستہ ہے۔‘‘ ایک سال قبل انہوں نے اپنی زندگی کا ایک اہم فیصلہ کیا،پڑھائی کیلئے انہوں نے گھر چھوڑا اورکوٹا پہنچے۔ یہ شہر ہر سال ہزاروں انجینئرنگ اور میڈیکل امیدواروں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔  شُبھم کو معلوم تھا کہ یہاں ان کا مقابلہ ملک کے ذہین ترین طلبہ سے ہوگا۔انہوں نے مقابلے کو دباؤ کے بجائے اپنی طاقت بنا لیا۔شُبھم کہتے ہیں’’اگر کسی ٹیسٹ میں آپ کی رینک کم آ جائے تو اگلے ٹیسٹ کیلئے  زیادہ محنت کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور اگر آپ پہلی پوزیشن حاصل کر لیں تو اسے برقرار رکھنے کی تحریک ملتی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کا دباؤ ہمیشہ موجود رہتا ہے، اور یہی سب سے مشکل کام ہے۔‘‘ جب جے ای ای ایڈوانسڈ کا امتحان آیا تو وہ اتنے زیادہ موک ٹیسٹ دے چکے تھے کہ اصل امتحان بھی انہیں ایک معمولی امتحان جیسا محسوس ہوا۔چھ گھنٹے پر مشتمل یہ امتحان، جو دو پرچوں میں تقسیم تھا، انہیں ایک اور پریکٹس سیشن کی طرح لگا۔ مستقبل کے امیدواروں کو مشورہ دیتے ہوئے شُبھم نے کئی کئی گھنٹے پڑھنے پر زور نہیں دیا بلکہ توازن، مستقل مزاجی اور سیکھنے کے عمل پر اعتماد کو اہم قرار دیا۔ان کے مطابق کامیابی کا اصل راز تین چیزوں میں پوشیدہ ہے:لگن، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ  جے ای ای کی تیاری کیلئے میں سوشل میڈیا سے بالکل دور رہا۔  شُبھم آئی آئی ٹی بامبےمیں کمپیوٹر سائنس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ پروگرامنگ اور اےآئی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔(آئی این این)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK