آج ورلڈ اسپیرو ڈے منایا جارہا ہے جبکہ ۲۲؍ اور ۲۳؍ مارچ کو دنیا بالترتیب ورلڈ واٹر ڈے اور ورلڈ میٹریولوجیکل ڈے منائیگی، یہ دن ان مسائل کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں جن سے دنیا نبرد آزما ہے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 5:53 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
آج ورلڈ اسپیرو ڈے منایا جارہا ہے جبکہ ۲۲؍ اور ۲۳؍ مارچ کو دنیا بالترتیب ورلڈ واٹر ڈے اور ورلڈ میٹریولوجیکل ڈے منائیگی، یہ دن ان مسائل کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہیں جن سے دنیا نبرد آزما ہے۔
20 March
World Sparrow Day
چڑیوں کاعالمی دن
عالمی یومِ چڑیاں ہر سال۲۰؍ مارچ کو منایا جاتا ہے تاکہ گھریلو چڑیا کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے بارے میں آگاہی دی جا سکے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور شہری ترقی کی وجہ سے چڑیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس موقع پر چڑیوں کیلئے محفوظ ماحول فراہم کرنے اور ان کی حفاظت کی ترغیب دی جاتی ہے۔ یہ دن پہلی مرتبہ ۲۰۱۰ء میں منایا گیا تھا۔
چڑیوں کا عالمی دن، دلچسپ حقائق
چڑیوں کاعالمی دن ہمیں پرندوں کی اہمیت اور ان کے تحفظ کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ درخت لگائیں، پانی اور دانہ فراہم کریں اور ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنائیں۔ اس کے علاوہ ہمیں شکار سے گریز کرنا چاہیے اور لوگوں میں آگاہی پھیلانی چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر چڑیوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ذیل میں پڑھئے چڑیوں کے متعلق دلچسپ حقائق:
چڑیوں کی یادداشت اچھی ہوتی ہے اور یہ خوراک کے مقامات کو یاد رکھ سکتی ہیں۔
چڑیاں آپس میں مختلف آوازوں کے ذریعے بات چیت کرتی ہیں۔
دنیا بھر میں چڑیوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جو مختلف رنگوں اور عادات کی حامل ہوتی ہیں۔
جدید شہری زندگی، موبائل ٹاورز، اور آلودگی کی وجہ سے ان کی آبادی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
یہ فصلوں کیلئے نقصان دہ کیڑوں کو کھا کر ماحول کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔
چڑیوں کی موجودگی کسی علاقے کے صحتمند ماحول کی نشاندہی کرتی ہے۔
چڑیوں کی اوسط عمر۳؍ سے۵؍ سال ہوتی ہے (اگر محفوظ ماحول ہو تو زیادہ بھی ہو سکتی ہے)
چڑیا انسانی بستیوں کے ساتھ ہزاروں سال سے رہ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ۲۰؍ میں انڈین ٹیم کی حالیہ جیت؛ طلبہ کیلئے یہ کیوں اہم ہے؟
22 March
World Water Day
عالمی یوم آب
عالمی یومِ آب ہر سال۲۲؍ مارچ کو منایا جاتا ہے تاکہ پانی کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے بارے میں شعور اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف پانی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس کی کمی دنیا بھر میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس موقع پر لوگوں کو پانی کے ضیاع سے بچنے اور اس کے درست استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ۲۲؍ مارچ ۱۹۹۳ء کو پہلی مرتبہ یہ دن منایا گیا تھا۔
عالمی یوم آب، دلچسپ حقائق
عالمی یومِ آب ہمیں پانی کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ پانی کا ضیاع روکیں، نلکوں کو بے وجہ کھلا نہ چھوڑیں اور بارش کے پانی کو محفوظ کریں۔ گھروں اور کھیتوں میں پانی کا محتاط استعمال کریں اور آلودگی سے بچائیں۔ اگر ہم آج پانی کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلوں کیلئے صاف پانی یقینی بنا سکتے ہیں۔ پڑھئے پانی کے متعلق دلچسپ حقائق:
دنیا میں تقریباً ۲؍ارب افراد کو صاف پینے کا پانی دستیاب نہیں۔
دنیا کے زیادہ تر میٹھے پانی کا ذخیرہ گلیشیئرز (برفانی تودوں ) میں موجود ہے۔
عالمی سطح پر پانی کا تقریباً ۷۰؍حصہ زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔
ایک عام انسان روزانہ ۵۰؍ تا ۱۰۰؍لیٹر پانی استعمال کرتا ہے (پینے، نہانے، صفائی وغیرہ میں )
آلودہ پانی سے ہونے والی بیماریوں کے باعث ہر سال لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔
دنیا میں ہر سال ہونے والی بارش کا بڑا حصہ سمندروں میں واپس چلا جاتا ہے۔
ایک ٹپکتا ہوا نل روزانہ ۲۰؍لیٹر تک پانی ضائع کر سکتا ہے۔
ایک کلو چاول پیدا کرنے کیلئےتقریباً۲۵۰۰؍ لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء: یہ سمٹ طلبہ کو ۲۵؍ باتیں سکھاتا ہے ، جانئے وہ کیا ہیں؟
23 March
World Meteorological Day
عالمی یوم موسمیات
عالمی یومِ موسمیات ہر سال ۲۳؍مارچ کو منایا جاتا ہے تاکہ موسم اور آب و ہوا کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات اور موسم کی پیشگوئی کے کردار کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔ اس موقع پر ’ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن‘کی خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ یہ دن پہلی مرتبہ ۲۳؍ مارچ۱۹۶۱ء کو دنیا بھر میں منایا گیا تھا۔
عالمی یوم موسمیات، دلچسپ حقائق
عالمی یومِ موسمیات کا مقصد موسم اور ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس دن ہمیں قدرتی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے شعور پیدا کرنا چاہئے۔ ہمیں درخت لگانے، پانی کی بچت کرنے اور آلودگی کو کم کرنے جیسے اقدامات اختیار کرنے چاہئیں۔ اس طرح ہم اپنے ماحول کو محفوظ بنا کرایک بہتر دنیا قائم کر سکتے ہیں۔ موسم کے متعلق پڑھئے دلچسپ حقائق:
دنیا بھر میں موسم کی معلومات جمع کرنے کیلئے ہزاروں موسمیاتی اسٹیشنز کام کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ درجہ حرارت ڈیتھ ویلی( Death Valley) میں ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ سب سے کم درجہ حرارت(منفی ۸۹ء۲؍ ڈگری سلیس) انٹارکٹیکا میں نوٹ کیا گیا۔
بادلوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں جیسے سرس (Cirrus)، کیومولس (Cumulus) اور اسٹریٹس (Stratus)، جو موسم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بجلی ایک سیکنڈ کے اندر زمین اور آسمان کے درمیان ہزاروں ڈگری حرارت پیدا کرتی ہے۔
موسم کی پیشگوئی اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے پہلے سے زیادہ درست ہو گئی ہے۔
موسمیات زراعت، ہوابازی اور سمندری سفر کیلئے نہایت اہم ہے۔