• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء: یہ سمٹ طلبہ کو ۲۵؍ باتیں سکھاتا ہے ، جانئے وہ کیا ہیں؟

Updated: February 27, 2026, 11:23 AM IST | Afzal Usmani | Mumbai

دہلی میں ۶؍ دنوں تک منعقدہ اس سمٹ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی اہم شخصیات نے مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی وسیع ہوتی دنیا کے بارے میں بتایا، طلبہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس پر غور کریں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان میں ہوا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء، مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ یہ سمٹ نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہوئی جس میں حکومتوں، عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ماہرینِ تعلیم، محققین اور صنعت سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال، عالمی تعاون اور انسانی ترقی پر اس کے اثرات پر گفتگو کرنا تھا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کو سماجی ترقی، معاشی بہتری اور ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے استعمال کیا جائے جبکہ ترقی پذیر ممالک کو بھی اس ٹیکنالوجی کے فوائد تک مساوی رسائی دی جائے۔ یہ اجلاس عالمی سطح پر ہونے والی اے آئی سمٹس کے سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے اور اس کے ذریعے مستقبل میں مشترکہ پالیسی سازی، تحقیق اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دینے کی توقع کی جا رہی ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی سازی، تعلیم اور صنعت کے درمیان مضبوط اشتراک قائم کیا جائے تو مصنوعی ذہانت نہ صرف معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہے بلکہ صحت، زراعت، تعلیم اور گورننس جیسے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری لا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مئی ۲۰۲۶ء سے فروری ۲۰۲۷ء تک: نمایاں کامیابی کیلئے اسمارٹ روڈ میپ

 اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء طلبہ کیلئے اہم کیوں ہے؟

اے آئی امپیکٹ سمٹ طلبہ کیلئے اس لئے اہم ہے کہ اس کے ذریعے انہیں مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس قسم کی عالمی کانفرنسوں میں ماہرین نئی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کے رجحانات پر گفتگو کرتے ہیں۔ جب طلبہ ان مباحث کو پڑھتے یا سنتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں تعلیم، ملازمت اور کاروبار کس طرح تبدیل ہونے والے ہیں۔ اس سمٹ نے خاص طور پر اس بات کو واضح کیا کہ اے آئی صرف آئی ٹی کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ طب، زراعت، تعلیم اور تجارت سمیت تقریباً ہر میدان میں استعمال ہو رہی ہے۔

ایسی عالمی سرگرمیاں طلبہ کو مستقبل کے پیشوں کے بارے میں رہنمائی دیتی ہیں۔ اس سمٹ میں ماہرین نے ڈیٹا سائنس، مشین لرننگ، روبوٹکس اور اے آئی ریسرچ جیسے شعبوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس سے نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ انہیں اپنی تعلیم اور مہارتوں کو کس سمت میں لے جانا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: نہم کے طلبہ: تیاری کیلئے آپ کے پاس ۳۶۵؍ نہیں صرف ۱۸۵؍ دن ہیں

(۱)مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمجھ

اے آئی کا بنیادی کانسپٹ سمجھ لیا جائے جس میں مشین لرننگ، ڈیٹا، الگورتھم اور آٹومیشن شامل ہیں۔ بنیاد توانا ہوگئی تو آئندہ کی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی سہل ہوگی۔ 

(۲)ٹیکنالوجی کے ساتھ سیکھنے کا نیا انداز

اے آئی نے طریقۂ تعلیم بدل دیا ہے۔ طلبہ سیکھیں کہ کس طرح آن لائن ٹولز، اے آئی اسسٹنٹ اور ڈجیٹل پلیٹ فارمز سے تعلیم کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

(۳)مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت

مصنوعی ذہانت کا اصل مقصد مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرنا ہے۔ طلبہ کو یہ سیکھنا چاہئے کہ کسی مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر اس کا حل کیسے نکالا جائے۔

(۴)تنقیدی سوچ کی اہمیت

اے آئی کے دور میں صرف معلومات کافی نہیں بلکہ تنقیدی سوچ ضروری ہے۔ طلبہ کو ہر معلومات کو پرکھنے اور اس کی درستگی جانچنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔

(۵) ڈیٹا کی اہمیت کو سمجھنا

آج کی دنیا میں ڈیٹا بہت قیمتی ہے۔ طلبہ کو یہ سیکھنا چاہئے کہ ڈیٹا کیسے جمع کیا جاتا ہے، اس کا تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے اور اس سے فیصلے کیسے بہتر بنائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان ؛ پڑھائی کے ساتھ صحت بھی اہم، طلبہ کا معمول کیا ہو؟

(۶) اخلاقیات اور ذمہ داری

مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اخلاقیات بہت اہم ہیں۔ طلبہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ٹیکنالوجی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا کیوں ضروری ہے۔

(۷)نئی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت

مستقبل کی ملازمتوں کیلئے نئی مہارتیں اہم ہوں گی جیسے پروگرامنگ، ڈیٹا کا تجزیہ اور ڈجیٹل کمیونی کیشن۔

(۸) تخلیقی صلاحیت کی طاقت

طلبہ کو لکھنے، ڈیزائن بنانے اور نئے خیالات پیدا کرنے کی مشق کرنی چاہئے۔

(۹) انسان اور مشین کا تعاون

اے آئی انسان کی جگہ لینے کے بجائے اس کی مدد کرنے کیلئے ہے۔ طلبہ کو یہ سیکھنا چاہئے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مل کر بہتر نتائج کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔

(۱۰)مستقبل کی ملازمتوں کی تیاری

بہت سی نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: بورڈ اِگزام آگئے، کیا آپ امتحان کو شکست دینے کیلئے تیار ہیں؟

(۱۱) زندگی بھر سیکھنے کا رجحان

ٹیکنالوجی تیز رفتار ہے، اسلئے مسلسل سیکھنا ضروری ہے۔ تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود نہیں رکھنا چاہئے۔

(۱۲)عالمی مقابلے کا شعور

اے آئی نے دنیا کو ایک عالمی میدان بنا دیا ہے۔ طلبہ کو بین الاقوامی معیار کی مہارتیں حاصل کرنی چاہئیں۔

(۱۳)تحقیق اور جدت

نئے خیالات اور تحقیق ہی ترقی کی بنیاد ہیں۔ طلبہ سوال کریں اور ایجاد کی حوصلہ افزائی کریں۔

(۱۴) ٹیم ورک کی اہمیت

بڑی ٹیکنالوجی اکثر ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ طلبہ کوٹیم ورک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے مل کر کام کرنے کی ابھی سے عادت ڈالنی چاہئے۔

(۱۵) مواصلاتی مہارت

اپنے خیالات کو واضح انداز میں بیان کرنا ایک اہم مہارت ہے۔ چاہے وہ پریزنٹیشن ہو، تحریر ہو یا گفتگو۔

یہ بھی پڑھئے: مشکل مضامین، آسان مضامین؛ اعادہ کیلئے آزمائیں مختلف تکنیک

(۱۶) ڈجیٹل ذمہ داری

آن لائن دنیا میں ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔ طلبہ کو پرائیویسی اورسیکوریٹی کے اصولوں کو سمجھنا چاہئے۔

(۱۷)ناکامی سے سیکھنا

ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں ناکامی عام بات ہے۔ طلبہ کو ناکامی کو سیکھنے کا موقع سمجھنا چاہئے۔

(۱۸)وقت کے مؤثر استعمال کی مہارت

اے آئی ٹولز وقت بچاتے ہیں۔ طلبہ سیکھیں کہ پڑھائی اور کام کو بہتر طریقے سے منظم کیسے کریں۔

(۱۹)مختلف شعبوں کا ملاپ

سائنس، ٹیکنالوجی، بزنس اور آرٹس، اب جڑ گئے ہیں۔ طلبہ کو بین المضامینی علم حاصل کرنا چاہئے۔

(۲۰) قیادت کی صلاحیت

ٹیکنالوجی کے دور میں تبدیلی سمجھنے والے لیڈروں کی ضرورت ہے۔ قائدانہ خصوصیات کے حامل بنیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب امتحان سر پر ہے، الرٹ ہوجایئے، اِن باتوں سے گریز ضروری

(۲۱)سماجی مسائل کا حل

اے آئی سماجی مسائل حل کرنے کیلئے بھی استعمال ہو سکتا ہے، جیسے صحت، تعلیم اور ماحولیات۔

(۲۲)خود اعتمادی پر اصرار

نئی ٹیکنالوجی سیکھتے وقت خود اعتمادی بہت ضروری ہے۔ خوداعتمادی کتنی بڑی دولت ہے آپ جانتے ہیں اس لئے اپنے خیالات پر یقین رکھنا چاہئے۔

(۲۳) تجربہ کرنے کی عادت

نئی چیزیں آزمانا ترقی کا راستہ ہے۔ طلبہ کو مختلف ٹولز اور آئیڈیاز کے ساتھ تجربہ کرنا چاہئے۔

(۲۴) عالمی تعاون

دنیا بھر کے لوگ مل کر بڑی ٹیکنالوجی بنا رہے ہیں۔ طلبہ کو بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔

(۲۵) انسانیت کو مرکز میں رکھنا

ٹیکنالوجی انسانوں کی خدمت کیلئے ہونی چاہئے۔ طلبہ کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ ان کی مہارتیں معاشرے کو کیسے فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: آج ہی اپنا جائزہ لیجئے کہ آپ اِن زمروں میں سے کس میں ہیں!

سمٹ میں نظر آنے والی اے آئی سے لیس دلچسپ ایجادات

*سروام کازے اے آئی اسمارٹ گلاسیز: یہ چشمے صارف کی نظر کی چیزوں کو سمجھ کر آواز اور بصری رہنمائی فراہم سکتے ہیں، متعدد زبانوں میں براہِ راست انٹرایکشن کے ساتھ۔
*SVAN-M2روبوٹ ڈاگ: ایکس ٹیرا روبوٹکس اور آئی آئی ٹی کانپور کی ٹیم نے’’ SVAN-M2‘‘ نامی ڈاگ جیسے روبوٹ کا مظاہرہ کیا جو’’ LiDAR‘‘ سینسرز سے تھری ڈی ماپ کر کے خطروں کی نگرانی، تھرمل امیجنگ، اور سیکوریٹی مشنز میں مدد کر سکتا ہے مثلاً گوداموں اور صنعتی علاقوں میں جانچ کیلئے۔
*اے آئی پاور ٹریفک سسٹم: ’پروجیکٹ کے‘ نے اے آئی سپورٹڈ ٹریفک سسٹم پیش کیا جو کیمروں اور سینسرز کی مدد سے ایمبولینس جیسی اہم گاڑیوں کو ترجیح دے کر ٹریفک ہموار کرتا ہے۔
*اے آئی سی اے ڈی(AI CAD ) کو پائلٹ: ’پروٹین ایکس‘ نامی اے آئی ٹول نے ٹیکسٹ سے تھری ڈی ماڈل بنانے کا مظاہرہ کیا ۔ انجینئرنگ ڈیزائن پروسیس میں وقت اور محنت کو کم کرتا ہے۔ *SATHEEتعلیمی اے آئی پلیٹ فارم:آئی آئی ٹی کانپور کی طرف سے’’Self-Assessment, Test and Help for Entrance Exams‘‘کو اپ گریڈ کر کے ایک اے آئی بیسڈ لرننگ سسٹم بنایا گیا جس میں اے آئی ٹیوٹر، ٹیسٹ، بصری حل، اور مشیر سہولتیں شامل ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK