روس کے معروف ادیب لیو ٹالسٹائی کی شہرہ آفاق کہانی ’’وہیئر لو اِز، دیر گوڈ اِز آلسو‘‘ Where Love Is, There God Is Also کا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 10:00 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
روس کے معروف ادیب لیو ٹالسٹائی کی شہرہ آفاق کہانی ’’وہیئر لو اِز، دیر گوڈ اِز آلسو‘‘ Where Love Is, There God Is Also کا اردو ترجمہ۔
شہر کی ایک خاموش گلی میں مارٹن نام کا ایک بوڑھا موچی رہتا تھا۔ اس کی چھوٹی سی دکان تہہ خانے میں تھی، جس کی کھڑکی سڑک کی سطح کے برابر تھی۔ لوگ جب وہاں سے گزرتے تو مارٹن کو ان کے چہرے نظر نہ آتے، البتہ ان کے جوتے ضرور دکھائی دیتے تھے۔ برسوں کی محنت نے اسے اتنا ماہر بنا دیا تھا کہ وہ صرف جوتے دیکھ کر پہچان لیتا کہ یہ کس گاہک کے ہیں۔
اس کی ساری زندگی اسی دکان میں گزری تھی۔ صبح سویرے وہ اپنا کام شروع کرتا، رات گئے تک جوتے سلتا، پرانے تلوے بدلتا اور پھٹے ہوئے چمڑے کو اس مہارت سے جوڑتا کہ جوتا دوبارہ نیا معلوم ہونے لگتا۔ وہ اپنے کام میں دیانتدار تھا۔ اگر کسی جوتے کی مرمت اچھی طرح نہ ہو سکتی تو صاف صاف گاہک کو بتا دیتا۔ اسی لئے محلے کے لوگ اس پر اعتماد کرتے تھے اور اپنا کام بلا جھجک اس کے سپرد کر دیتے تھے۔
ایک زمانہ تھا جب اس کی زندگی خوشیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اس کی بیوی تھی، بچے تھے اور شام کو گھر لوٹنے پر گھر میں زندگی کی رونق محسوس ہوتی تھی۔ مگر وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ سب سے پہلے اس کی بیوی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ مارٹن نے دل پر پتھر رکھ کر خود کو کام میں مصروف کر لیا۔ اس نے سوچا کہ کم از کم اس کا چھوٹا بیٹا تو اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ وہ لڑکا ہی اب اس کی زندگی کی واحد خوشی تھا۔ مارٹن دن بھر محنت کرتا اور شام کو جلدی گھر آ جاتا تاکہ اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزار سکے۔ لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔
چند برس بعد اس کا بیٹا بھی سخت بیمار پڑ گیا۔ مارٹن نے اپنی حیثیت کے مطابق ہر ممکن علاج کرایا، دعائیں کیں اور رات رات بھر اس کے سرہانے بیٹھا رہا، مگر بیماری بڑھتی ہی گئی۔ آخر ایک دن وہ بچہ بھی اپنے باپ کو ہمیشہ کیلئے تنہا چھوڑ گیا۔ اس صدمے نے مارٹن کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے زندگی میں اب کچھ باقی ہی نہیں رہا۔ وہ پہلے کی طرح جوتے تو سی دیتا، مگر اس کے ہاتھ کام کرتے تھے، دل نہیں۔ شام کو جب وہ اپنے خالی گھر میں داخل ہوتا تو ہر طرف خاموشی اس کا استقبال کرتی۔ نہ کسی کے قدموں کی آواز سنائی دیتی، نہ کسی کی ہنسی۔ کئی مرتبہ وہ سوچتا کہ آخر خدا نے اس سے سب کچھ کیوں چھین لیا؟
’’میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟‘‘ وہ دل ہی دل میں کہتا۔ ’’اگر مجھے ہی زندہ رکھنا تھا تو میرے بچے کو کیوں لے لیا؟‘‘ آہستہ آہستہ اس کے دل میں مایوسی گھر کرنے لگی۔ اسے زندگی بوجھ محسوس ہونے لگی۔ نہ کام میں دل لگتا نہ عبادت میں۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ کاش موت آجائے اور اسے بھی اس تنہائی سے نجات مل جائے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: کینٹروِل کا بوڑھا بھوت
ایک دن اس کی دکان پر ایک معمر مسافر آیا۔ وہ دور دراز کے مقدس مقامات کی زیارت کر کے لوٹا تھا۔ جوتے کی مرمت کے دوران اس کی باتیں مارٹن سے ہونے لگیں۔ گفتگو کرتے کرتے مارٹن نے اپنے دل کا سارا بوجھ اس اجنبی کے سامنے رکھ دیا۔ اس نے اپنی بیوی اور بیٹے کی موت کا ذکر کیا، اپنی تنہائی کا حال سنایا اور آخر میں بھرائی ہوئی آواز میں کہا، ’’اب مجھے سمجھ نہیں آتا کہ زندہ کیوں ہوں۔ ‘‘معمر شخص نے خاموشی سے اس کی بات سنی۔ پھر نہایت نرمی سے بولے، ’’انسان اپنی مرضی سے نہیں جیتا، بلکہ خدا کی مرضی سے جیتا ہے۔ جو کچھ وہ کرتا ہے، اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے، خواہ ہم اسے اس وقت نہ سمجھ سکیں۔ ‘‘
مارٹن خاموش رہا۔ بزرگ نے بات جاری رکھی۔ ’’اگر تم اپنے دل کا سکون واپس چاہتے ہو تو خدا کی طرف رجوع کرو۔ انجیل پڑھو۔ اس میں تمہیں اپنے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ اپنا جوتا لے کر رخصت ہو گئے۔ لیکن ان کی باتیں مارٹن کے دل میں اتر چکی تھیں۔ اسی شام وہ بازار گیا اور انجیل خرید ی۔
اس نے چراغ جلایا، مقدس کتاب کھولی اور اسے پڑھنا شروع کیا۔ شروع میں وہ صرف چند صفحات پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیا، اسے محسوس ہونے لگا کہ ہر سطر براہِ راست اسی سے مخاطب ہے۔ اس کے دل کا بوجھ آہستہ آہستہ ہلکا ہونے لگا۔ اور برسوں بعد اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید زندگی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس دن کے بعد مارٹن کی زندگی میں ایک نئی تبدیلی آنے لگی۔ وہ ہر شام کام ختم کرنے کے بعد انجیل پڑھتا۔ کبھی چند صفحات پڑھتا، کبھی دیر تک ایک ہی عبارت پر غور کرتا رہتا۔ پہلے وہ کتاب کو صرف ایک مذہبی کتاب سمجھتا تھا، مگر اب اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس میں اس کی اپنی زندگی کا عکس موجود ہو۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صنوبر کا درخت
اسے خاص طور پر وہ باتیں متاثر کرنے لگیں جن میں لوگوں کو ایک دوسرے سے محبت کرنے، دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنے اور دل سے معاف کرنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ جتنا وہ پڑھتا، اتنا ہی اسے اپنی گزشتہ زندگی پر افسوس ہوتا۔ اسے احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے غم میں اتنا غرق ہو کر دنیا سے منہ موڑ لیا تھا کہ اسے اپنے آس پاس موجود لوگوں کی تکلیف دکھائی ہی نہیں دیتی تھی۔ ایک رات وہ دیر تک انجیل پڑھتا رہا۔ باہر برف گر رہی تھی اور سرد ہوا کھڑکی کے شیشوں سے ٹکرا رہی تھی۔ اچانک اس نے کتاب بند کی اور دل ہی دل میں کہا، ’’اگر واقعی خدا مجھے دیکھتا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھے بتائے کہ مجھے کس طرح جینا چاہئے۔ ‘‘
وہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ پھر تھکن سے اس کی آنکھ لگ گئی۔ اس نے خواب دیکھا کہ کوئی اس کا نام لے کر پکار رہا ہے۔ ’’مارٹن!‘‘ وہ چونک کر اٹھا۔ اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے۔ وہ پلٹا، مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ پھر وہی آواز آئی، ’’مارٹن! کل سڑک کی طرف دیکھنا۔ میں آؤں گا۔ ‘‘ مارٹن نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔ اسے کوئی دکھائی نہ دیا۔
صبح آنکھ کھلی تو اسے اپنا خواب یاد آیا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا کہ یہ محض خواب تھا یا واقعی کوئی پیغام۔ اگلے دن اس نے معمول کے مطابق دکان کھولی، مگر اس کی توجہ بار بار کھڑکی کی طرف جاتی رہی۔ وہ سڑک سے گزرنے والے ہر شخص کے قدموں کو دیکھتا اور سوچتا کہ شاید یہی وہ شخص ہے جس کا خواب میں ذکر ہوا تھا۔ صبح گزر گئی۔ پھر دوپہر بھی گزرنے لگی۔ اسی دوران اس کی نظر ایک بوڑھے سپاہی پر پڑی جو سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ سردی بہت شدید تھی۔ اس نے پرانا سا فوجی لباس پہن رکھا تھا اور ہاتھوں میں دستانے نہیں تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں پر پھونک مار رہا تھا تاکہ انہیں کچھ گرمی مل سکے۔
مارٹن کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے دکان کا دروازہ کھولا۔ ’’بھائی، اندر آ جاؤ۔ سردی بہت ہے۔ ‘‘
بوڑھا سپاہی حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ ’’میں یہاں کیوں آؤں ؟‘‘ ’’تمہیں تھوڑی گرمی ملے گی۔ میرے پاس چائے بھی ہے۔ ‘‘ سپاہی نے پہلے جھجک کر انکار کیا، مگر مارٹن کے اصرار پر اندر آ گیا۔ مارٹن نے چولہے پر پانی رکھا، چائے بنائی اور اسے گرم روٹی کے ساتھ پیش کی۔ سپاہی نے کپ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور آہستہ آہستہ پینے لگا۔ کچھ دیر بعد اس کے چہرے پر زندگی کی رونق لوٹ آئی۔ مارٹن نے اس کے جوتوں کی طرف دیکھا۔ وہ بری طرح پھٹے ہوئے تھے۔
’’یہ جوتے تو تمہیں سردی سے نہیں بچا سکتے۔ ‘‘ سپاہی نے بے بسی سے مسکرا کر کہا، ’’میں جانتا ہوں۔ مگر نئے جوتے خریدنے کیلئے میرے پاس پیسے نہیں۔ ‘‘
مارٹن نے اس سے مزید کچھ نہ پوچھا۔ اس نے جوتے اتارنے کو کہا اور انہیں اپنے کام کی میز پر رکھ لیا۔ ’’میں انہیں ابھی ٹھیک کر دیتا ہوں۔ ‘‘ کچھ دیر بعد جوتے پہلے سے کہیں بہتر حالت میں تھے۔ مارٹن نے سپاہی سے معاوضہ بھی نہیں لیا۔ سپاہی نے جاتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا، ’’خدا تمہیں خوش رکھے۔ ‘‘
مارٹن نے دروازہ بند کیا تو اس کے دل میں عجیب سی خوشی تھی۔ وہ کافی عرصے بعد کسی کیلئے کچھ کر کے خوش ہوا تھا۔ لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ شاید یہی اس کے خواب کا جواب ہو سکتا ہے۔ دن ابھی باقی تھا۔ دوپہر کے بعد مارٹن نے سڑک کی طرف دیکھا تو ایک عورت دکھائی دی۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔ اس نے پرانا لباس پہن رکھا تھا اور اس کی گود میں ایک ننھا بچہ تھا۔ بچہ بھوک اور سردی سے رو رہا تھا۔ عورت بار بار اسے اپنے سینے سے لگا کر چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔
مارٹن کا دل نرم پڑ گیا۔ اس نے فوراً دروازہ کھولا۔ ’’بہن، اندر آ جاؤ۔ بچے کو سردی لگ رہی ہے۔ ‘‘
عورت نے ہچکچاتے ہوئے کہا، ’’میرے پاس آپ کو دینے کیلئے کچھ نہیں۔ ‘‘ مارٹن نے جواب دیا، ’’میں نے تم سے کچھ مانگا بھی نہیں۔ اندر آؤ۔ ‘‘ وہ عورت بچے کو لے کر دکان میں داخل ہو گئی۔ مارٹن نے اسے چولہے کے قریب بٹھایا۔ اس نے دیکھا کہ بچے کے پاؤں تقریباً ننگے تھے۔ اسے اپنا بیٹا یاد آ گیا۔ ایک لمحے کیلئے اس کا دل پھر دکھ سے بھر گیا، مگر اس بار اس غم نے اسے توڑا نہیں۔ اس نے ایک پرانا مگر گرم لباس نکالا اور بچے کو پہنا دیا۔ پھر اس عورت کو کھانے کیلئے روٹی اور کچھ گرم سوپ دیا۔ عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن
’’آپ نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ‘‘
مارٹن نے آہستہ سے کہا، ’’یہ احسان نہیں ہے۔ اگر میرا بچہ آج زندہ ہوتا تو شاید میں بھی یہی چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے۔ ‘‘ عورت نے بچے کو سینے سے لگایا اور خاموشی سے رخصت ہو گئی۔
شام ہونے لگی۔ مارٹن ابھی دکان بند کرنے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر کھڑکی کے قریب پڑی۔ وہاں ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں سیبوں کی ایک ٹوکری تھی۔ ایک چھوٹا لڑکا اس کے قریب منڈلا رہا تھا اور بار بار ٹوکری کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بوڑھی عورت کسی کام میں مصروف ہوئی تو لڑکے نے جلدی سے ایک سیب اٹھا لیا۔ مگر عورت نے اسے دیکھ لیا۔ وہ غصے میں بچے کو پکڑنے ہی والی تھی کہ مارٹن فوراً باہر نکل آیا۔
’’اسے چھوڑ دو۔ ‘‘ عورت نے کہا، ’’اس نے چوری کی ہے۔ ‘‘ مارٹن نے بچے کی طرف دیکھا۔
وہ خوف سے کانپ رہا تھا۔
’’اس نے غلط کیا ہے، ‘‘ مارٹن نے نرمی سے کہا، ’’لیکن اسے مارنے سے کیا حاصل ہوگا؟‘‘
پھر اس نے لڑکے کی طرف دیکھا۔ ’’اگر تمہیں سیب چاہئے تھا تو مانگ سکتے تھے۔ چوری کرنا اچھی بات نہیں۔ اب اپنی غلطی تسلیم کرو اور معافی مانگو۔ ‘‘
لڑکے نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ ’’معاف کر دو۔ ‘‘ بوڑھی عورت کا غصہ کچھ کم ہوا۔ مارٹن نے اس کیلئے ٹوکری اٹھا لی اور بچے کو ایک سیب دے دیا۔ تینوں آگے بڑھ گئے۔ مارٹن کافی دیر تک انہیں دیکھتا رہا۔ اچانک اسے اپنا خواب یاد آیا۔ ’’میں آؤں گا...‘‘
وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ ’’کیا یہی وہ لوگ تھے جن کے آنے کا وعدہ کیا گیا تھا؟‘‘ اسی لمحے اس کے دل میں ایک عجیب سی روشنی پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا کہ شاید خدا کسی ایک شخص کی صورت میں اس کے دروازے پر آنے والا نہیں تھا۔ شاید وہ ان تمام لوگوں میں موجود تھا جنہیں اس نے آج دیکھا، جنہیں اس نے معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا تھا، اور جن کی مدد کرنے کا موقع اسے ملا تھا۔ مارٹن نے دوبارہ انجیل کھولی۔
اس نے وہ عبارت پڑھی جس میں بتایا گیا تھا کہ جو بھلائی انسان خدا کی مخلوق میں سے کسی چھوٹے سے شخص کے ساتھ کرتا ہے، وہ دراصل خدا ہی کے ساتھ کرتا ہے۔ اب اسے اپنے خواب کا مطلب سمجھ آ گیا تھا۔ وہ شخص جس کا انتظار وہ صبح سے کر رہا تھا، کسی ایک شکل میں نہیں آیا تھا۔ خدا ان سب کے ذریعے اس کے پاس آیا تھا۔ بوڑھا سپاہی، غریب ماں اور اس کا بچہ، وہ بھوکا لڑکا، اور ہر وہ شخص جسے اس نے محبت، رحم یا مدد کی ضرورت میں دیکھا تھا۔
مارٹن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ لیکن یہ وہ آنسو نہیں تھے جو پہلے اس کے دل کے غم سے نکلتے تھے۔ یہ شکرگزاری کے آنسو تھے۔ اس رات جب وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں لوٹا تو پہلی بار اسے گھر خالی محسوس نہیں ہوا۔ اس کا بیٹا واپس نہیں آیا تھا۔ اس کی بیوی بھی واپس نہیں آ سکتی تھی۔ مگر مارٹن اب سمجھ چکا تھا کہ محبت صرف ان لوگوں تک محدود نہیں جو ہمارے اپنے ہیں۔ انسان جب دوسروں کے دکھ کو اپنا سمجھ لیتا ہے تو اس کا دل تنہائی سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اس نے چراغ کے قریب بیٹھ کر انجیل بند کی اور خاموشی سے کہا، ’’اب میں سمجھ گیا ہوں۔ جہاں محبت ہے، وہاں خدا بھی ہے۔ ‘‘ اور اس دن کے بعد مارٹن نے اپنی زندگی اسی یقین کے ساتھ گزارنی شروع کر دی۔