Updated: July 18, 2026, 4:10 PM IST
| New Delhi
تعلیمی اصلاح کار، ماہر تعلیم اور موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کی جانب سے NEET امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال نے ملک بھر میں توجہ حاصل کر لی ہے۔ رتیک روشن، کرن راؤ، سوناکشی سنہا، زینت امان، نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی، رتنا پاٹھک شاہ، ابھے دیول، پرکاش راج اور متعدد دیگر فلمی شخصیات نے وانگچک کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مذاکرات اور مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔
سونم وانگچک اور رتیک روشن۔ تصویر: آئی این این
تعلیمی اصلاح کار، ماہر تعلیم اور موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کی جانب سے NEET (نیشنل ایلیجیبلیٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ) میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک، طلبہ کے مستقبل کے تحفظ اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کو ملک بھر سے غیر معمولی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران بالی ووڈ کی متعدد معروف شخصیات، فلمسازوں، اداکاروں، ڈجیٹل تخلیق کاروں اور سماجی کارکنوں نے وانگچک کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے حکومت سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان حامیوں میں تازہ ترین نام سپر اسٹار رتیک روشن کا ہے، جو اس احتجاج کی کھل کر حمایت کرنے والے پہلے بڑے مرد فلمی ستارے بن گئے ہیں۔ رتیک روشن نے اداکارہ لیزا رے کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی سونم وانگچک کی ایک ویڈیو دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس مسئلے کی سنگینی کو اس وقت سے سمجھتے ہیں جب انہوں نے ایک فلم میں استاد کا کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے لکھا کہ ’’یہ حقیقت بہت تکلیف دہ ہے۔ مجھے اس صدمے کا احساس اس وقت ہوا تھا جب میں نے ایک فلم میں استاد کا کردار ادا کیا تھا۔‘‘ ویڈیو میں سونم وانگچک نے عوام سے سوال کیا کہ ملک بھر میں امتحانی پیپر لیک جیسے سنگین معاملات پر خاموشی کیوں اختیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بحران کے باعث بیس سے زائد طلبہ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ وانگچک نے کہا کہ لاکھوں نوجوان اپنی پوری زندگی ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے خواب کے لیے محنت کرتے ہیں، لیکن اگر امتحانات میں دھاندلی ہو تو اس کا نقصان صرف امیدواروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو ڈاکٹر کل آپ اور آپ کے بچوں کا علاج کریں گے، اگر وہ دھوکہ دے کر امتحان پاس کریں تو وہ کبھی بھی اچھے ڈاکٹر ثابت نہیں ہوں گے، اور جو انجینئر اسی طرح کامیاب ہوں گے، وہ ایسی عمارتیں تعمیر کریں گے جن میں آپ کے اپنے خاندان بھی محفوظ نہیں ہوں گے۔‘‘ وانگچک نے مزید کہا کہ اگر آج معاشرہ اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند نہیں کرے گا تو آئندہ نسلیں اس کی بھاری قیمت ادا کریں گی۔
یہ بھی پڑھئے: امیتابھ بچن نے گووندا ہی نہیں ان کے والد کے ساتھ بھی کام کیا ہے
بالی ووڈ کی بھرپور حمایت
رتیک روشن سے قبل اداکارہ سوناکشی سنہا بھی وانگچک کی حمایت میں سامنے آئیں اور کہا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ سونم وانگچک نے اپنی پوری زندگی ملک اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے وقف کی ہے اور آج وہ انہی نوجوانوں کے حقوق کی خاطر کئی دنوں سے بغیر خوراک کے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ سوناکشی کے مطابق حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کرنا کسی صورت ملک دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سوناکشی سنہا کی حمایت پر ان کے والد، سینئر اداکار اور سیاست دان شتروگھن سنہا نے بھی اپنی بیٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس پر فخر ہے کہ اس نے صحیح وقت پر صحیح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے حکومت، متعلقہ حکام اور وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر وانگچک کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس احتجاج کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرائیں۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان نے سب سے پہلے سمجھ لی تھی سوناکشی اور ظہیر کی لو اسٹوری
کرن راؤ کا کھلا خط
فلم ساز کرن راؤ نے بھی متعدد ممتاز ماہرین تعلیم، فنکاروں اور عوامی شخصیات کے ساتھ ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وانگچک سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی صحت کی خاطر بھوک ہڑتال ختم کریں، جبکہ مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان کے مطالبات پر بامعنی مذاکرات شروع کرے۔ کرن راؤ نے اپنے انسٹاگرام پروفائل تصویر بھی تبدیل کر کے سونم وانگچک کے حق میں یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ سونم وانگچک، ابھیجیت دپکے، سی جے پی اور ملک بھر کے تمام نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہیں جو طلبہ کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً تین ہفتے گزرنے کے باوجود حکومت کی خاموشی انتہائی تکلیف دہ اور غیر انسانی محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سہیل خان کا انکشاف: میں اپنے بیٹے کا نام رام خان رکھنا چاہتا تھا
عامر خان کا وضاحتی بیان
دوسری جانب اداکار عامر خان نے بھی وانگچک کی صحت پر تشویش ظاہر کی، تاہم انہوں نے برسوں سے رائج اس تاثر کی وضاحت کی کہ فلم 3 Idiots کا کردار رینچو براہِ راست سونم وانگچک سے متاثر تھا۔ عامر خان نے کہا کہ فلم کی تیاری کے دوران نہ وہ اور نہ ہی فلم کے مصنفین سونم وانگچک سے واقف تھے، اس لیے یہ تصور حقیقت پر مبنی نہیں، اگرچہ وہ وانگچک کی خدمات کا احترام کرتے ہیں اور ان کی جلد صحت یابی کے خواہش مند ہیں۔
دیگر معروف شخصیات کی حمایت
وانگچک کی حمایت کرنے والوں میں زینت امان، شبانہ اعظمی، نصیر الدین شاہ، رتنا پاٹھک شاہ، ابھے دیول، پرکاش راج، سونی رازدان، اتل کلکرنی، انوراگ کشیپ، اومی ویدیا اور دیگر فلمی شخصیات بھی شامل ہیں۔ اومی ویدیا نے جذباتی انداز میں کہا تھا کہ ’’میں نہیں چاہتا کہ فسکھ وانگڈو مر جائے،‘‘ جو 3 Idiots کے اسی کردار کی جانب اشارہ تھا جسے بعد میں عوام نے سونم وانگچک سے جوڑ دیا تھا۔ ڈجیٹل دنیا سے بھون بام، منور فاروقی، اشیش چنچلانی اور پورو جھا سمیت متعدد معروف تخلیق کار بھی سوشل میڈیا پر اس احتجاج کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دلیپ کمار کی ’گنگا جمنا‘ کی کہانی پر اب تک ۳؍ فلمیں بنائی جا چکی ہیں
طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل
بھوک ہڑتال کے اکیسویں روز سنیچر کی صبح دہلی پولیس نے سونم وانگچک کو جنتر منتر سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کر دیا۔ دہلی پولیس کے مطابق یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور ماہر ڈاکٹروں کے مشورے پر کیا گیا کیونکہ وانگچک کی صحت مسلسل بگڑ رہی تھی اور فوری طبی نگرانی ضروری ہو گئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (نئی دہلی) سچن شرما نے کہا کہ عدالت کی ہدایات، طبی رپورٹ اور ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق وانگچک کو سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا تاکہ انہیں بروقت طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔ پولیس کے سرکاری بیان میں کہا گیا کہ معزز ہائی کورٹ کے حکم اور ماہرین کی رائے کی روشنی میں وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث انہیں ضروری علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ منتقلی کے دوران بعض مظاہرین نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی مکمل کی۔ بعد ازاں جنتر منتر، نئی دہلی ضلع اور اطراف کے علاقوں میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی اور پولیس و نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان نے سب سے پہلے سمجھ لی تھی سوناکشی اور ظہیر کی لو اسٹوری
اہلیہ کا اعتراض
وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے اسپتال میں ممکنہ طبی علاج پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اجازت اور ان کے ذاتی ڈاکٹر کی رضامندی کے بغیر کوئی علاج شروع نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل وانگچک کی حالت مستحکم تھی اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔
احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
اس دوران CJP کے بانی ابھیجیت دپکے نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی اور انہیں حراست میں لیا۔ ادھر AISA کے ارکان نیہا، امین اور منیش نے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ نیہا کے مطابق صبح سویرے سادہ لباس میں پولیس اہلکار احتجاجی مقام پر پہنچے اور بعد میں اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سونم وانگچک کو زبردستی وہاں سے منتقل کیا گیا، تاہم مظاہرین نے انسانی زنجیر بنا کر باقی بھوک ہڑتالیوں کو ہٹانے کی کوشش ناکام بنا دی۔
یہ بھی پڑھئے: کاجل اور شریاس نے’آپ کی تھالی میں کیا ہے‘ چیلنج سے فوڈ سیفٹی پر بڑھائی بیداری
صحت مسلسل تشویشناک
ڈاکٹروں کے مطابق ۲۸؍ جون سے جاری بھوک ہڑتال کے دوران سونم وانگچک کا وزن تقریباً ۵ء۹؍ کلوگرام کم ہو چکا ہے، جبکہ ان کے بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ جمعہ کی رات جاری اپنے ویڈیو پیغام میں وانگچک نے کہا کہ وہ اپنی خراب صحت کے باوجود احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے جسم کا تقریباً ۲۰؍ فیصد وزن کھو چکا ہوں، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کی آواز سنے۔ ماضی میں پیاز کی قیمتوں پر حکومتیں گر گئی تھیں، آج لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔‘‘ دہلی ہائی کورٹ نے بھی وانگچک کی طبی حالت پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں فوری اور مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے۔